میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

جمعہ، 20 مئی، 2016

شیطان نامہ ۔ قسط نمبر 25 - ابنِ عباس کا مؤقف



حضرت ابن عباس اور ان کے اہل بیت کا موقف ان کے طرز عمل سے ہی ظاہر ھو جاتا ھے تاریخ گواہ ہے کہ خاندان بنی ہاشم کے تمام افراد خاص طور پر ابن عباس امیر یزید کی بیعت خلافت پر اس درجہ قائم رھے-
کہ سانحہ کربلا کے بعد بھی باغیانِ مدینہ کی طرح طرح کی کوششوں کے با وجود بھی ان میں سے کسی نے بیعت نہیں توڑی۔ امیر یزید کی وفات کے بعد جب ابن زبیر نے اپنی بیعت کے لیے زور دیا دباو ڈالااور دھمکیاں دیں تو ہاشمی خاندان نے اپنے بنو العم (بنو امیہ) کی سیاسی قیادت اور خلافت کی مخالفت کو اسلامی سیاست کے حق میں مضر سمجھا اور کوئی قدم ان کے خلاف نہ اٹھایا۔
حضرت حسین کے اس غلط اقدام کو صحیح ثابت کرنے کے لیے طرح طرح کی غلط بیانیوں سے کام لیا گیا -

مثال کے طور پر ناسخ التواریخ فرماتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن عباس نے حضرت حسین کومخاطب کر کے فرمایا کہ اس امت پر تمہاری مدد کرنا اس طرح فرض ہے جیسے نماز اور زکوۃ، قسم بخدا اگر تمہاری راہ میں تیغ زنی کروں یہاں تک کہ میرے دونوں ہاتھ کٹ جائیں تب بھی اس حق کو پورا ادا نہ کر  سکوں گا جو تمہارا میرے ذمے ہے۔( صفحہ 170 جلد 6 ناسخ التواریخ مطبوعہ ایران۔)

اس گروہ کے دوسرے تاریخ دانوں کی غلط بیانیوں کی بھی یہی کیفیت ھے شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ نے ایک موقعہ پر لکھا ھے کہ تمام علماہ کا اس پر اتفاق ہے کہ شیعوں میں تمام مسلمانوں کی نسبت جھوٹ اور کذب بیانی سب سے ذیادہ نمایاں ھے۔ ( صفحہ 15۔ منہاج السنہ۔)
مگر حق بات ظاہر ہو کر رہتی ھے ان ہی راویوں کے بیان سے صاف ظاہر ہے کہ حضرت ابن عباس خروج کی کاروائی کے مخالف تھے اور ان کا بس چلتا تو حسین کوزبردستی روک لیتے ،
خود ابو محنف کی روایت سنئے کہ ابن عباس نے اپنے  بھتیجے سے فرمایا،

قسم وحدہ لا شریک کی کہ اگر میں سمجھتا کہ تمھارے بال اور گردن پکڑ کر روک لوں یعنی دست و گریباں ہو جاؤں یہاں تک کہ لوگ میرا تمھارا تماشہ دیکھنے جمح ہو جائیں اور تم میرا کہنا مان لو گےتو میں ایسا ھی کر گذرتا ( صحفہ 217 جلد 6 طبری۔)
طبری کے علاوہ دوسرے مورخین نے بھی دونوں چچا بھتیجے کے درمیان بحث و مباحثہ کی بنیاد یہی بیان کی ھے علامہ ابن کثیر اور لنشب یدی فی راسک نے بھی ذبردستی روکنے کے الفاظ استعمال کیے ہیں
کہ حضرت عبداللہ بن عباس اس خروج کے شدید مخالف تھے اس بحث و مباحثہ کے درمیان کہا جاتا ھے کہ حضرت حسین نے اپنے چچا سے کہا کہ آپ بہت بوڑے ہو گئے ہیں یعنی سٹھیا گئے ہیں۔ ( جلد 8 صفحہ 164 البدایہ و النہایہ۔)
مگر مفاد امت کے علاوہ حضرت ابن عباس کو بھتیجے کی محبت اور ان کے اہل و عیال کی سلامتی کا خیال بے چین کئے ہوئے تھا مجبورا کہا اور عاقلانہ مشورہ دیا،
پس اگر تم میری بات نہیں مانتے اور جانا ہی چاہتے ھو تومیری اتنی بات مان لو کہ اپنی خواتین اور اولاد کو ساتھ مت لے جاؤ بخدا مجھے خوف ھےکہ کہیں تم بھی اسی طرح قتل نہ ہو جاؤ جس طرح حضرت عثمان قتل ہوۓ اور ان کے بیوی بچے دیکھتے کے دیکھتے ہی رہ گئے۔ (صفحہ 217 جلد 6 طبری۔اور صفہ 160 جلد 8 البدایہ و النہایہ(صنلا مقاتل الطالبین))
مگر افسوس حضرت حسین نے اپنے چچا کی یہ بات بھی نہ مانی حالانکہ ان ہی راویوں نے بیان کیا ھے کہ وہ ان کو اپنا ہمدرد اور ناصح مانتے تھے اور کہتے تھے۔
آپ میرے والد کے چچیرے بھائی ہیں اور میرے والد ہمیشہ آپ کی اعلی راۓ اور عمدہ خیال سے تمام کاموں میں متفق رہتے اور آپ ان کے ناصح اور ہمدرد تھے۔(صفحہ 217 جلد 6 طبری، ناسخ التواریخ جلد 6 صفحہ 171۔از کتاب دوئم۔)
اور ان ہی راویوں کا بیان ہے حضرت ابن عباس کا وہ عاقلانہ مشورہ ان کو اس وقت یاد آیا جب کربلا میں خواتین کی گریہ و زاری کی آوازیں آئیں،
یہ لفظ حسین نے اس وقت کہے جب اہل حرم کی گریہ و بکا کی آوازیں سنیں کہ
" خدا کی قسم ابن عباس نے کیا صحیح بات کی تھی اور منع کیا تھا کہ بیبیوں کو ساتھ لے کر نہ جاؤ۔( صفحہ 242 جلد 6 طبری۔ اور صفحہ 179 جلد 8 البدایہ و النہایہ۔)

دوسرے بزرگ حضرت حسین کے حضرت عبداللہ بن جعفر طیار تھے جو اس خروج کے شدید مخالف تھے اور یہ مخالفت اس وجہ سے نہیں تھی کہ امیر المومنین یزید بن معاویہ ان کے داماد تھے بلکہ وہ سیاسی اورمذہبی حیثیت سے اس اقدام کو ناجائز سمجھتے تھے، اور اس سلسلہ میں ان کہ بڑی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ۔ کیونکہ ان کی زوجہ سیدہ زینب اپنے بھائی حضرت حسین کی بڑی طرفدار تھیں اوران کی اولاد سے بڑی محبت کرتی تھیں اور وہ ان کا ساتھ نہیں چھوڑنا چاہتی تھیں ان دونوں میاں بیوی میں اس سبب سے ایسی ناچاقی پیدا ہوئی کہ نوبت طلاق تک پہنچ گئی۔
سیدہ زینب سے علیحدگی کے بعدعبداللہ بن جعفر نے اپنی سالی ام کلثوم جو اس وقت بیوہ تھیں نکاح کر لیا۔

علامہ ابن حزم اس نکاح کے بارے میں لکھتے ہیں

سیدہ ام کلثوم بنت علی بن ابی طالب و بنت، بنت رسول اللہ پہلے حضرت عمر الفاروق کے عقد میں تھیں ان سے زید اور رقیہ دو اولادیں ہوئیں ان کے انتقال کے بعد دوسرا نکاح عون بن جعفر سے ہوا  وہ وفات پا گئے،  تو محمد بن جعفر سے  تیسرا نکاح ہوا۔
اور چوتھی مرتبہ عبداللہ بن جعفر بن ابی طالب کی زوجیت میں ان کی بہن زینب کو طلاق دیے جانے کے بعد آئیں۔ (جمہرہ الانساب ابن حزم صفحہ 23۔ اور 33۔)
سیدہ زینب کے بطن سے حضرت عبداللہ بن جعفر کی دو اولادیں تھیں ایک بیٹا علی جو حضرت عبداللہ بن عباس کا داماد تھا دوسری بیٹی ام کلثوم جن کو حضرت عبداللہ نے اپنے بھتیجے قاسم بن محمد بن جعفر کےعقد میں دیا تھا ان کے فوت ہو جانے کے بعد حجاج بن یوسف نے نکاح کیا تھا۔ (جمہرہ الانساب ابن حزم صفحہ 61۔)

حضرت عبداللہ بن جعفر نے اپنے صاحب زادے علی کو جو علی الزینبی کہلاتے تھے اپنی والدہ زینب کے ساتھ حسینی قافلے میں شامل نہ ہونے دیا تھا۔ ان کے دو بیٹے عون اور محمد جو دوسری بیویوں میں سے تھے ایک دوسرے واقعے کے سلسلے میں قافلے کے ساتھ جانے پر مجبور ہوے۔

ان شیعہ راویوں نے حضرت ابن جعفر کے خروج کی مخالفت کو چھپانے کے لیے ان کے بارے میں روایتیں گھڑی ھیں جن کا ذکر آئندہ اوراق میں حسینی قافلے کی روانگی کے سلسلے میں آۓ گا۔



خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔