میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

پیر، 30 مئی، 2016

شیطان نامہ - قسط نمبر 31 . کوفی یا دمشق

کوفہ کی راہ چھوڑ کر دمشق کی طرف رخ کرنا.
شیعہ راویوں کا بیان ہے کہ کوفہ کے قریب پہنچ کر جب حالات کا صحیح علم ہو گیا تو حضرت حسیں نے امیر یزید کے پاس جانے کے لئے وہ راستہ اختیار کیا جو ملک شام جاتا ہے 

مصنف عمدہ الطالب لکھتے ہیں
مسلم کے قتل کی خبر سن کر حسین نے لوٹ جانے کا ارادہ کیا مگر فرزندان عقیل آڑے آئے تو آپ آگے کو چلے یہاں تک کے کوفہ کے قریب پہنچے وہاں حر بن یزید الریاحی سے ملاقات ہوئی جس کے ساتھ ایک ہزار سوار تھے اور اس نے آپ کو کوفہ لے جانے کا ارادہ کیا آپ نے منح کیا اور ملک شام کی طرف مڑ گئے تا کہ یزید بن معاویہ کے پاس چلے جائیں لیکن جب کربلا پہنچے تو آگے جانے سے روک دیا گیا اور عبید الله بن زیاد کا حکم ماننے کے لئے کہا گیا آپ نے اس سے انکار کر دیا اور یزید کے پاس ملک شام جانا پسند کیا. (عمدہ الطالب فی النساب آل ابی طالب صفحہ 179 طبح اول .مطبوعہ لکھنو)

ابو محنف کا بیان ہے جسے دوسرے راویوں نے بھی روایت کیا ہے کہ قادسیہ و الازیب کے راستے سے مڑ کر آپ زو حسم اور قصر مقاتل ہو کر ان مقامات پر ٹھہرتے ہوے کربلا گئے تھے .حضرت ابو جعفر محمّد ( الباقر) اپنے والدین اور دادا کے ساتھ کربلا میں موجود تھے وہ اس وقت اتنے چھوٹے تھے کہ شاید خود تو کوئی بات یاد نہ ہو گی لیکن اپنے والد اور عزیزوں سے حالات ضرور سنے ہوں گے۔
ان سے ایک دفعہ ایک شیعہ راوی عمار الدہنی نے پوچھا کہ مجھ سے قتل حسین کا واقعہ اس طرح بیان کرو کہ گویا میں خود وہاں موجود تھا اور اپنی آنکھوں سے یہ واقعات دیکھ رہا تھا تو آپ نے فرمایا .
تو آپ نے فرمایا کہ حسین بن علی کو جب مسلم بن عقیل کا خط ملا تو آپ ابھی اس جگہ پہنچے تھے جہاں سے قادسیہ تین میل دور تھا کہ حر بن یزید تمیمی سے ملاقات ہوئی اس نے پوچھا،
" آپ کہاں جا رہے ہیں؟"
 فرمایا، " اس شہر میں جانا چاہتا ہوں،
تو حر نے کہا ،
"آپ لوٹ جائیے وہاں مجھے آپ کے لئے کسی بہتری کی امید نہیں ہے "
اس پر آپ نے لوٹ جانے کا ارادہ کیا اور مسلم کے بھائی جو آپ کے ساتھ تھے آڑے آئے اور کہا واللہ ہم ہر گز نہ لوٹیں گے جب تک ہم اپنا انتقام نہ لیں یا ہم بھی سب قتل نہ ہو جائیں تو آپ نے فرمایا کہ تمھارے بعد ہمیں بھی زندگانی کا کوئی لطف نہیں یہ کہہ کر آپ آگے روانہ ہو گئے اتنے میں عبید الله کا لشکر سامنے آ گیا تو کربلا کی جانب پلٹ گئے(صفحہ 220 جلد 6 طبری.)

حضرت ابو جعفر محمّد ( الباقر ) کی اس روایت کی تصدیق عمدہ الطالب کے اس بیان کی تائید سے ہوتی ہے کہ حضرت حسین از خود اس راستہ کی طرف مڑ گئے تھے جو کربلا ہو کر دمشق جاتا ہے نہ کہ آپ کو گھیر گھار کر اس راستہ کی طرف چلنے پر مجبور کیا گیا تھا،


جیسا کہ من گھڑت روایتوں میں درج کیا گیا ہے . آپ نے امیر یزید کے پاس دمشق جانے کی راہ اختیار کی تھی .

(ناسخ التواریخ صفحہ 222 جلد 6 از کتاب دوئم) لکھتے ہیں کہ حسین الازیب اور قادسیہ کے راستے سے پلٹ گئے اور بائیں جانب روانہ ہوئے.اور یہ راستہ وہی ہے جو قصر مقاتل و قریات طف ہو کر سیدھا دمشق کو جاتا ہے جس سے ملحقہ میدان کربلا تھا.





٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔