میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

منگل، 10 مئی، 2016

شیطان نامہ - قسط نمبر 23 - رویہ حسین ابنِ علی


 شیطان:
رسول الله کی وفات کے وقت حضرت حسن کی عمر 6 یا 7 سال کی تھی . ان کے بارے میں آپ نے پشین گوئی فرمائی تھی کہ الله ان کے ذریعے مسلمانوں کے دو عظیم گروہوں میں صلح اور مصالحت کرا دیں گے-
کتاب المعارف ابن قتیبہ صفہ 69 میں یہ روایت بھی ہے کے حسن کی ولادت ہجری 6 میں بعد غزوہ خیبر ہوئی نیز حضرت علی اور حضرت فاطمہ کی شادی غزوہ احد سے پہلے ہونا بھی بعض روایتوں میں آیا ہے اس اعتبار سے حسن اور حسین انحضرت کی وفات کے وقت بلترتیب 4 اور 3 سال کے ہوتے ہیں.غزوہ خیبر شائد کتابت کی غلطی ہو سکتی ہے.

حضرت حسن ہمیشہ گروہ بندی سے علیحدہ رہے اور صلح اور مصالحت کی طرف کوشش کی. بر خلاف اس کے ان کے چھوٹے بھائی کے بچپن کا ایک واقعہ جو خود ان کی زبانی ہے ، اصحاب سیرو تاریخ نے بیان کیا ہے.حضرت حسین فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ حضرت عمر الفاروق اپنے زمانہ خلافت میں جب مسجد نبوی کے ممبر پر خطبہ دے رہے تھے تو میں نے ان سے کہا کہ میرے نانا کے ممبر سے اتر جائیے اور اپنے باپ کے ممبر پر چلے جائیے.اصحاب سیر و تاریخ نے ان کے یہ الفاظ نقل کئے ہیں .
کہ میں نے حضرت عمر فاروق سے کہا کہ میرے نانا کے ممبر سے اتر آؤ اور اپنے والد کے ممبر پر چلے جاؤ تو انہوں نے فرمایا کہ میرے باپ کا تو کوئی ممبر ہے ہی نہیں پھر انہوں نے مجھے اپنے پاس بٹھا لیا اور خطبہ ختم کرنے کے بعد مجھے اپنے گھر لے گئے اور مجھ سے دریافت کیا کہ اے بیٹے مجھے یہ تو بتاؤ کہ یہ بات تمہیں کس نے سکھائی ہے میں نے عرض کیا کہ کسی نے بھی نہیں سکھائی .
یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ حضرت علی نے امیرالمومنین کے پاس آ کر یقین دلایا تھا کہ یہ بات اسے کسی نے نہیں سکھائی بلکہ خود اپنے دل سے کہی ہے.

یہ واقعہ بچپن کے زمانے کا ہے اور بچپن کی باتیں قبل لحاظ نہیں سمجھی جاتیں ، لیکن اسی کے ساتھ نہج البلاغہ کے مشہور شارح ابن ابی الحدید نے حضرت معاویہ کے عہد خلافت کے آخر کا یہ واقعہ بھی نقل کیا ہے جس کو ناسخ التواریخ کے مولف نے بھی ہجری 54 کے واقعات کے سلسلہ میں یعنی حضرت حسن کی وفات کے 6 سال بعد کے حالات میں بیان کیا ہے،(صفحہ 82 از کتاب دوئم ناسخ التواریخ مطبوعہ ایران )
حضرت علی نے حضرت معاویہ کی مثال بیان کرتے ہوئے لکھا ہے کہ سرداری اور حکمرانی کے لئے قلب کی وسعت چاہیے اور حضرت معاویہ بہت فراغ دل ، وسیح القلب اور نہایت درجہ برد بار تھے اور ان ہی صفات کی بدولت وہ اس درجہ پر پہنچے جو ان کو حاصل تھا پھر واقعہ بیان کرتے ہوے لکھا ہے کہ
صوبہ یمن سے (جو مال حاکم یمن نے خلیفہ کو بھیجا تھا ) حضرت معاویہ کے پاس جا رہا تھا جب یہ قافلہ مدینہ سے گزر رہا تھا حسین بن علی نے اس پر قبضہ کر لیا اور اپنے عزیزوں اور دوستوں میں تقسیم کر دیا اور معاویہ کو خط لکھ کر اطلاح کر دی..(شرح ابن ابی الحدید جلد 2 صفہ 281 مطبوعہ ایران .)

اب آپ غور کریں کہ شیعہ مورخین نے ان باتوں کو اپنی کتابوں میں نقل کیا ہے.

حضرت معاویہ نے جواب میں تحریر بھیجی اس میں حضرت حسین کو لکھا .

کیونکہ والی کو اس کا سب سے زیادہ حق ہوتا ہے کہ مال (خراج اور زکات وغیرہ ) کو وصول کرے اور فی اس کو اپنے اختیارات سے تقسیم کرے . اگر تم اس کو نہ لیتے اور میرے پاس آنے دیتے تو کچھ اس میں سے تمہارا حصہ نکلتا اس کی ادائیگی میں ہر گز دریغ نہ ہوتا لیکن اے میرے بھتیجے میں یہ گمان کرتا ہوں کہ تمہارے دماغ میں جوش اور حدت بھری ہے میرے زمانے میں خیر ایسا عمل تم کر بھی گزرو کہ میں تمہاری قدر کرتا ہوں اور تمہاری ان باتوں سے در گزر کر سکتا ہوں لیکن واللہ مجھے خوف ہے کہ میرے بعد تمہارا معاملہ کسی ایسے سے نہ پڑھ جائے جو تمہارا مطلق لحاظ اور پاس نہ کرے.

قطعہ نظر اس بات کے کہ شیعہ مورخین نے یہ واقعات درست نقل کیے ہیں یا حسب عادت کچھ کمی بیشی کی ہے واقعہ کے مضمون کے بارے میں کوئی اختلاف نہیں ہے.

اسی قسم کا ایک اور واقعہ جو قدیم ترین مورخ مولف اخبار الطوال اور شیعہ مورخین طبری ، ناسخ التواریخ نے ابو محنف کی روایت سے بیان کیا ہے جس کا ذکر اگے آتا ہے

ناسخ التواریخ فرماتے ہیں کہ

حسین علیہ السلام نے کہ مسلمانوں کے معاملات کا انتظام خدا کی طرف سے ان کے سپرد تھا- قافلہ کے مال کو لوٹ لیا (صفحہ 209 جلد 2 از کتاب دوئم ناسخ التواریخ مطبو عہ ایران.)
شیعہ مورخین کے بیان کردہ اس واقعہ کا ذکر جو واقعہ کربلا کے قدیم ترین مورخ ابو محنف کی سند سے بیان ہوا ہے اس کا مقصد حضرت حسین پر تنقید کرنا نہیں . بات صاف ہے کہ خلیفہ یا حاکم وقت سے اجازت ہونے سے قبل کسی فرد امت کو خواہ وہ کیسی ہی اعلا اور امتیازی حیثیت رکھتا ہو کیا اسے پبلک مال تقسیم کرنے کا حق ہو سکتا ہے.

ان واقعات سے صاف ظاہر ہے اموی خلافت کے دور میں بنی ہاشم خاص کر حضرت حسین سے کس درجہ مراعات کا سلوک ہوتا رہا اور با وجود حضرت حسین کے ان اقدام کے کس قدر در گزر کا برتاؤ کیا گیا جب گورنر مدینہ نے یہ رپورٹ ارسال کی کہ حسن کی وفات کے بعد عراق کے لوگ حضرت حسین کے پاس زیادہ آ جا رہے ہیں اور کسی فتنے کے پیدا ہونے کا اندیشہ ہے تو حضرت معاویہ نے لکھ بھیجا کہ
حسین سے کسی قسم کی پوچھ گچھ نہ کی جائے
حضرت معاویہ کی یہ در گزر طبیعت ایک مثال تھی وہ حد درجہ حلیم و کریم تھے امام احمد بن حنبل ان کو سید کریم فرماتے تھے کوئی ان کو تکلیف دیتا تو وہ اس کو دعائیں دیتے تھے اور سب لوگوں سے زیادہ برداشت کرنے والے تھے (جلد 2 صفہ 219 البدایه و النہایه)

غیروں کے ساتھ جب یہ سلوک تھا تو حضرت حسین تو ان کے اپنے تھے سب جانتے ہیں کہ ام المومنین حضرت ام حبیبہ کے رشتہ سے وہ حضرت فاطمہ الزہرہ کے ماموں اور حضرت حسین کے نانا لگتے تھے ۔
شیعہ مورخین کے یہ بیانات کہ خاندان بنو ہاشم اور بنو امیہ میں خاندانی مخالفت تھی بالکل بے اعتبار اور بے بنیاد بات ہے ہاں یہ بات حقیقت ہے کہ حضرت حسین نہیں چاہتے تھے کہ ان کے بڑے بھائی خلافت کے بارے میں حضرت معاویہ سے صلح کر لیں لیکن جب بڑے بھائی نے سختی سے کہا تو انہوں نے بیعت کی اور اس پر قائم رہے،

علامہ ابن کثیر لکھتے ہیں کہ
جب خلافت ان کے بھائی (حسن ) کو ملی اور انہوں نے مصالحت کرنے کا ارادہ کیا تو یہ بات حسین کو شاق گزری اور اس بارے میں اپنے بھائی کی راے کو درست نہ جانا بلکہ حضرت معاویہ سے لڑائی پر زور دیا تو ان کے بھائی نے کہا کہ خدا کی قسم میں تم کو گھر میں قید کر دوں گا اور اس کا دروازہ تم پر بند کر دوں گا یہاں تک کہ میں اس کام (صلح ) سے فارغ ہو جاؤں اس کے بعد تمہیں نکلنے دوں گا ، جب حسین نے یہ حالت دیکھی تو خاموش رہے اور ان کی پیروی کی.(صفحہ 150 جلد 5 البدایه و النہایه )

لیکن حضرت معاویہ سے بیعت کرنے کے بعد حضرت حسین دوسرے بنی ہاشم کی طرح اموی خلافت کے ساتھ رہے بلکہ یزید کی قیادت میں جہادی سر گرمیوں میں حصہ بھی لیا ، جہاد قسطنطنیہ کی شرکت کا حال آپ پچھلے اوراق میں پڑھ چکے ہیں-
امیر یزید کے خلاف حضرت حسین کا اقدام اموی خلافت یا بنو امیہ کی مخالفت کی وجہ سے نہ تھا بلکہ کوفی اور سبائی گروہ کی ترغیب کا نتیجہ تھا.

 ( بچپن سے اُن کے دل میں یہ بٹھا دیا گیا تھا کہ ، الآئمۃ من القریش ۔ مُفتی ) 

 


 

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔