میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

پیر، 16 مئی، 2016

شیطان نامہ - قسط نمبر 24۔ دوسرا حصہ - نصیحت ماننے سے انکار۔

حسين بن محمد بن الحسن الدِّيار بَكْري (المتوفى: 966هـ)
ھجری 48 میں حضرت حسن نے وفات پائی آپ تپ دق کے مہلک مرض میں فوت ہوے تھے نہ کہ زہر خورانی سے جو محض غلط مشہور ھے۔( مرض الحسن اربعین یوما) یعنی حسن چالیس دن بیمار رہنے کے بعد فوت ہوئے اور زہر کھا کر کئی اتنی مدت ذندہ نہیں رہ سکتا۔ ( تاريخ الخميس في أحوال أنفس النفيس جلد 6 صفحہ 326۔ )

شیطان :
ڈاکٹر حضرات اس بات کو بہتر سمجھ سکتے ھیں۔

بزرگوں میں دو ہم نام حضرات زندہ تھے یعنی عبداللہ بن عباس اور عبداللہ بن جعفر طیار ۔ عبداللہ بن عباس حضرت حسین کے چچا لگتے تھے اور حضرت فاطمہ الزہرہ کے رشتے سے ان کے نانا۔ بیعت یزید کے زمانہ میں یہی بزرگ خاندان کے بڑے اور قبیلہ بنی ھاشم کے سردار تھے اور حضرت حسین مدینہ سے مکہ آ کر انہی کے پاس مقیم ھوئے تھے اور امیر یزید نے بھی انہی کو قاصد بھیج کر درخواست کی تھی کہ حضرت حسین کواس غلط اقدام سے منع کریں اور روکیں۔
دوسرے بزرگ حضرت عبداللہ بن جعفر طیار تھے جو نسبتی رشتہ سے حضرت حسین کے تایا زاد بڑے بھائی اور سیدہ زینب کے شوہر ہونے سے حضرت حسین کے بہنوئی بھی تھے۔ یہ دونوں بزرگ حضرت حسین سے تو اور دس برس بڑے تھے اور دونوں کو رسول اللہ صلعم کی قربت خاص میں اور با شعور حالت میں اسلامی اور روحانی تعلیمات سے بہرہ مند ہونے کی سعادت اور منزل صحابیت حاصل ہوئی تھی خاص طورپرحضرت ابن عباس کو کہ بچپن سے وہ اپنی حقیقی خالہ ام المومنین حضرت میمونہ کے پاس رہتے ، راتوں کو آنحضرت کے ساتھ نماز تہجد ادا کرتے وضو کے لیے پانی لا کر دیتے خدمتیں کرتے اور رسول اللہ سےدعائیں لیتے۔ اور اسی کی برکت تھی کہ امت کے بہت بڑے عالم بنے ۔ ترجمان القران کہلائے-

ابن تیمیہ فرماتے ھیں کہ ابن عباس اہل بیت نبوی کے بڑے بزرگ تھے اور ان سب میں تفسیر قران کے سب سے بڑے عالم تھے، انہوں نے حضرت حسین کو خروج کے جواز اور عدم جواز کے احکام شریعت بتائے اور سمجھایا جس طرح دوسروں کو بتاتے اور سمجھاتے تھے۔

کیونکہ یہ چھوٹے نواسے، حضرت حسین آنحضرت کی وفات کے وقت پانچ یا ساڑے پانچ سال کے تھے اور اتنی کم عمری میں ان کو اپنے مقدس نانا کے نہ تو حالات اور معمولات کی کوئی بات یاد تھی نہ آنحضرت کی زبان سے سنا ہوا اسلامی سیاست کے بارے میں کوئی ارشاد۔

حضرت ابن عباس نے جو گفتگوئیں ان سے کیں ، جماعت سے وابستگی اور تفرقہ سے اجتناب پر جو نصیحتیں فرمائیں ان کے بعض الفاظ شیعہ راویوں کی روایتوں میں بھی پائے جاتے ہیں جو اکثروبیشتر مسخ صورت میں پیش کی گئی ہیں۔ بلکہ انتہائی غلط بیانی سے کام لیا گیا ھے۔ خاص کر ابو محنف اور لوط بن یحیی کی روایتوں میں جن کا مسلک شیعہ تھا

اور وہ حدیثیں گھڑتے تھے۔ (صفحہ 202 جلد 8 البدایہ و النہایہ)
طبری:اور یہی دونوں اس قسم کی روایتوں کے راوی ہیں اور علامہ ابن کثیر فرماتے ہیں کہ ان ھی کے پاس اس قسم کی روایتیں ہیں کسی اور کے پاس نہں ہیں ۔
طبری نے اس قسم کی روایتوں کو بلکہ تمام تر مواد کو اپنی کتاب میں اکٹھا کر دیا اور اس طرح ان من گھڑت روایتوں کو اعتبار کا درجہ حاصل ھو گیا۔ لیکن اگر زرا سا غور کیا جاۓ تو ان من گھڑت روایتوں کا پول کھل جاتا ھے یہ موقعہ تفصیلی بحث کرنے کا نہیں ۔ مثال کے طور پر ابو محنف کی اس روایت کو لیجیے معلوم ھے کہ حضرت حسین مکہ میں حضرت عبداللہ بن عباس کے پاس مقیم ہیں اور ایک ہی گھر ایک ہی مقام دارالعباس میں مقیم ہیں مگر 

ابو محنف لکھتا ھے کہ عبداللہ بن عباس نے حسین کی روانگی کا ذکر لوگوں سے سنا تو ان کے پاس آۓ اور کہا اے ابن عم ! لوگوں میں یہ کیا چرچا ھو رہا ھے کہ تم عراق کی طرف روانہ ھونے کو ہو زرا مجھ کو تو بیان کرو تم کیا کرنے کا قصد کر رھے ہو۔ (صفحہ 212 جلد 6 طبری۔)
پھر ان ہی ابن عباس سے جو امیر یزید سے بیعت خلافت کر چکے تھے اور دوسروں کو بھی بیعت کی ہدایت فرماتے تھے یہ کلمات منسوب کیے ہیں جو بقول ابو محنف انھوں نے دوسری ملاقات میں حضرت حسین سے کہے۔
اگر تم کو اہل عراق بلاتے ہیں تو انھیں لکھ بھیجو کہ اپنے دشمن سے پیچھا چھڑا لیں پھر ان کے پاس جاؤ ۔( صفحہ 217 جلد 6 طبری۔)
گویا اس جھوٹے نے حضرت عبداللہ بن عباس پر الزام لگایا کہ انھوں نے اہل عراق کو خلیفہ وقت کے خلاف بغاوت پر ابھارنے کا مشورہ دیا جس کی بیعت میں وہ خود داخل تھے اور اس کی اطاعت اپنے اوپر لازم جانتے تھے۔
اس من گھڑت روایت کے بعد حضرت ابن عباس جیسے امت کے سب سے بڑے عالم ، کی زبان سے متفق علیہ خلیفہ کے خلاف علم بغاوت بلند کرنے کا سارا منصوبہ اور پلان بھی بیان کروا دیا کہ انھوں نے اپنے بھتیجے کو اپنی حکومت و خلافت قائم کرنے کے لیے یہ مشورہ دیا کہ اگرتم کو یہاں سے نکل جانا ہی منظور ھے تو یمن کی طرف نکل جاؤ وہاں قلعے ہیں گھائیاں ہیں اور وہ ایک طویل و عریض ملک ھے تمہارے والد کے طرفدار شیعہ وہاں موجود ہیں تم سب لوگوں سے الگ تھلگ رہ کر اپنے لوگون سے خط و کتابت کرو ۔ اپنے داعیوں اور قاصدوں کو بھیجو اس طریقے سے مجھے امید ھے کہ جو بات تم کو محبوب ھے یعنی (حکومت و خلافت) وہ تمھیں آرام سے حاصل ہو جائیگی۔ ( صفحہ 217۔جلد 6 طبری۔)

قسط نمبر 24  -  ٭٭٭٭-ابتداء ِ  شیطان نامہ-٭٭٭٭ -قسط نمبر  25 

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔