میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

اتوار، 29 مئی، 2016

مقدّس مہینہ !

اُس نے اپنی کار ایکڑوں پر پھیلے ہوئے گوداموں کے نزدیک روکی ، ایک شخص دوڑتا ہوا کار کے پاس آیا ، اُس کے ہاتھ میں ایکسپریس اخبار کا رنگین صفحہ تھا ۔
" ہاں بھی منشی کوئی ہے کام کی خبر ؟ " کار سے اترنے والا اپنی توند سنبھالتا ہوا بولا ۔
اور منشی نے اخبار کا صفحہ سیٹھ الحاج عبدالرزاق کو بڑھا دیا ۔
سیٹھ نے اخبار پر نظر ڈالی اور بولا ،
"واہ جی واہ ، لگتا ہے اِس دفعہ انشاء اللہ اللہ رمضان میں بہت نفع ہوگا ،
کیوں منشی جی ۔ گوداموں میں تمام مال حفاظت اور احتیاط سے پڑا ہے ؟ "
" جی مالک ! اللہ نے چاہا تو رمضان کے مقدس مہینے کی برکت سے کافی منافع ہوگا " منشی بولا ۔
" وہ تو جی بہت سے لوگوں ، نے مال اٹھانے کے لئے فون کرنا شروع کر دیئے ہیں اور ریٹ بھی اچھے دے رہے ہیں "
" ابھی نہیں ، ابھی نہیں ، بولو ابھی مال نہیں آیا راستے میں ہے " سیٹھ بولا ،
" رمضان شریف میں آخری عشرے میں روزہ داروں کو کھلانے کا بہت زیادہ ثواب ہے ،
اور رقم بھی اچھی ملتی ہے !
اور پھر ہمیں ، رقم نہیں، 
ثواب زیادہ کمانا ہے ،ثواب کیا سمجھے ؟
اور پھر ڈھائی فیصد زکاۃ بھی دینی ہے نا !

" جی جی ، مالک مجھے معلوم ہے ،
جی مالک ، میں نے چھانٹی کر کے مال گودام میں رکھوایا ہے اور
زکاۃ کا حصہ الگ کر دیا ہے "
" گودام میں تو نہیں رکھا ؟ " سیٹھ بولا
کہیں پچھلے سالے کی طرح ، دکانوں پر نہ نکل جائے ، بہت شرمندگی ہو گی "

یہاں سے کچھ دور بھٹے کے نزدیک ، جھگیوں کے باہر ننگ دھڑنگ بچے کھیل رہے تھے ، اور کپڑے کے بنے ہوئے سائیبان کے نیچے ، کاشف مسیح اور اُس کی بیوی بیٹھے ہوئے تھے ۔
"الزبتھ پریشان نہ ہو ! " کاشف مسیح بولا
" بس مسلمانوں کا مقدّس مہینہ گذرنے دے ، ساری چیزیں پھر سے سستی ہوجائیں گی "

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔