میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

جمعرات، 5 مئی، 2016

شیطان نامہ - قسط نمبر 21 - برادران حسین کا موقف


حضرت شاہ ولی الله محدث دہلوی:
قطع نظر اس حقیقت کے حضرت حسین نے دوسرے صحابہ اور تابعین کی طرح امیر یزید کی ولی عھدی کی بیعت کی تھی یا نہیں یہ حقیقت ثابت ھے کہ ان کے اس اقدام کی تائید میں مدینہ منورہ یا مکہ معظمہ یا حجاز کا ایک شخص بھی سوائے ان کے چند نوجوان عزیزوں کے کسی نے ان کا ساتھ نہ دیا اور ان کے اپنے گھر کی بھی یہ کیفیت تھی کہ حضرت علی کے موجود پندرہ صاحب زادوں کے جو اس زمانہ میں حیات تھے- صرف چار اپنے بھائی کے ساتھ گئے اور گیارہ برادران حسین نے ان کا ساتھ دینے سے انکار کر دیا - حضرت حسین نے اپنے بھائی محمد الخنیفہ جو فرزندان علی میں علم و فضل اور تقوے میں امتیازی شان رکھتے تھے   اور بہادری اور شجاعت میں اپنے والد کے صحیع جانشین تھے اس مہم میں ان کا ساتھ دینے پرب0ت زور دیا یہاں تک کہا کہ اگر خود نہیں ساتھ دیتے تو اپنی اولاد کو اجازت دے دیں کہ میرے ساتھ چلے مگر انھوں نےصاف انکار کر دیا ۔ (صفحہ 165 جلد 8 البدایہ و النہایہ۔)

بلا ذری:
حضرت محمد بن علی ابن الخنیفہ نے بلا تامل یزید کی ولی عہدی اور بھر خلافت کی بیعت کی تھی اور اس بیعت پر اس حد تک قائم رھے کہ مدینہ منورہ میں جب امیر یزید کے خلاف بغاوت کی آگ بھڑکائی گئی - تو انھوں نے سختی سے اس کی مخالفت کی۔ بلا ذری نے باغیوں کے ایک وفد کے مکالمے کو جو حضرت ابن الخنیفہ کا ان سے ھوا ان الفاظ میں بیان کیا ھے۔
باغیوں کے ایک وفد نے عبدللہ ابن مطیح کی سرکردگی میں ابن الخنیفہ سے کہا کہ
"یزید کی بیعت توڑو اور ھمارے ساتھ اس سے لڑنے نکلو"
ابن الخنیفہ نے کہا
"یزید سے کیوں لڑوں؟ اور بیعت کیوں توڑوں؟"

تو وفد نے کہا،
"اس لیے کہ وہ کافروں سے کام کرتا ھے فاسق و فاجر ھے اور شراب پیتا ھے اور دین سے خارج ہو گیا ھے"

ابن الخنیفہ نے کہا۔
"میں اس کے ساتھ رہا ھوں میں نے تو اسے ایسا نہیں پایا!"

تو ارکان وفد نے کہا،
"تو کیا وہ تمھارے سامنے برے کام کرتا؟"

ابن الخنیفہ نے کہا،
" کیا تم خدا سے نہیں ڈرتے اور کیا یزید نے اپنے کرتوتوں سے خود تم کو آگاہ کیا تھا - اگر اس نے یہ برائیاں تمھارے سامنے کی تھیں تو تم بھی اس کے ساتھ شریک رھے ھو گے

اور اگر تمھارے سامنے نہیں کی تھیں تو تم ایسی باتیں کر رھے ھو کہ جس کا تمھیں علم نہیں ھے ۔"
یہ سن کر ارکان وفد ڈر گیے کہ کہیں ابن الخنیفہ کے عدم تعاون سے یزید کے خلاف لوگ شریک جنگ ھونے سے انکار نہ کر دیں۔اس لئے انھوں نے کہا،
"اچھا تو ہم تمھاری بیعت کرتے ھیں اور تمھیں خلیفہ بناتے ھیں اگر تم ابن زبیر کی بیعیت کے لیے تیار نہیں ھو!"

ابن الخنیفہ نے کہا ،
" میں تو لڑوں گا نہیں ۔ نا اپنی خلافت کے لیے نہ کسی اور کی (
خلافت کے لیے) "
(جلد 3 النساب الاشراف ، بلا ذری۔)


ان مکالمات کو دیگر مورخین نے بھی انہی الفاظ میں بیان کیا ہے خاص کر علامہ ابن کثیر نے صفہ 233 جلد 8 اور حضرت شاہ ولی الله محدث دہلوی نے ، فرماتے ہیں کہ ،
" اگر حقیقت کی نگاہ سے دیکھا جاۓ تو فرزندان علی میں ان کا درجہ بہت بلند تھا خود ایک شیعہ مورخ عمدہ الطالب فی النساب آل ابی طالب نے اس کے بارے میں لکھا ہے کہ محمّد بن الخنیفہ علم و زہد اور عبادت و شجاعت میں اپنے زمانہ کی ایک بلند شخصیت تھے اور وہ علی بن ابی طالب کی اولاد میں حسن اور حسین کے بعد سب سے افضل تھے (صفحہ 347 ،طبح اول لکھنو .)


خیر الدین زر کلی:
نے خود ان کا ہی یہ قول اپنی تالیف میں نقل کیا ہے حضرت ابن الحنیفہ فرماتے ہیں کہ حضرت حسین و حسن فرزندان بنت نبی ہونے کی وجہ سے مجھ سے بر تر ہیں مگر میں علم میں دونوں سے بڑھ کے ہوں.(
الاعلام  قاموس التراجم جلد 7 صفہ 182 .)
حضرت حسین کے ایسے بھائی کا امیر یزید سے بیعت کرنا اور با وجود خلافت کی پیشکش کے اپنے موقف سے جنبش نہ کرنا اور حضرت حسین کے بار بار اصرارکے باوجود نہ خود نہ اپنی اولاد کو حسین کے ساتھ جانے دینا ، آخر کس بات کا ثبوت ہے صاف ظاہر ہے کہ وہ بھی دوسرے صحابہ اکرام کی طرح اس خروج کو طلب حکومت و خلافت کا ایسا سیاسی مسلۂ سمجھتے تھے جو احکام شرہ کے اعتبار سے جائز اور مناسب نہ تھا.عمدہ الطالب:
حضرت حسین کے ایک دوسرے بھائی عمر الا طرف بن علی بن ابی طالب تھے کہ جن سے نسل چلی اور ان کی نسل کے بعض افراد ابتداے عہد اسلامی میں علاقہ ملتان پر حاکمانہ اقتدار رکھتے تھے وہ بھی حضرت حسین کے اقدام خروج کے مخالف تھے ان کا ذکر شیعہ مورخ نے ان الفاظ میں کیا ہے کہ
اور عمر نے اپنے بھائی حسین سے اختلاف کیا اور ان کے ساتھ کوفہ کو خروج نہ کیا حالانکہ حسین نے ان کو دعوت دی تھی مگر یہ ان کے ساتھ نہ گئے اور جب ان کو اپنے بھائی حسین کے قتل ہونے کی اطلاح ملی تو فرمایا کہ اگر میں بھی اس لڑائی میں حسین کے ساتھ شریک ہوتا تو مارا جاتا( صفحہ 357 عمدہ الطالب فی النساب آل ابی طالب)





٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

اولاد امام حسن  



عمدۃ الطالب کی روایت کے مطابق امام حسن  کی کل اولاد 18 تھی ،جن میں 12 بیٹے اور 6 بیٹیاں تھیں .ان کے نام اس طرح ہیں 
ابوالحسین زید ، ابو محمد الحسن المثنی  ،الحسین الاثرم ، طلحہ ، اسماعیل ، عبداللہ ، حمزہ ،یعقوب ،
عبدالرحمان ،ابوبکر ،القاسم ، عمر
بیٹیوں کے نام اس طرح ہیں 
ام الحسن رملتہ  ، ام الحسن، فاطمہ ، ام سلمہ ، ام عبداللہ ، رقیہ
(الرغب فی تشجیر عمدہ الطالب ، ص 61)

آج دنیا میں امام حسن  کی اولاد آپ کے دو بیٹوں کے ذریعے سے موجود ہے ،جن کے نام ہیں

ابوالحسین زید

ابو محمد الحسن المثنی  

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔