میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

منگل، 24 مئی، 2016

شیطان نامہ - قسط نمبر 28 .سفر کربلا کے دوران کے واقعات


ابو محنف کی روایت جس کو تمام مورخین نے " اخبار الطوال ، طبری ، ابن کثیر وغیرہ نے نقل کیا ہے ، کہا گیا ہے حسینی قافلہ جب الحاجر کے مقام پر پہنچا ، یعنی بارہ منزلیں اور 338 عربی میل کا فاصلہ طے کر کے تو حسین نے ایک قاصد قیس بن مسہر السدادی کے ہاتھ اس تحریر کے ساتھ بھیجا


مومنین و مسلمین کے نام سلام .
میں تم سے الله کی حمد کرتا ہوں کہ جس کے سوا کوئی معبود نہیں
اما بعد . مسلم بن عقیل کی تحریر میرے پاس آ گئی ہے کہ تم لوگ میرے متعلق اچھی راۓ رکھتے ہو اور ہماری نصرت اور ہمارے حق کی طلب پر متفق ہو.
میں خدا سے دعا کرتا ہوں کہ ہمارا مقصد بر آئےاور تم لوگوں کو اس پر اجر عظیم دے.میں تمھارے پاس آنے کے لئے مکہ سے
آٹھویں تاریخ ذی الحجہ منگل کے دن اور یوم ترویہ کو روانہ ہوا ہوں - جب میرا قاصد تمھارے پاس پہنچے تو تم اپنے کام میں کوشش اور جد و جہد کرو کیونکہ میں انہی دنوں تمھارے پاس پہنچ جاؤں گا - انشاء الله ، وسلام و علیکم . (صفحہ 223 جلد 2 طبری اور صفحہ 167 جلد 8 البدایه)


( منگل کادن 5 ذی الحج 60 ہجری کو تھا ۔ 8 ہجری کو جمعہ ۔ مُفتی ) 

اس تحریر میں 8 ذی الحجہ ہجری 60 کو حضرت حسین کی قلم سے یوم السلاصه یعنی منگل کا دن ظاہر کیا گیا ہے حالانکہ 8 ذی الحجہ ہجری 60 کو اتوار کا دن تھا یعنی یکشنبہ . اور کون صحیح العقل یہ باور کر سکتا ہے کہ حضرت حسین کی قلم سے غلط دن لکھا گیا ہو گا حضرت حسیں سے زیادہ اس بات سے کون واقف تھا کہ مکہ سے آپ کی روانگی کس دن ہوئی تھی، یہ کتابت کی غلطی بھی نہیں ہو سکتی کیونکہ تمام کتب تاریخ میں جہاں کہیں اس تحریر کو نقل کیا گیا منگل کا ہی دن تحریر ہے.موجودہ زمانے میں کتب تقویم ہر شخص کو دستیاب ہیں جن سے ہجری 1 سے موجودہ سال ہجری تک اس قسم کی صحیح معلومات حاصل کی جا سکتی ہیں کہ مہینہ کی کس تاریخ کو کون سا دن تھا.اور یہ کام آج کل کے بچے بھی با آسانی کر لیتے ہیں.یہ تحریر حضرت حسین سے غلط منسوب کی گئی ہے کیونکہ روانگی کا دن اگر منگل قرار دیا جائے تو مکہ سے روانگی کی تاریخ 10 ذی الحجہ ثابت ہوتی ہے کیونکہ ہجری 60 کے پہلے دس دنوں میں منگل کا دن یا تو تیسری کو پڑتا تھا یا دسویں کو اور تیسری ذی الحجہ کو روانگی کی تو کوئی روایت ہے ہی نہیں اور آٹھویں کو منگل کا دن ہی نہ تھا - 

لہذا یوم روانگی اس تحریر کے مطابق جب منگل کا دن تھا تو لا محالہ ماننا پڑے گا کہ حضرت حسین اور ان کے ساتھی 10 ذی الحجہ کو بعد ادائے فریضہ حج روانہ ہوے اور تیس منزلوں کی مسافت تیس دنوں میں طے کر کے 10 محرم ہجری 61 کو کربلا کے مقام پر پہنچے یا پہنچ سکتے تھے اس سے پہلے نہیں.
ابو محنف اور اس قماش کے دوسرے راویوں کو اس مشکل کا سامنا تھا کہ اگر یہ راوی روانگی کی صحیح تاریخ 10 ذی الحجہ کا اظہار کر دیتے تو پانی بند کرنے اور طرح طرح کے وحشیانہ مظالم اور زبردست جنگ کی من گھڑت روایتیں کس طرح سچ ثابت کر کے دکھاتے،اس مشکل کا حل اس طرح نکالا کہ تاریخ روانگی دو دن پہلے کی دکھائی اور پھر دو منزلوں کو ایک دن میں طے کروا دیا اس کے کے بعد تیس منزلوں کے ناموں کو چھپا کر صرف گیارہ یا بارہ منزلوں کے نام ظاہر کے گیے اور حج کا فریضہ چھوڑ کر روانہ ہونا بھی عجیب بات تھی اس لئے حضرت حسیں سے یہ تحریر لکھوا دی تا کہ ٨ زی الحجہ کو روانگی میں کوئی شبہ نہ رہے.اور مورخین نے روایت پسنندانہ ذہنیت کے تحت اسے تقل در نقل بھی کر دیا


روایت پرستی کی عام وبا نے ہمارے مصنفین کو ان قسم کی غلط روایتوں کی چھان بین اور تنقید کی جانب متوجہ نہ ہونے دیا ورنہ اب سے ایک ہزار سال پہلے ہی اس طرح کی جھوٹی روایتوں کا پول کھل گیا ہوتا -
ابو محنف نے یہ بھی بیان کیا ہے کہ یہ خط لے کر جب حضرت حسین کے قاصد قیس بن مسہر چلے تو کوفہ پہنچنے سے پہلے ہی راستے میں مقام قادسیہ پر گرفتار کر لئے گیے اور گورنر کوفہ نے انہیں اعانت جرم میں مروا ڈالا ایسی صورت میں ظاہر ہے کہ خط تو حضرت حسین کے پاس نہ پہنچا اور کوفیوں کے پاس پہنچنے کا تو کوئی امکان ہی نہ تھا اگرچہ مجرم کی تلاشی کے بعد حکومت کے قبضے میں آ گیا ہو گا.اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ 80 برس سے زیادہ مدت گزر جانے کے بعد ابو محنف کے ہاتھ یہ خط کیسے آ گیا کہ بسم الله سے وسلام و علیکم تک حرف با حرف نقل کر دیا .

ابو محنف ہی کی دوسری روایت میں حضرت حسین کے رضاعی بھائی عبدللہ بن یقطر کے ہاتھ اس خط کا ارسال ہونا بیان ہوا ہے اور کہا گیا ہے کہ قادسیہ کے مقام پر قیس نہیں عبدللہ ہی گرفتار ہو کر گورنر کوفہ کے پاس بھیج دیا گیا تھا

ناسخ التواریخ
کا شیعہ مصنف کیا کہتا ہے
عبدللہ بن یقطر نے حسین کے خط کو جیب سے نکال کر پارہ پارہ کر دیا اور ایسا چور چور کیا کہ اس سے کوئی مطلب نہ پا سکے . (صفحہ 213 جلد 6 از کتاب دوئم )

یہی مصنف فرماتے ہیں کہ جب قاصد سے پوچھا گیا کہ خط کیوں پھاڑ دیا تو جواب دیا .کہ اس لئے خط پھاڑا کہ تو نہ جان سکے کہ اس میں کیا لکھا ہے (صفحہ 214 )

جن حالات میں اور جس مقصد کے تحت یہ سفر ہو رہا تھا راویوں کے بیان کے مطابق حضرت حسین اور فرزوق شاعر اور دوسرے لوگوں کو زبانی کوفہ کے حالات اور حکومت کے انتظامات کی اطلاع مل چکی تھی تو پھر حضرت حسین کو کوئی اطلاع بھیجنی تھی تو زبانی بھیجتے قاصد کی زبان بھی تو خط ہی ہوتی ہے اور خط کا تو پکڑا جانا یقینی ہو سکتا تھا جب کہ زبان کا تو ثبوت کوئی نہیں ہوتا اور پھر اگر خط ہی بھیجنا تھا تو اس میں ان غیر ضروری تفصیلات کی کیا ضرورت تھی  ؟
" ہم جب مکہ سے چلنے لگے تو ذی الحجہ کی تاریخ آٹھ تھی دن منگل کا تھا اور یوم ترویہ تھا "

 اس سے وہ بات صاف ظاہر ہوتی ہے جس کا اشارہ پچھلی قسط میں کیا گیا ہے.بات صاف ہے کہ نہ تو یہ تحریر حضرت حسین کی ہے نہ انہیں اس کی ضرورت تھی یہ ان ہی راویوں کی خود ساختہ ہے ورنہ کیسے ممکن ہے کہ حضرت حسین اپنی روانگی کی تاریخ اور دن بھی نہ صحیح لکھتے.

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
قسط نمبر 27    ٭٭٭٭-ابتداء ِ  شیطان نامہ-٭٭٭٭ -قسط نمبر  29 

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔