میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

اتوار، 22 مئی، 2016

بھکاریوں کی گلوبل ورلڈ میں اقسامِ جدید !

٭ -  منہاج القرآن کے نام پر ، محمد بن عبداللہ کو جہاز کا ٹکٹ دے کر بلوانا ۔
٭ -  بہشتی دروازے کے نیچے سے گناہ گاروں کو پاک کرنا ۔
٭ -   قیامِ خلافت کے لئے چندہ مانگنا ۔
٭ -   مودودیوں کا ، غریبوں (اپنی جماعت ) کا پیٹ بھرنے کے نام پر ، زکات بھیک اور خیرات مانگنا ۔
٭ -   ماں نے نام پر کینسر ہسپتال کی کمائی میں ، " إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ " کا ٹچّو لگانا ۔
٭ -   دیوبندیوں کا اپنی احیائے ، خلافت یا منہاج علیٰ النبوۃ کا دعویٰ کرنا ۔ یا
٭ -   بریلویوں ، کا گلے پھاڑ ، پھاڑ کر اللہ کو جگانا ۔
٭ -   شیعوں کا ، تصاویر ، سر کٹا جسم ، خیالی تصاویروں کے ہجوم میں خود کو گریہی و زاری میں کمالِ اوج پر پہنچانا ۔
یہ سب شیعانِ ریال و درھم کی کرشمہ سازی ہے ۔
تو احمدی ، قادیانی یا مرزائیوں کو ، فراڈیوں کا لقب دینا ،
بالکل ایسا ہے ، کہ جیسا
شیشے میں خود کو دیکھ کر ،عقل مند  اور فرستادءِ خدائے یزداں کہنا  اور اپنے علاوہ باقیوں کو جاہل اور پیرو کارانِ خدائے اہر من گرداننا !
واہ رے انسان تیری ابلیسی ، چالبازیاں !

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
ایک دوست نے اعتراض داغا :عمران خان کو لازمی ڈالنا ھے بیچ میں بات خواہ کوئ بھی ھو۔ آپ کو عمران فوبیا ھو گیا ھے۔

عرض کیا !

ایک بھکاری ایدھی بھی ہے اُسے میں نے نہیں ڈالا ۔

غور کرو نوجوان !

تو فرق محسوس ہو گا !

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔