میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

پیر، 2 مئی، 2016

شیطان نامہ : قسط نمبر 17 - مما نعت خروج

قسط نمبر 17 .اہل علم کے لئے تحفه. رسول الله کی زبان سے نکلے سچے موتی.
اطاعت امیر اور مما نعت خروج.

 شیطان:
رسول خدا نے جس مذہبی اور سیاسی وحدت (امت مسلمہ ) کی بنیاد ڈالی اس کی تعمیر میں اخوت ، مساوات اور یک جہتی کی تعلیم عملی طور پر ہمیشہ کارفرما رہی ، مدینہ میں آپ کی تشریف آوری کے بعد عربوں کی صدیوں کی قبائلی و طبقاتی کشمکش کا دس برس کی قلیل مدت میں خاتمہ ہو گیا- نسلی اور خاندانی فضیلت اور امتیازات کے با وجود تمام امت ایک ملت اور ایک جنس بن کر رہ گئے.
شوره فی الامر سے مملکت اسلامیہ کی بنیادیں استوار ہوئیں الله اور اس کے رسول کی اطاعت کے ساتھ ساتھ امیر (اولی الامر) کی اطاعت واجب کی گئی
اے ایمان والو اطاعت کرو الله کی اور اس کے رسول کی اور جو تمہارا امیر (اولی الامر ہو اس کی .(القران.)
امیر کے لئے نسل ، رنگ یا قبیلہ و خاندان کی کوئی قید نہ تھی جس کسی فرد ملت پر اہل حل و عقد کا اتفاق رائے ہو کر بیعت عام ہو جاۓ خواہ نسل ، رنگ اور حیثیت کے اعتبار سے حبشی غلام ، بد ہیت ، سر گنجا ہی کیوں نہ ہو اسکی اطاعت کرنا اور حکم ماننا واجب اور لازم کیا گیا .صیح بخاری میں انحضرت کا حکم موجود ہے 

حضرت انس بن مالک سے روایت ہے کہ رسول الله نے فرمایا ، حکم مانو اور اطاعت کرو اگر تم پر ایک حبشی غلام جس کا سر گنجا ہو حاکم مقرر ہو جاۓ.

مسلم:
حضرت ابو زر غفاری سے بھی صیح مسلم میں یہی حدیث منقول ہے جب مفسدین نے حضرت عثمان کے خلاف فتنہ برپا کیا تو آپ نے یہی حدیث لوگوں کو سنا کر حضرت عثمان کی اطاعت اپنے اوپر واجب کر لی .

شارح علیہ السلام نے امت کو فساد سے محفوظ رکھنے اور سیاسی نظام کو انتشار سے بچانے کے لئے حاکم وقت کے خلاف خروج اور مخالفت کی سختی سے ممانعت کی ہے.

 بخاری:
حضرت ابن عباس روایت کرتے ہیں کہ رسول الله نے ارشاد فرمایا جو شخص اپنے امیر میں برائی دیکھے اور اس سے ناگواری محسوس کرے تو اسے صبر سے کام لینا چاہئے کیونکہ جو شخص بالشت بھر بھی جماعت سے باہر ہوا اور مر گیا تو وہ جاہلیت کی موت مرا.( صیح بخاری جلد 2 جز (29 ))

حضرت عرفہ سے یہ قول منقول ہے کہ میں نے رسول اللہ سے سنا کہ عنقریب فتنے برپا ہوں گے اگر کوئی شخص اس امت کے سیاسی نظام میں اختلال پیدا کرنا چاہے تو تلوار سے اسکی گردن اڑا دو خواہ وہ کوئی ہو،

حضرت شاہ ولی الله محدث دہلوی ان احکام شریعت کو احادیث کی روشنی میں ان الفاظ میں بیان کرتے ہیں کہ

جب کسی شخص کے لئے بیعت منعقد ہو جاۓ اور اسکی حکومت قائم ہو جاۓ پھر اگر کوئی دوسرا شخص اس پر خروج کرے اور اس سے قتال کرے تو چاہے کے اس دوسرے کو قتل کر دو خواہ وو افضل ہو یا مساوی یا کمتر .
حضرت ابو زر غفاری سے روایت ہے کہ رسول الله نے ارشاد فرمایا اگر دو خلفا کے لئے بیعت ہو جاۓ تو ان میں سے آخر شخص کو قتل کر دو (اخرج البغوی )

حضرت ابی ہریرہ سے مروی حدیث کا بھی یہی مضمون ہے کہ اگر کسی شخص کے لئے بیعت ہو جاۓ اور بعد میں دوسرا شخص بیعت لینے کے لئے کھڑا ہو تو اس اول شخص کی بیعت کی پاس داری کرو.

الغرض شارح علیہ السلام کے ارشادات سے بخوبی واضح ہے کہ جب کسی شخص کو امت اپنا امیر اور حاکم تسلیم کر لے یعنی بھاری اکثریت کا تعاون اس کو حاصل ہو جاۓ تو اس کی اطاعت واجب ہو جاتی ہے سوائے اس بات کے کہ وہ کفر کرے یا اسکا حکم الله کے حکم کے خلاف جاتا ہو.

صحابی رسول حضرت جنادہ کہتے ہیں کہ ہم جلیل القدر صحابی حضرت عبادہ بن الصامت کی خدمت میں حاضر ہوئے وہ اس زمانہ میں بیمار تھے ہم نے عرض کیا کوئی ایسی حدیث بیان فرمائیں جو آپ نے رسول الله سے سنی ہو تا کہ سب کو نفح ہو تو انہوں نے فرمایا کہ ہم کو رسول الله نے طلب کیا اور ہم سے جن امور پر بیعت لی اس میں امیر کی بات سننا اور اس کی اطاعت کرنا بھی تھا اگرچہ وہ ہم کو پسند ہو یا نا پسند ، اس پر عمل مشکل ہو یا آسان اور اس کے لئے ہمیں کچھ قربانی ہی کیوں نہ کرنی پڑے.اور یہ کہ حکومت کے بارے میں ہم بر سر اقتدار شخص سے جھگڑا نہ کریں جب تک کہ اس سے کھلا کھلا کفر ظاہر نہ ہو جو اس کے خلاف خروج کو جائز کر دے.اور الله کی طرف سے اس بارے میں کھلی دلیل موجود ہو

شیطان:
ہندوستان اور پاکستان سے چند پیغامات موصول ہوے جو درد مند مسلمانوں کی طرف سے ہیں ان لوگوں نے مجھے بتایا کہ ان ملکوں کے لوگ اپنے اماموں اور پیشواؤں کی بات ہی سنتے ہیں اور واضح احادیث کو بھی اہمیت نہیں دیتے اسی لئے میری پوسٹ کے پہلے حصے پر جو مستند احادیث پر مشتمل تھی ان لوگوں کے تنقید کرنے پر مجھے حیرانی نہیں ہونی چاہئے کیونکہ اسلام اس علاقے ہند و پاکستان میں ڈائرکٹ نہیں آیا یہ لوگ صرف نماز پڑتے ہیں اس کے علاوہ اسلام کیا ہے یہ لوگ بلکل نہیں جانتے بس ان کے مولوی اور امام اور پیشواہ اور پیر جو کچھ کہتے ہیں یہ لوگ آنکھیں بند کر کے اس پر عمل کرتے ہیں .

میں ان تمام لوگوں کا شکر گزار ھوں کھ جن لوگوں نے یہ قیمتی اطلاع مجھ کہ دی لیہذا ان کے اماموں کے ارشادات پیش کر رھا ھوں :

امام ابن تیمیہ:

مسلمانوں کی عظیم ترین اکثریت امام ابو حنفیہ کے مذھب کی پیرو کار رھی ھے اور ان کا موقف اس بارے میں سب سے زیادہ سخت ھے فرماتے ھیں کھ ھم حاکماں وقت کے خلاف خروج کو جائز نھیں سمھجتے اگرچہ وہ ظلم کریں۔ امام مالک امام احمد بن حنبل اور امام شافعی کا بھی یہی مسلک تھا جو ان بزرگواروں کے عمل سے بخوبی واضح ھے اور اسے وضعی روائتوں سے مسخ نھیں کیا جا سکتا امام ابن تیمیہ نے اس مسلک کی تشر یح کرتے ھوے فرمایا ھے کھ اھل سنت حکام وقت کے خلاف خروج کرنے اور تلوار اٹھانے کو جائز نھیں سمجھتے اگرچہ وہ ظلم ھی کریں اور رسول خدا کی احادیث اسی پر دلالت کرتی ھیں کیو ں کھ حکام وقت کے خلاف
جنگ کرنے کا فساد اس فتنے اور فساد سے کہیں بڑھ کے ھے جو بغیر قتال کے ان کے ظلم کی وجہ سے پیدا ھو ۔(جلد 3 صفحہ 87 منھاج السنہ النبویہ -
امام ابن تیمیہ )

الابن الجوزی :
امام احمد بن حنبل امام شافعی کے شاگرد تھے اور وہ امام مالک کے امام احمد خلفا کی اطاعت اور ان کے خلاف خروج کی ممانعت کےبارے میں فرماتے ھیں کہ امام وقت اور خلیفہ کی اطاعت خواہ وہ فاسق و فاجر ھو یا نیک و کار واجب ھے ۔جب وہ مسند خلافت پر اس طرح متمکن ھوا ھو کچھ لوگ اس کی امامت پر جمع ھو گے ھوں اور اس پر راضی ھوں یا وہ بزور شمشیر خلیفہ بن بیٹھا ہو اور لوگ اسے امیر المومنین کہنے لگے ہوں تو کسی شخص کے لئے یہ جائز نہیں کہ وہ ان آئمہ اور خلفا پر لعن کرے یا اس بارے میں مناژعیت کرے اور جس نے امام مسلمین کے خلاف خروج کیا جس پر لوگ جمع ہوں اور جس کی خلافت ماننے لگے ہوں خواہ وہ رضا مندی سے ہو یا جبر سے . تو اس شخص نے مسلمانوں کی قوت کو پارہ پارہ کیا اور رسول الله کے حکم کے خلاف کیا اور اگر اس خروج کی حالت میں اس کی موت ہوئی تو یہ شخص جاہلیت کی موت مرا.
(حیات احمد بن حنبل صفحہ 256 بحوالہ المناقب الابن الجوزی صفہ 176 .)


 شیطان: حضرت حسین کو یہ سعادت حاصل ہے کہ بلآخر آپ نے رجوع کیا اور خروج من الجماعت کے شر سے اپنے کو بچا لیا-



خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔