میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

بدھ، 25 مئی، 2016

شیطان نامہ - قسط نمبر 29 . خلافت کا زیادہ حق دار

مسلم کے بھائیوں کی ضد اور کوفیوں کا اصرار.
مورخین کا بیان ہے کہ مسلم کے قتل کی خبر جب حضرت حسین کو سفر میں ملی تو آپ نے واپس لوٹ جانے کا ارادہ کیا لیکن مسلم کے بھائی جو آپ کے ساتھ تھے رکاوٹ بنے.
(شیعہ مورخ .عمدہ الطالب فی انساب آل ابی طالب صفحہ 179 ).
فرزندان عقیل نے ان سے (حسین ) کہا واللہ ہم ہر گز ہر گز واپس نہ لوٹیں گے یا تو اپنا انتقام لیں گے یا ہم سب بھی اپنی جانیں دے ڈالیں گے. (مقاتل الطالبین صفحہ 110 متبوعہ مصر)

یہ حضرات جوش انتقام میں اس طرح مغلوب ہو گئے کہ صورت حال کا صیح جائزہ بھی نہ لے سکے اور اس سیاسی قتل کو ذاتی جھگڑا قرار دے دیا -
حالانکہ رسول الله نے حجه الوداع کے خطبے میں اپنے ابن عم ابن ربیعہ بن حارث بن عبد المطلب کا خون معاف کر کے ذاتی انتقام کی رسم کی حوصلہ شکنی فرما دی تھی .
طبری نے تو وضاحت کے ساتھ بیان کیا ہے کہ دو اسدیوں نے مسلم کے مقتول ہو جانے کی خبر حضرت حسین کو دی تو کوفہ کے حالت کو پیش نظر آپ سے کہا کہ وہاں ہر گز نہ جائیں کیونکہ کوئی ہمدرد شیعہ آپ کا وہاں نہیں ہے.( صفحہ 225 جلد 6 طبری.)
یہ سنتے ہی برادران عقیل جوش انتقام سے اٹھ کھڑے ہوئے . (صفحہ 225 ایضا).

اس خبر کے بارے میں گفتگو کرتے ہوے حضرت حسین نے یہ بھی جتا دیا کہ ہمارے شیعوں نے ہی ہم سے غداری کی. (صفحہ 226 جلد 6 طبری).

ایسی حالت میں اگر یہ لوگ ضد نہ کرتے اور واپسی پر آمادہ ہو جاتے تو یہ سانحہ پیش ہی نہ آتا.
ناسخ التواریخ لکھتا ہے کہ
حضرت حسین نے فرزندان عقیل کی جانب نظر ڈال کر کہا۔ 

"   مسلم مار ڈالا گیا اب کیا راۓ ہے؟"
 
تو انہوں نے جواب دیا ، " واللہ ہم سے جو کچھ ہو سکے گا ان کے خون کا بدلہ لینے کی کوشش کریں گے یا وہی شربت ہم بھی نوش کریں گے جو انہوں نے نوش کیا" 


تو اس پر حضرت حسین نے فرمایا، " ان کے بعد ہم کو بھی زندگانی کا کیا لطف رہے گا". (صفحہ 216 جلد 6 از کتاب دوئم .ناسخ التواریخ .مطبوعہ ایران.)

یہی روایت مقتل ابی محنف ، طبری البدایه میں بھی ہے اور اخبار الطوال جو ان سب سے قدیم تاریخ ہے اس میں بھی یہ روایت عمر بن سعد کی کہانی کے ساتھ موجود ہے جس کا ذکر بچھلے اوراق میں ہو چکا ہے.

فرزندان عقیل جو حسین کے ساتھ تھے کہا، " ہمارے بھائی مسلم کے مارے جانے کے بعد ہمیں بھی زندہ رہنے کی حاجت نہیں ہم ہرگز واپس نہ لوٹیں گے حتیٰ کہ اپنی جانیں دے دیں " حسین نے اس پر فرمایا، "ان لوگو ں کے بعد پھر ہمیں بھی زندگانی کا کوئی لطف نہ رھے گا"
اس گفتگو کے بعد آگے روانہ ہوئے جب زیالہ پہنچے تو محمد بن اشغث اور عمر بن سعد کا فرستادہ قاصد ملا کیونکہ مسلم نے اپنے قتل ھو جانے سے پہلے ان لوگوں سے کہا تھا جو کچھ میرا حال ھوا ھے اور اہل کوفہ نے جو میرے ہاتھ پہ حسین کے لیے بیعت کر کے غداری کی ہے وہ سب کچھ لکھ کر حسین کو بھیج دینا ۔ (صفحہ 310 اخبار الطوال۔)

برادران مسلم کے بضد ہونے کی روایت خود حضرت حسین کے پوتے زید بن علی بن الحسین اور حضرت عبداللہ بن عباس کے پوتے داؤد بن علی بن عبداللہ بن عباس ان دونوں کی سند سے بھی بیان کی گئی ہے۔

برادران مسلم کی ضد تو جذبہ انتقام کے تحت تھی لیکن جب ان 60 کوفیون نے جو حضرت حسین کو عراق لے جانے کے لئے مکہ پہنچے تھے اور آپ کے قافلے کے ساتھ آ رہے تھے اصرار کیا اور ترغیب دی کہ مسلم کی تو اور بات ہے جب آپ کوفہ پہنچیں گے تو سب لوگ آپ کی طرف دوڑیں گے۔

طبری نے یہ قول نقل کیا ہے ۔ کہ حسین سے ان کے بعض ساتھیوں نے کہا واللہ آپ کی بات اور ہے کجا آپ کجا مسلم ۔ آپ جب کوفہ میں قدم رکھیں گے تو سب لوگ آپ کی طرف دوڑیں گے۔ (صفحہ 225 جلد 6 طبری۔)

حضرت حسین کا یہ قول اگر درست نقل ہوا ہے کہ تم لوگوں کے بعد ہمیں بھی ذندگانی کا کچھ لطف نہ رہے گا تو ظاہر ہوتا ہے کہ صرف جذبات سے کام لیا گیا لیکن واپسی کا ارادہ اس وجہ سے ترک کر دینا اور سفر جاری رکھنا درست نہ تھا لیکن اپنی دانست میں حضرت حسین اپنے آپ کو خلافت کا زیادہ حق دار اور مستحق سمجھتے تھے اور اپنا حق لینا اپنے اوپر واجب کر چکے تھے ۔
مسلم کے واقعہ سے آپ نے درست نتیجہ اخذ کیا تھا کہ اس حالت میں کوفہ جانا مفید نہ ھو گا - لیکن کوفیوں کے ترغیب دلانے سے کہ آپ کی شخصیت مسلم کی طرح نہیں آپ کی صورت دیکھتے ھی لوگ آپ کی طرف دوڑیں گے حصول مقصد کے جذبے نے ساری احتیاط پر قابو پا لیا اور جس طرح اپنے عزیزوں اور ہمدردوں کے مشوروں کو نظر انداذ کر کے آپ مکّہ سے روانہ ہوے تھے وہی خوش فہمی آگے بڑھنے کی محرک ہوئی۔

آزاد اور بے لاگ مورخ دوزی نے بھی انہی خیالات کا اظہار کرتے ہوئے لکھا ھے کھ حضرت حسین کہ کوفیوں پر اتنا اعتماد تھا کہ ان کے خطوط لوگوں کے سامنے فخریہ پیش کرتے تھے ان خطوط میں التجا کی گئی تھی کہ وہ آ کر قیادت کریں ہم آپ کو خلیفہ تسلیم کر لیں گے ۔ آخری قاصد جو بڑی طویل درخواست لایا تھا اس میں ڈیڑھ سو صفحات پر لوگوں کے دستحط تھے ۔
حسین کے دور اندیش دوستوں نے لاکھ منت سماجت کی کہ اپنے کو جوکھم میں نہ ڈالیں کہ ان لوگوں نے آپ کے والد سے بھی غداری کی اور دھوکہ دیا مگر حسین نے ان کی نصیحت پر کان نہ دھرے اور شیخی سے کہتے رہے کہ ان خطوط کی تعداد ایک اونٹ کے بوجھ کے مساوی ھے،مسلم کے قتل کی خبر اس وقت ملی جب وہ کوفہ سے زیادہ دور نہ تھے ان کے ساتھ مشکل سے 100 نفوس تھے جن میں زیادہ تر ان کے خاندان کے افراد تھے اور ان کی اس خوش فہمی نے ان کا ساتھ نہ چھوڑا اور ان کو یقین تھا کہ لوگ ان کے استقبال کے لیے پھاٹک پر موجود ھوں گے اور تمام اہلیان شہر ان کے مقصد کی خاطر ہتھیار سنبھال لیں گے ۔( صفحہ 46۔ تاریخ مسلمانان اسپین مصنف ریہاٹ دوذی۔ ترجمہ فرانسس گریفن ۔مطبوعہ لنڈن 1913۔)


 بنیادی وجہ یہ تھی کہ
اپنی دانست میں حضرت حسین اپنے آپ کو خلافت کا زیادہ حق دار اور مستحق سمجھتے تھے اور اپنا حق لینا اپنے اوپر واجب کر چکے تھے ۔ مُفتی ۔


خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔