میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

پیر, مئی 2, 2016

شیطان نامہ - قسط نمبر 18 - خلافت کے امیدوار

خلافت کے امیدوار .
شیطان:
مورخین نے پانچ حضرات کے نام اس سلسلہ میں گنواۓ ہیں جو امیر المومنین حضرت معاویہ کی وفات کے بعد سیاسی اقتدار حاصل کرنے کے خوائش مند تھے
حضرت عبد الرحمن بن ابو بکر .
حضرت عبدللہ بن عمر الفاروق
حضرت سعید بن عثمان ذی النورین ( اِن کا نام کسی گمنام کتاب میں شائد لکھا ہوا ہے- مہاجر زادہ )
حضرت حسین بن علی
حضرت عبدللہ بن الزبیر .حواری رسول الله .

ان تمام حضرات میں سے

عبد الرحمن بن ابو بکر تو حضرت معاویہ کی وفات سے سات سال پہلے ہجری 53 میں وفات پا چکے تھے تو ان کا ذکر خلافت کے امید وار کے طور پر لینا بلکل جھوٹ ہے .

دوسرے بزرگ عبدللہ بن عمر سیاست سے ہمیشہ الگ تھلگ رہے حضرت عثمان کی شہادت کے بعد جو فتنہ فساد امت میں پیدا ہوا اور جنگ و جدل تک نوبت پہنچی (جسکا ذکر تفصیل کے ساتھ پچھلی پوسٹوں میں کیا جا چکا ہے.)حضرت ابن عمر متحارب جماعتوں سے ہمیشہ الگ تھلگ رہے تحکیم کے وقت ان کا نام بیشک لیا گیا کہ حضرت علی کی بجاۓ وہ خلافت اپنے ہاتھ میں لے لیں لیکن یہ تجویز نہ تو بروئے کار آئی اور نہ حضرت ابن عمر کے عمل سے یہ نتیجہ نکالا جا سکتا ہے کہ ان کو خلافت کی خواہش کسی وقت میں یا کسی درجہ میں بھی رہی ہو.امیر یزید کی ولایت عہد انہوں نے برضا و رغبت کی اور اس پر قائم رہے،پچھلی پوسٹ میں اس کا ذکر موجود ہے.اور امید واران خلافت میں ان کا نام لینا بلکل غلط ہے-

تیسرے صاحب حضرت عثمان ذی النورین کے صاحب زادے سعید ہیں جن کے متعلق بعض مورخین خاص طور پر شیعہ مورخ طبری اور الامامہ و السیاسہ کے غالی مولف نے لکھا ہے کہ انہوں نے یزید کی ولی عہدی کے بارے میں امیر المومنین حضرت معاویہ سے گفتگو کی کہ میرا باپ یزید کے باپ سے بہتر میری ماں یزید کی ماں سے اور میں خود یزید سے بہتر ہوں اور نوٹ کریں یہ بین ہی وہی الفاظ ہیں جو ان راویوں نے حضرت حسین کی زبان سے ادا کرائے ہیں جن کا ذکر امیر یزید کے اشعار میں بھی ہے جبکہ حقیقت یہ ہے حضرت سعید بن عثمان حضرت معاویہ کے بھروسے کے کار گزار اور عامل تھے اور بڑے مجاہد تھے نہ وہ خلافت کے امید وار تھے نہ ان کی جانب سے کسی اقدام کا ظہور اس جانب ہوا.

باقی بچے دو حضرات یعنی حضرت حسین اور حضرت ابن زبیر تو ان دونوں حضرت کے اقدام حصول خلافت کے مختصر حالات بیان کرنا کافی ہے.


 ٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
نوٹ: وکی پیڈیا میں کو گی مکمل معلومات نہیں دی گئی ۔ یہاں اولادِ عثمان بن عفان کے بارے میں ذکر ہے ۔ مکمل نہیں ۔


اولادِ عثمان بن عفان کی بابت جب مہاجر زادہ نے ویب سے تلاش کی تو یہ معلومات حاصل ہوئیں ۔ 


فقد ولد لعثمان من الذكور عبد الله، وأمه رقية بنت الرسول صلى الله عليه وسلم،
ثم ولد له عبد الله الأصغر من فاختة بنت غزوان،
ثم عمرو وخالد وأبان وعمر ومريم، وأمهم أم عمرو بنت جندب الأزدية،
ثم الوليد وسعيد وأم سعيد، وأمهم فاطمة بنت الوليد بن عبد شمس، ثم عبد الملك وأمه أم البنين بنت عيينة بن حصن الفزاري،
ثم عائشة وأم أبان وأم عمرو وأمهن رملة بنت شيبة بن ربيعة،
وقيل إن له ولداً اسمه عنبسة، وأمه نائلة بنت الفرافصة الكليبية،
وله بنت أخرى اسمها مريم وأمها نائلة،
وبنت أخرى تسمى أم البنين وأمها أم ولد.
وراجع كتب السيرة والتراجم للتفصيل في أخبارهم.

 

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔