میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

ہفتہ، 21 مئی، 2016

شیطان نامہ - قسط نمبر 27 . تیزی سے سفر

من گھڑت روایتوں کا تاریخی جائزہ .
راویوں کا یہ بیان قابل قبول نہیں کہ حسینی قافلے نے اس تیز رفتاری سے سفر کیا کہ ایک ہی دن میں دو منزلیں طے کر لیں یعنی پہلی منزل چھوڑ کر (بستان ابن عامر) دوسری منزل ذات عرق جا کر دم لیا .
اور حسین نے ایسی تیز رفتاری سے سفر کیا کہ کسی چیز کی طرف مڑ کر بھی نہ دیکھا یہاں تک کہ منزلیں چھوڑتے ہوئے ذات عرق جا اترے .(صفحہ 219 جلد 6 طبری)
( قتل ہونے کے ڈر سے تیز رفتاری سے سفر کیا ہوگا  ۔ مُفتی )
سفر شروع کرتے ہوئے تیز رفتاری سے چلنا تو قدرتی بات ہے لیکن ایسا قافلہ جس میں دو سو کے قریب اونٹوں کی قطاریں شامل ہوں جن کی رفتار کا اوسط 2 یا خاص حالات میں ڈھائی میل فی گھنٹہ ہوتا ہے 54 میل کی مسافت ایک ہی دن میں طے کر لینا اور ایسی حالت میں کہ خواتین اور بچے بھی قافلے میں شامل ہوں ہر گز درست نہیں ہو سکتا.
کوفہ جاتے ہویے جیسا آگے تفصیلی بیان آتا ہے ,
پہلی منزل 24 عربی میل اور 28 انگریزی میل کے فاصلہ پر بستان ابن عامر ہے.اور وہاں سے 22 عربی اور 26 انگریزی میل کے فاصلہ پر دوسری منزل ذات عرق ہے.اور ان دونوں منزلوں کا فاصلہ 46 عربی اور 54 انگریزی میل بنتا ہے.

راویوں نے یہ نہیں بتایا کہ وہ ایسا کون سا خطرہ تھا کہ 54 انگریزی میل کی مسافت اس طرح طے کی گئی کہ کسی چیز کی طرف مڑ کر بھی نہ دیکھ سکے، یعنی تمام دن اور تمام رات اس طرح مسلسل چلتے رہے کہ کوئی شخص اپنی معمولی حاجت کے لئے ، کھانا کھانے یا پنج وقت نماز کے لئے بھی بھی نہ رکا -
اب اس جلدی سفر کی وجہ جو ان مکار راویوں نے بیان کی وہ بھی سنیے.
یزید بن معاویہ نے بنی امیہ کے شیطانوں میں سے 30 آدمیوں کو اس کام پر مامور کیا کہ بیت الله کے حاجیوں کے ساتھ سفر کر کے حسین کو مکّہ میں گرفتار کر لیں اور اگر نہ کر سکیں تو قتل کر دیں (صفحہ 207 جلد 6 از کتاب دوئم ناسخ التواریخ.مطبوعہ ایران ہجری 1309 )
حضرت حسین کے سفر عراق کی یہ وجہ جس کسی نے بھی تراشی ہے اس نے یہ نہ سوچا کہ حضرت حسین اور اس کے سا تھیوں اور اہل خاندان کی دلیری اور شجاعت کا کیسا غلط نقشہ کھینچ رہا ہے کہ تیس شیاطین بنی امیہ کے خوف سے سفر عراق کا مصمم ارادہ کیا اور حج کا فریضہ بھی ترک کر دیا.

راویوں نے جس مقصد کے لئے 10 ذی الحجہ کی بجاے 8 ذی الحجہ تاریخ روانگی قرار دی ہے، وہی مقصد ایک منزل کی بجاے دو منزلوں کی مسافت ایک دن میں طے کرا دینے کا ہے یعنی 10 محرم الحرام
61 ہجری،  سے چند دن پہلے حسینی قافلے کو کربلا پہنچا دینا جو مسافت اور منزلوں کی تعداد اور مراحل راہ کے اعتبار سے کسی طرح بھی پایۂ ثبوت کو نہیں پہنچ سکتا.جس کی تفصیل حاضر ہے.

شیطان کی منطق:
سفر عراق کی منزلیں اور فاصلے.
مکہ مکرمہ سے کربلا کا فاصلہ اس راستے (طریق اعظم) سے جو حسینی قافلے نے کوفہ جاتے ہویے قادسیہ سے کچھ آگے بڑھ کر اور پھر واپس ہو جانے کے بعد " الزیب و قصر و مقاتل " کی راہ سے اختیار کیا تھا ٨٠٠ عربی اور 900 سو انگریزی میل بنتا ہے.
یہی وہ راستہ ھے جو ظہور اسلام سے صدیوں پہلے سے قافلوں کا راستہ چلا آتا تھا اس راستے کی منزلیں، مرحلے ،پڑاو ، رات گزارنے اور پانی کے مقامات یہ سب ایسے فاصلوں پر موجود چلے آ رہے تھے- کہ قافلےتو قافلے تنہا سفر کرنے والے بھی ان سے فائدہ اٹھائے بغیر نہیں رہ سکتے تھے تاریخ کی مستند کتابوں ، سفر ناموں ، اور قدیم اور جدید نقشوں میں یہ فاصلے اسی طرح درج ہیں اور اسی تشریح کے ساتھ درج ہیں کہ کہاں چراگاہیں ہیں کہاں کنویں حوض اور تالاب ہیں ان کا پانی پینے کے قابل ھے کہ نہیں کس قوم اور قبیلے کے لوگ وہاں آباد ہیں کھانے پینے کی کیا کیا چیزیں وہاں دستیاب ہیں وغیرہ وغیرہ ۔
ان میں مشہور کتاب تاریخ بلدان و جغرافیہ سب سے مستند کتاب سمجھی جاتی ھے۔
جیسا کہ ذکر ہو چکا ہے مکہ مکرمہ سے روانہ ہو کر 24 عربی میل پر پہلی منزل بستان ابن عامرآتی ہے یہ مقام بنی تمیم کے ایک شخص سے موسوم ہے بعض اس کو عامر الھزری سے اور دوسرے ابن عامر بن کریز اموی سے منسوب کرتے ہیں .(صفحہ 85 فتوح البلدان بلا زری )
یہاں سے ایک راستہ یمن اور دوسرا کوفہ کو جاتا ہے.اس کے بعد دوسری منزل 22 عربی میل کے فاصلے پر ہے. یہاں سے ایک راستہ اوطاس ہو کر بصرہ اور دوسرا کوفہ کو جاتا ہے.مدینہ سے کوفہ جانے والے مسافر اور قافلے سب اسی راستے سے جاتے تھے .معدن نقرہ کے بعد الحاجرہے اور وہاں سے پندرویں منزل القادسیہ ہے جو نجف سے 15 میل جنوب میں ہے -
اور اسی مقام سے تین میل پہلے حسب روایت حضرت حسین نے کوفیوں کی غداری کا حال سن کر کوفہ جانے کا قصد ترک کر کے واپس ہو کر وہ راستہ اختیار کیا جو قصر مقاتل و قریات ارض سے ہو کر دمشق جاتا ہے-
یہ بھی کہا جاتا ہے کہ یہاں سے چند میل آگے بڑھ کر واپس ہوئے تھے.الغرض مکہ سے قادسیہ کربلا تک پہنچنے کے لئے 30 درمیانی منزلیں طےکرنا لازمی تھیں اور اکتسوئیں منزل حالات و واقیات کے لحاظ سے ارض الطف کے ساتھ کی زمیں ہوئی جو فصل غلہ پچھوڑنے یا بھوسہ اڑا کر صاف کرنے کا میدان تھا یعنی کربلا-
 

مجم البلدان امام شہاب الدین عبدللہ یاقوت حموی کے الفاظ ہیں کہ کربلا کا میدان کنکر ، روڑے ، اور جھاڑ جھنکار سے پاک صاف میدان تھا.
راویوں نے ان تیس منزلوں کی بجاے صرف گیارہ درمیانی اور چند آخری منزلوں کے نام لئے ہیں اور یہ بھی اس طرح کہ مکہ مکرمہ کے بعد پہلی منزل بستان ابن عامر کا نام ہی ترک کر کے دوسری منزل ذات عرق کا نام لیا اسکے بعد اکٹھی 9 منزلیں چھوڑ کر زردو( الخزمیہہ) کا نام لیا. اور بہت سی منزلوں کے نام اور تعداد اور فاصلہ کا اظہار شائد اس لئے مناسب نہیں سمجھا گیا کہ حسینی قافلے کو دو محرم ہجری 61 کو کربلا جیسے دور دراز مقام پر جو مکہ سے ساڑھے نو سو انگریزی میل کی مسافت پر ہے آٹھ دن پہلے ہی پہنچانے کی روایت کی تردید ہو جاتی.
بہر حال حقائق ہمیشہ چھپے نہیں رہتے کبھی نہ کبھی ضرور ظاہر ہو کر رہتے ہیں

Grave Walker( شیطان )  نے ان تمام منزلوں کے نام اور فاصلے مستند کتابوں سے اور سفر ناموں سے اخذ کر کے لکھے ہیں جن کی تفصیل آئندہ درج کی جائیگی .

مستند کتب بلدان و جغرافیہ میں جو منزلیں اور فاصلے درج ہیں وہی کتاب البلدان یعقوبی کے مصنف احمد بن ابی یعقوب ابن وافح متوفی ہجری 286 ( جن کا مسلک شیعہ تھا) نے تحریر کیے ہیں.اور بہت سی جدید اور قدیم مستند کتابوں میں بھی یہی فاصلے اور منزلیں درج ہیں صرف دو تین مقامات کے ناموں میں تبدیلی ہو گئی ہے -
مثال کے طور پر القاع کو حرف " گ " سے الگاع  کہنے لگے ہیں اور زرود کا نام الخز یمیہ اس وجہ سے پڑھ گیا کہ جنرل الخز یمیہ نے یہاں حوض وغیرہ تعمیر کرواۓ تھے،کسی کسی منزل کے فاصلے میں ایک یا دو میل کا فرق بعض کتابوں میں پایا گیا ہے.الغرض یہ مقامات اور فاصلے آج بھی موجود ہیں کسی کو شوق ہمت اور توفیق ہو تو وہ خود سفر کر کے ان فاصلوں کی موقعہ پر تصدیق کر سکتا ہے.
حسینی قافلہ اگر 10 ذی الحجہ کو مکہ سے سفر شروع کر کے روزانہ بلا ناغہ سفر کرتا تو ان تمام منزلوں سے گزر کر اور جب کوفہ جانے کا ارادہ ترک کر کے الازیب کی جانب واپس ہوا اور دمشق کا راستہ اختیار کیا تو کس تاریخ کو کربلا پہنچا ہو گا یا پہنچ سکتا تھا آپ بخوبی اندازہ کر سکتے ہیں اور میں
Grave Walker( شیطان )  ان تمام مقامات کو خود دیکھ کر آیا ہوں.

 

حجازی قافلوں کی اوسط رفتار .
حجازی قافلوں کی رفتار ریگستانی میدانی اور پتھریلی جگہوں میں سفر کرنے کی حالت میں کیا ہوتی ہے اسکا ذکر پہلے کیا جا چکا ہے . سر رچرڈ ایف برٹن نے حجازی قافلوں میں سفر کیا ہے وہ اپنے تجربے کی بنا پر لکھتے ہیں کہ
میں نے اندازہ لگایا ہے کہ حجازی اونٹ جو کارواں کی قطار میں بوجھ لادے چل رہا ہو عام طور پر ایک گھنٹہ میں دو جغرافیائی میل ہوتی ہے . ریگستانی یا چٹانی گھاٹی کے سفر میں البتہ آدھ میل کا فرق کم یا زیادہ ہو سکتا ہے اس سے زیادہ نہیں.(حاشیہ صفحہ 244 جلد 2 سفر نامہ برٹن).
برٹن کے اس قول کی تائید محمّد بک لبیب البتونی مصنف رحلتہ الحجازیہ کے بیان سے بھی ہوتی ہے جنہوں نے خدیوں مصر عباس حلمی پاشا مرحوم کی زیر سر پرستی یہ کتاب مرتب کی تھی جو اپنے مضامین ، حسن طباعت ، اور نقشہ جات کے حساب سے اپنی مثال آپ ہے مصری قافلہ کے اونٹوں کی رفتار کا ذکر کرتے ہوے لکھتے ہیں کہ ایک اونٹ اوسط چار کلو میٹر کی مسافت ایک گھنٹے میں طے کرتا ہے. صفحہ 37 .
اس حساب سے بھی وہی اوسط بنتی ہے جس کا ذکربرٹن نے کیا ہے . قافلہ کی رفتار کم یا زیادہ ہونے کا انحصار علاقہ کی نوعیت پر ہی نہیں ہوتا بلکہ قافلہ میں اونٹوں کی تعداد کہ قافلہ جتنا بڑا ہو گا سفر جتنا طویل ہو گا ، باربردار اونٹ جتنی کثرت سے ہوں گے اور خواتین اور بچوں کی سواری کے اونٹ جتنی زیادہ تعداد میں ہوں گے ان سب حالات کا اثر قافلے کی رفتار پر پڑنا لازمی ہے خاص طور پر اس حالت میں کہ قافلہ روزانہ سفر کرے .
عربی اونٹ اگر صرف سوار کو لے کر 10 میل فی گھنٹہ کی رفتار سے 10 گھنٹوں میں 100 میل کا فاصلہ طے کرتا ہے اور اگر اونٹوں کا کارواں ہو تو ایک اونٹ ساڑھے پانچ من (تقریباً 200 کلوگرام)  وزن اُٹھا کر 10 گھنٹوں میں 18 تا 25 میل (40 کلومیٹر) سفر کر سکتا ہے ۔
تقریبا 950 انگریزی میل کی مسافت طے کرنے کے لئے
ڈھائی میل فی گھنٹہ کی اوسط سے، بارہ گھنٹے روزانہ سفر (30 میل روزانہ)  کا سفرکرنے کے بعد، کم از کم 30 یا 31 دن کی مدت لازمی درکار ہے.اس سے کم دنوں میں یہ فاصلہ طے کرنا نا ممکنات میں سے ہے.
غرضیکہ حسینی قافلہ تیس منزلیں تیس دن میں طے کر کے ہی کربلا پہنچ سکتا تھا اس سے پہلے ہر گز نہیں.اور یہ کسی بھی قافلے کے لئے نا ممکن تیز رفتاری ہے.



 ٭ ٭ ٭ ٭ ٭ ٭ ٭ ٭ ٭ ٭ ٭ ٭ ٭ ٭ ٭ ٭ ٭ ٭ ٭ ٭

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔