میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

جمعہ، 20 مئی، 2016

شیطان نامہ - قسط نمبر 26۔ حسینی قافلہ ،کوفہ کو روانگی


اپنے نمائندے اور بھائی کی کوفہ سے یہ رپورٹ موصول ہونے کے بعد کہ یہاں کے سب لوگ بیعت اطاعت کرنے کے لیے تیار بیٹھے ہیں اور اٹھارہ ہزار میرے ہاتھ پر بیعت کر بھی چکے ہیں حضرت حسین کوکوفیوں کی وفا داری اور جان نثاری پر کوئی شبہ نہ رہا۔ اور سفر کا ارادہ پکا ہو گیا ۔
( یہ سب فیس بُکی جان نثار تھے ۔ مُفتی)
حضرت عباس کے گھر سے اٹھ کر شہر کے باہر بڑاؤ ڈالا۔ سامان سفر اور اسلحہ کی درستگی ہونے لگی ۔ ابو محنف اور ہشام کلبی جیسے قدیم اور غیر مستند راویوں نے عراقی شاعر فرذوق کا یہ قول نقل کیا ھے جو ان ھی ایام میں حج کی  ادائیگی کے لیے مکہ پہنچا تھا بیان کرتا ھے کہ جب میں حرم میں داخل ہوا اور یہ حج کے ایام تھے-

اور ہجری 60 کا واقعہ ھے اور میں نے حسین بن علی کو مکہ کے باہر پایا تلواریں اور ڈھالیں ان کے ساتھ تھیں میں نے دریافت کیا کہ قطار اونٹوں کی کس کے ساتھ ھے تو پتہ چلا کہ حسین بن علی کے ساتھ ھے۔
(صفحہ 218 جلد 6 طبری اور صفحہ 167 جلد 8 البدایہ۔)
فرذوق کے بیان میں اس بات کا ذکر تو نہیں کہ یہ واقعہ ذی الحجہ کی کون سی تاریخ کا تھا لیکن ان راویوں نے تاریخ روانگی 8 ذی الحجہ بتائی ھے اور اس کو اکثر مورخین نے نقل بھی کر دیا ھے۔
بر خلاف اس کے علامہ ابن کثیر نے 10 ذی الحجہ بیان کی ھے۔ اور لکھا ھے پس (حسین) اپنے اہل خاندان اور 60 کوفی اشخاص کے ساتھ مکہ سے اہل کوفہ کے پاس پہنچ جانے کے لیے روانہ ہو گئے اور ان کی روانگی کی تاریخ ماہ ذی الحجہ کی دسویں تھی۔
معمولی حالات میں تاریخ روانگی میں ایک دو دن کے فرق کی کوئی اہمیت نہیں تھی ، لیکن یوم حج سے ایک دن پہلے حضرت حسین اور ان کے ساتھیوں کا جن کی تعداد سو کے لگ بھگ تھی حج کا اہم فریضہ چھوڑ کر اتنے طویل سفر پر یکایک نکل پڑنا حیرانگی کی بات تھی ہو سکتا ہے اس لئے فرزوق شاعر سے ایک سوال منسوب کر کے ان راویوں نے حضرت حسیں سے جلدی سفر کی وجہ یہ بیان فرمائی ہو.
ایسی کیا جلدی پڑی ہے کہ آپ حج چھوڑ کر جا رہے ہو .تو فرمایا کہ اگر میں جلدی نہ کرتا تو گرفتار کر لیا جاتا.(صفحہ 218 جلد 8 البدایه و النہایه .


اب یہ دیکھنا ہے کہ اس جلدی سفر کی جو وجہ بیان کرائی گئی ہے وہ درست ہے کہ نہیں،
پہلی بات یہ کہ حضرت حسین اور ان کے رشتہ داروں اور عیزیزوں کا کردار تو سب پر روشن ہے ان ہی راویوں کے مطابق حضرت حسین کا عزم اور حوصلہ اور اپنی بات اور آن پر قائم رہنا حتیٰ کہ اپنی جانوں کو اپنی عزت نفس پر قربان کر دینا ایسے بے باک اور بہادروں کو انتا کمزور کون کہہ سکتا ہے کہ گرفتاری کے خوف سے فریضہ حج بھی ترک کر دیتے . خاص طور پر حج کی ادائیگی میں صرف ایک رات ہی تو درمیان میں تھی.

دوسری بات حضرت حسین پورے چار مہینے اور چند دن مکہ شریف میں قیام پزیر رہے یعنی ماہ شعبان ، رمضان ، اور شوال و ذیقعد اور ماہ ذی الحجہ کے پہلے چند دن . اور اس عرصے میں کوفیوں کے صد ہا خطوط ، درجنوں وفد اور سینکڑوں اشخاص عراق سے ان کے پاس آتے جاتے رہے اور بیعت خلافت کا حلف اٹھاتے رہے 60 عدد کوفی قافلے کے ساتھ چلنے کے لئے ٹھہرے رہے جو بعد میں ان کے قافلے کے ساتھ روانہ ہوئے ان تمام حالات سے حکومت با خبر تھی اور ان کے خلاف کوئی کاروائی نہیں کی گئی اور نہ عراقیوں کو ان کے پاس آنے جانے سے روکا گیا.اور نہ خط و کتابت پر کوئی پابندی لگائی گئی
تیسری بات حکومت چاہتی تو ان چار ماہ کے دوران جب کے حج کا رش نہیں تھے عامل مکہ کو حکم بھیج کر با آسانی ان کے خلاف کروائی کی جا سکتی تھی لیکن حکومت کی جانب سے کسی روک ٹوک یا تشدد کا ثبوت تاریخ میں نہیں پایا جاتا.
چوتھی بات کہ ان کے ساتھ نرمی اور مفاہمت کا برتاؤ ہمیشہ ہوتا رہا کہ خود امیر المومنین نے حضرت حسین کے بزرگ کو تحریر بھیج کر متوجہ کیا کہ عراق کے لوگ ان کے پاس زیادہ آ رہے ہیں اور حصول خلافت پر آمادہ کر رہے ہیں.
پانچویں بات تو پھر کیونکر باور کیا جا سکتا ہے کہ ایام حج سے ایک دن پہلے جب کے حج کے ابتدائی مراسم شروع ہو جاتے ہیں حرم کی حدود کے اندر جہاں لاکھوں مسلمانوں کا اجتماع ہو حضرت حسین جیسی محبوب اور ممتاز ہستی کو گرفتار کر لیا جاتا کہ ہر مسلمان کے جذبات کو ٹھیس لگتی کوئی اقدام بھی اس مقام پر کیا جانا ممکن ہی نہ تھا کہ حضرت حسین کی حرمت کا جذبہ زمانہ جاہلیت میں بھی بچے بچے کو تھا.اور اگر کوئی حکمران ایسے احمکانہ اقدام کی جسارت بھی کرتا تو اسکی حکومت کا تختہ الٹنے میں بالکل دیر نا لگتی.اور اس طرح جس مقصد کے حصول کے لئے یہ کوفی اور عراقی حضرت حسین کو عراق لے جانے پر آمادہ کر رہے تھے وہ مقصد اس طویل سفر کے بغیر سر زمین حجاز میں ہی با آسانی حاصل ہو جاتا.
اور آخری بات اگر خلیفہ کے کردار میں کوئی ایسی برائی تھی کہ اس کو ہٹانا یا اس کے خلاف خروج کرنا احکام شریعت کے اعتبار سے جائز تھا تو اس بات کا بہترین موقح مکہ شریف میں ہی تھا. جہاں مملکت اسلامیہ کے کونے کونے سے دیندار مسلمانوں کا عظیم اجتماع موجود تھا نہ کہ صحرا اور بیاباں کی 30 منزلیں کراس کر کے کوفہ میں کہ جہاں کے لوگوں کی غداری کا تجربہ آپ کے والد اور بڑے بھائی کو پہلے ہی ہو چکا تھا.
بلکہ قوی آثار سے ظاہر ہے کہ حضرت حسین اور آپ کے ساتھی حج کی ادائیگی کے بعد کوفہ کی جانب روانہ ہوے.جس کا ذکر اگلی قسط میں کیا جاۓ گا.



خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔