میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

پیر، 9 مئی، 2016

ایک جاہل کی تحریر !


اسلام علیکم ،
پورے پاکستان میں جشن کا سماء ہے ہر شخص فیس بک پر مبارکباد دے رہا ہے۔
کہ ایک مسلمان ، ٹرک ڈرائور کا بیٹا لندن کا میئر بن گیا ہے۔ لیکن یہ نہیں سوچ رہا کہ وہ خود کب کسی موچی، نائی ، کسائی یا بس ڈرائیور کو ووٹ دے گا -
آپ کسی ٹرک ڈرائیور کے لئے ووٹ مانگ کر دیکھ لی جیئے یہ لوگ آپ کو خبطی کہیں گے اور کہیں گے اس کا دماغ گھوم گیا ہے۔
بھلا کوئی ڈرائیور یا غریب آدمی حکومت کیسے چلائے گا؟
اس کے علاوہ آپ اپنا آئین دیکھ لیں وزارت عظمیٰ کےلئے جو شرائط ہیں ان سے آپکو سب واضح ہو جائے گا۔
لہذا یاد رکھیں لندن والوں نے کسی مذہب یا پیشے کو ووٹ نہیں دیا۔
بلکہ کلچر،ثقافت،تہذیبو ں کے تصادم سے با لا تر رہتے ہوئے ایک نئی مثال قائم کی ہے جسے انسانیت کہتے ہیں۔

نوٹ۔ اسلام میں ایک امیر کی جو شرائط ہیں میں ان سے مکمل واقف نہیں لیکن جتنا جانتا ہوں انہیں دل سے قبول کرتا ہوں۔
واسلام۔


٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
مہاجر زادہ کا جواب !



بس ڈرائیور کا بیٹا ، لندن کے پاکستانی بیکن ھاؤس سے بہترین سکولوں میں پڑھا ،
لندن کی یونیورسٹی سے قانون کی ڈگری حاصل کی ،
وہاں کی عدالتوں میں بحیثیت وکیل کام کیا اور کیس جیتے ،

وزیر اعظم گورڈن براؤن کی وزارت میں اقلیتی امور کا منسٹر آف سٹیٹ رھا
، پھر منسٹر آف سٹیٹ ٹرانسپورٹ ہو گیا ۔
پھر وزیر اعظم گورڈن براؤن کے ہٹنے کے بعد ، ملی بینڈ کی شیڈو کیبنٹ میں شیڈو سیکریٹری آف سٹیٹ برائے انصاف ، شیڈو لارڈ چانسلر اور شیڈو منسٹر فار لندن رہا ۔
2013 میں اِس نے خواہش ظاہر کی کہ وہ ، لندن کے میئر کا انتخاب لڑے گا !
پہلی پولنگ میں ، پہلے نمبر پرآکر 44 اعشاریہ 2 فیصد ووٹ لئے اور دوسرے نمبر پر آنے والے نے 35 فیصد ووٹ لئے یوں وہ 10 اعشاریہ 8 فیصد ووٹ لے کر جیت گیا ،

انگریز کہتے ہیں کہ 50 فیصد سے کم ووٹوں کو ہم مانتے ہی نہیں ، اب دوسرے 11 امیدواروں کو جو ووٹ پڑے ہیں وہ لوگ اب ان دونوں امید وار میں سے کسی ایک کو یا دونوں کو 50، 50 فیصد یا اس سے زیادہ ووٹ دیں ۔

یوں بس ڈرائیور کا بیٹا ، 56 اعشاریہ 9 ووٹ لے کر جیت گیا !

اگر کوئی رکشہ ڈرائیور ، ٹیکسی ڈرائیور ، تانگہ ڈرائیور اور گدھا گاڑی ڈرائیور کا بیٹا ، اِس درجے پر پہنچے تو لوگ صرف ،
تضحیک میں اُس کے باپ کے پیشے کو اچھالتے ہیں ۔

مہاجرزادہ بمقابلہ سن آف سوائل !  

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔