میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

پیر, مئی 9, 2016

شیطان نامہ - قسط نمبر 22 - اموی خلافت اور بنی ھاشم


ابنِ تیمیہ:
تاریخ شاھد کہ ھجری 40 میں ایک خارجی کے ھاتھوں حضرت علی کے مقتول ھو جانے کے بعد سے بنی ھاشم نے بنی امیہ کی خلافت اور سیاسی قیادت کی خوش دلی کے ساتھ پوری پوری حمایت اور تایئد کی۔
کسی قسم کی کوئی سیاسی نسلی یا خاندانی مخالفت ان دونوں خاندانوں کے درمیاں نہیں آئی۔جنگ جمل اور صفین کی خانہ جنگیاں تو سب جانتے ھیں کہ سبائی گروہ کی ریشہ دوانیوں کا نتیجہ تھیں۔
حضرت علی کے بڑے صاحب زادے حضرت حسن ہمیشہ اپنے والد ماجد اور چھوٹے بھائی حسین کو جدال و قتال کے جھگڑوں میں پڑنے سے روکتے رہے اسی لیے جب حکومت حضرت حسن کے ھاتھ میں آئی تو انھوں نے جنگ ترک کر دی اور اللہ تعالی نے دونوں گروہوں میں ان کے ذریعے صلح کرائی۔ حضرت علی کو بھی آخر وقت میں اس بات کا احساس ھو گیا تھا کہ جنگ ختم کر دینے میں ھی امت کا مفاد اور مصلحت ھے نہ کہ جنگ اور قتال جاری رکھنے میں۔( صفحہ 224۔243 منہاج السنہ ابن تیمیہ۔)
اور رسول اللہ نے اس بات کی پیشین گوئی کی تھی کہ اللہ ان کے ذریعے دو مسامان گروہوں کی صلح کراۓ گا۔ چنانچہ حضرت حسن نے اس بارے میں جو عمل کیا اس کی ہمارے نبی نے تعریف پیشین گوئی کر کے کی۔(صفحہ 242 جلد 2 منہاج السنہ)
حضرت حسن کی یہ صلح ایک گروہ کو جیسا کہ ابتدائی اوراق میں اشارہ کیا گیا ھے نا پسند تھی اس لیے حضرت حسن کو وہ زیادہ پسند نہیں کرتے۔
رسول اللہ کا زمانہ اس بات کا گواہ ھے کہ ہمارے نبی نے اسلامی مملکت کے انتظامی اور سیاسی امور کی انجام دہی کے لیے زیادہ تر بنو امیہ کے افراد کو منتحب کر کے مقرر کیا حضرت ابو سفیان کو آنحضرت صلعم نے، نجران جیسے اہم سرحدی علاقے کا حکمران مقرر کیا اور ان کے بڑے صاحب زادے حضزت یزید کو تیما کا حاکم لگایا اور بہت سے دیگر اموی حضرات کو دوسرے علاقوں میں حاکم لگایا۔ لیکن کسی ھاشمی بزرگ کا نام، حاکم کے طور پر حیات نبوی میں آپ کو نظر نہیں آۓ گا۔حالانکہ حضرت ابو ذر غفاری نے اپنے تقرر کی خواہش ظاہر کی مگر انتظامی امور کی صلاحیت کی بنا پر آپ صلعم نے منظور نہیں فرمایا۔
نبی صلعم نے دوسرے قبیلوں اور خاندانوں کی نسبت بنی امیہ کے افراد کو اکثر و بیشتر حاکم مقرر کیا کیونکہ جب مکہ فتح ھوا تو آپ نے عتاب بن ابی العاص بن امیہ کو وھاں کا حاکم مقرر کیا اور خالد بن سعید بن ابی العاص بن امیہ اور ان کے دونوں بھائیوں ابان اور سعید کو دوسرے علاقوں کا حاکم بنایا نیز ابو سفیان اور ان کے صاحب زادے حضرت یزید کو بھی حاکم مقرر کیا اور جب آپ کی وفات ھوئی وہ اس منصب پر فائز تھے-
نیز نبی صلعم نے اپنی تین بیٹیوں کو بھی بنو امیہ میں بیاہ دیا۔
ھاشمیوں کے سیاسی مسلک اور بنو امیہ کی خلافت کی حمایت اور تائید کی روشن مثال اس واقعہ سے بھی ملتی ھے کہ حادثہ کربلا کے بعد جب عبداللہ بن زبیر کے حامیوں اور ایجنٹوں نے امیر یزید کے خلاف مدینہ میں بغاوت کے شعلے اس طریقے سے بھڑکاۓ کہ امیر المومنین کے قبیلہ کے افراد کو بھی جلا وطن ھونے پر مجبور کر دیا گیا اور اس زمانہ میں بھی ھاشمی خاندان نے یعنی عباسیوں ، جعفریوں ، عقیلیوں اورعلویوں نے اور اولاد حسن اور اولاد حسین نے بھی اس بغاوت سے اپنے آپ کو بلکل علیحدہ رکھا اور امیر یزید کی بیعت پر قائم رھے اور جو الزام امیر یزید پر شراب نوشی اور ترک نماز کے لگاۓ گۓ تھے انکی تردید کی اور ان کو جھوٹا قرار دیا۔اور بعض افراد نے تو بنو امیہ کے خاندان کی حفاظت کی خاص کر حضرت علی بن حسین (زین العابدین)نے ! علامہ ابن کثیر نے حضرت عبدللہ بن عمر کے طرز عمل کی کیفیت لکھتے ھوئے کہ حضرت موصوف نے اپنے اھل خاندان کو خلیفہ یزید کی بیعت پر قائم رہنے اور بغاوت سے علیحدگی اختیار کرنے کی تاکید کی تھی ، خاندان نبوت بنی ھاشم کے بزرگوں کے موقف کا ذکر ان الفاظ میں کیا ھے۔
اور اسی طرح بنو عبدالمطلب ( یعنی اولاد علی اور اولاد عباس وغیرہ ) کے کسی فرد نے بھی امیر یزید کی بیعت نہیں توڑی اور جب محمد بن علی الحنیفہ سے اس بارے میں کہا گیا تو انہوں نے سختی سے انکار کیا اور امیر یزید کی موافقت میں ان سے لڑے اور بحث کی۔اورجو الزامات شراب نوشی اور ترک نماز کے ان پر لگاے گیے تھے ان کی تردید و تکزیب کی۔(صفحہ 218 جلد 8 البدایہ و النہایہ۔)
غرضیکہ خاندان نبوت کے یہ سب افراد خلیفہ وقت کی بعیت پر قائم رھے حضرت حسین کے صاحب ذادے بھی امیر المومنین کی حمایت میں سب ھاشمیوں کے ساتھ تھے با وجود طرح طرح کی سختیوں کےکسی ھاشمی نے امیر یزید کی بیعت کی مخالفت میں ابن زبیر کی بیعت نہیں کی بلکہ متفق علیہ خلیفہ کے خلاف خروج و بغاوت کو ایسا غلط اقدام سمجھا گیا کہ امیر یزید کی وفات کے بعد جب ابن زبیر کا عارضی تسلط حجازپر ھو گیا تو حضرت ابن عباس بمعہ اپنے بھتیجے حضرت محمد بن علی الخنیفہ کے مکہ سے طائف چلے گئے کچھ عرصہ بعد جب ان کا آخری وقت آ پہنچا تو اپنے صاحب زادے (حضرت علی السجاد بن عبداللہ بن عباس) کو وصیت فرمائی میری تدفین کے بعد تم لوگ حجاز سے ترک سکونت کر کے بنو امیہ کے پاس ملک شام چلے جانا چنانچہ یہ حضرات قصبہ حیمیہ چلے گئے جو شام اور حجاز کا سرحدی مقام ھے۔اورامیر المومنین عبدالملک اموی کے تسلط کے دور میں واپس آۓ۔(ان واقعات کی تفصیل فتح الباری شرح صحیح البخاری جلد 8 صفحہ 263 اور 264 میں ملا خطہ ہوں)
حضرت حسین کا امیریزید سے بعیت نہ کرنا اور کوفی سبائیوں کی دعوت پر خروج کا اقدام ان کا ذاتی اور انفردی فعل تھا یہ بھی واقعات سے ثابت ھے کہ ان دونوں بھائیوں (حسن و حسین )کی مزاجی کیفیت یکساں نہیں تھی اور دونوں کے نقطہ نظر میں نمایاں فرق تھا جس کی تفصیل اگلی قسط میں بیان ھو گی۔
 

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔