میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

جمعرات، 5 مئی، 2016

سموسہ چنے اور لال چٹنی ..

آج ایک تصویر پر نظر پڑی ایک پلاسٹک پلیٹ میں سموسہ چنے اور لال چٹنی .. ایک چمچ کے ساتھ ساتھ رکھے ہوئے دیکھا تو کالج کا زمانہ یاد آ گیا .
ویسے تو سموسہ ہر کالج کینٹین کا اہم ترین آئٹم ہوتا ہے .. لیکن '' کنگز اینڈ کوئنز ان ''کے آلو سموسوں کی تازگی مہک اور ذائقہ بے مثال تھا. .
ہاف بریک میں کینٹین پر انڈر پراسیس ڈاکٹرز کی یلغار ہوتی اور فی کس دو دو سموسے اور ایک ٹھنڈی ٹھار بوتل اکثر ہونہار ڈاکٹروں کا من بھاتا ناشتہ ہوتا کچھ انٹلکچوئلز چائے کافی یا دودھ پتی سے بھی شغل کیا کرتے. .
کینٹین کے دو الگ الگ کمرے تھے . بڑا ہال کمرہ ''کنگز ان '' کہلاتا جہاں لکڑی کی کرسیاں اور چوکور میز دھرے ہوتے .. یہاں کے ای کے شہزادوں کا راج ہوتا .. کوئی کوئی ہاوس آفیسر یا اکا دکا ایم او (میڈیکل آفیسر) بھی پایا جاتا .. میو اسپتال کے گھڑی وارڈ کے سامنے ہونے کی وجہ سے مریض اور ان کے تیمار دار بھی یہیں سے اپنی پیٹ پوجا کا انتظام کیا کرتے. .
کنگز ہال کے دروازے کی دائیں جانب نسبتا چھوٹے کمرے میں دیوار گیر صوفے دھرے ہوتے تھے اور درمیان میں دو لمبی لکڑی کے میز جوڑ کر ایک سینٹرل ٹیبل کا کام لیا جاتا. . یہ کمرہ ''کوئینز ان '' کہلاتا .. یہاں صرف مستقبل کی ہونہار لیڈی ڈاکٹرز کا راج ہوتا کبھی کبھار کوئی پردہ دار تیماردار خاتون بھی ادھر سموسے یا برگر کھاتی پائی جاتی. .
روایتی کینٹین والی مہک ادھر بھی ہوتی لیکن اس مہک پر تازہ سموسوں, گرما گرم برگر , سینڈوچز, بھاپ اڑاتی چائے یا برف جیسی ٹھنڈی کولڈ ڈرنک کی خوشبو غالب آ جاتی. .. .

اسی کینٹین کی ایک بغلی گلی سے اوپر کو ایک زینہ چڑھتا جو اوپر ریڈنگ روم میں لے جاتا. . اصولی طور پر یہ ریڈنگ روم تمام اسٹوڈنٹس کے لیے تھا لیکن عملی طور پر اس میں کلاسز بنک کرنے والے بوائز یا وائیوا کی تیاری کرتے کتابی کیڑوں کا قبضہ ہوتا تھا. .
اگر کوئی خاتون اسٹوڈنٹ اوپر چلی جاتی تو اسے اتنا عجیب رسپانس ملتا کہ وہ خود ہی خفیف ہو کر اتر آتی ..

جب کالج سے نکل کر میو ہسپتال کی لمبی غلام گردشوں اور تھکا دینے والے وارڈ میں کھپنے لگے تو کینٹین بھی بدل گئی .. اب بی وی ایچ (بلاول وکٹوریہ بلاک) المعروف گورا وارڈ کی پرائیویٹ کینٹین کے نسبتا آزاد ماحول میں چائے برگرز اڑانے لگے .
کنگز اینڈ کوئینز ان کے برعکس یہاں دونوں اصناف کے اسٹوڈنٹس اکٹھے ایک ہی میز پر بیٹھ سکتے تھے .. آٹومیٹکلی اس ٹرانزیشن کا مقصد صرف یہی سمجھ آتا تھا کہ یہ کینٹین کالج انتظامیہ کے زیر اثر نہ تھی. . اور مکمل طور پر کمرشل بنیادوں پر چلائی جا رہی تھی. .

اسٹوڈنٹس تو سستے کھانے کا متلاشی ہوتا ہے.. اس کینٹین سے بھی اکتائے تو میو اسپتال گھری وارڈ کی پارکنگ سے دھنی رام روڈ کی طرف کھلنے والے دروازے سے باہر نکل جاتے .. سامنے ہی ایک قدیمی دیسی بیکری تھی .. جس کے تازہ تازہ بن میں اسی بیکری کے دیسی مکھن کی ٹکیہ لگوا کر شامی کباب ڈلوا لیا جاتا اور مزیدار برنچ تیار. . چکن شامی کباب میں چند ریشے چکن اور باقی تمام چنے کی دال ہوتی لیکن ذائقہ پورے چکن کا ملتا. .
بیکری میں بہت اندھیرا تھا جسے سیاہ چھت سے ٹنگا پیلا یرقان زدہ بلب بھگانے کی ناکام سی کوشش کیا کرتا. .
بیکری کے مالک نے ایک لمبی سی تلوار نما چھری رکھی ہوتی تھی جو ڈبل روٹی بن کاٹنے کے ساتھ ساتھ مکھن اور کباب کو پھیلانے کا کام بھی کرتی . ہر بن کباب بنانے کے بعد بیکری مالک ایک بد رنگے کپڑے سے اس تلوار کو صاف کرتا. .اور اگلا آرڈر تیار کرنے لگتا . ..
کبھی بند یا کباب مزید منگوانا ہوتے تو ایک اونچی آواز دی جاتی اور بیکری کی نیم چھتی یا عقبی کمرے سے بنیان شلوار میں ملبوس کوئی کاریگر مطلوبہ آئٹم پکڑا جاتا..
گرمی , حبس , اندھیرے اور گھٹن سے عبارت اس بیکری کے بن کباب بہت روشن اور تازہ ہوتے . کبھی کوئی اسٹوڈنٹ فوڈ پوائزننگ کا شکار نہ ہوا. .

کلاسز بڑی ہوئیں تو کے ای کی پہچان ''پٹیالہ بلاک''میں لیکچرز ہونے لگے .. وہی بلاک جہاں مشہور زمانہ فلم جناح کی عکس بندی بھی کی گئی تھی .. اس روز تمام انار کلی بازار قائد اعظم کی ایک جھلک دیکھنے کے لیے کالج میں امنڈ آیا تھا. .

خیر اب پٹیالہ بلاک سے لنچ بریک میں کنگز اینڈ کوئنز ان یا گورا وارڈ کی کینٹین اور دھنی رام روڈ والی بیکری بہت دور پڑتی تھی سو اس دفعہ نظر انتخاب انار کلی میں موجود برگر شاپس پر جا ٹکی. . ''پوپسیز '' کا آملیٹ برگر ذائقے میں بےمثال تھا .. پوپسیز کی چھوٹی سی دکان کے اندر کارڈبورڈ سے دو کیبنز بنا دیے گے تھے. دل چاہے تو برگر پیک کروا لیں اور انارکلی میں ونڈو شاپنگ کے ساتھ ساتھ ایک ہاتھ سے برگر اور دوسرے ہاتھ سے کوک کے چسکے لیتے چلیں. . ورنہ ڈائن ان کیجیے. .

اگر جیب خرچ اجازت دے تو آملیٹ برگر میں شامی بھی ڈلوا لیں .. برگر والے کاریگر نے ایک سلور کی بڑی سی کیتلی میں ڈھیر سارے انڈے پھینٹ کر آملیٹ کا ملغوبہ تیار کر رکھا ہوتا. . آرڈر کے مطابق کیتلی کی ٹونٹی سے لمبی دھار مین آملیٹ بڑے سے توے پر گراتا. .اور لمبے برگر بن کے سائز کا مزیدار پھولاپھولا سنہرا آملیٹ تیار ہو جاتا . اب بن کو بھی اسی توے پر سینکتا آملیٹ اٹھا کر بن پر رکھتا . بند گوبھی اور پیاز کے لچھے چھڑکتا اور دیسی کیچ اپ کی دھار سلاد کے اوپر ڈالتا .. اب بن کے تل والے حصے سے اسے ڈھک دیتا .. اپنی لمبی چھری جو کفگیر کا کام بھی دیتی اس سے برگر کمال مہارت سے اٹھاتا اور ایک خاکی لفافے میں کھسکا دیتا. . خاکی لفافے کی گرمی اور برگر کی نرمی .. املیٹ کی چکنائی اور کیچ آپ کی سرخی سب مل کر ایک سگنیچر اروما signature aroma تیار کرتے . جو بھوکے پیٹ میں'' ھل من مزید'' کی تڑپ پیدا کرتی. .

زیادہ بھوک لگی ہے تو برگر والے کے پیچھے ہی پوپسیز کا تندور لگا ہے جہاں میلی بنیان اور شلوار میں ملبوس نانبائی دھڑا دھڑ تازہ تازہ خستہ نان نکال رہا ہے .چاہیں تو چکن نان لیں یا مٹن ..چوائس از یورز. ..

پٹیالہ کا ایک دروازہ انار کلی کی طرف کھلتا تھا.. بڑے گیٹ پر تو عموما تالا لگا رہتا تھا. .لیکن چھوٹا گیٹ زنجیر سے اڑا کر اتنا کھول دیا جاتا تھا کہ مشکل سے ہی سہی لیکن ایک بندہ گزر سکے. .
اس گیٹ کے باہر کالج سے نیلا گنبد کی سمت میں دیکھیں تو گنے کے جوس والے اپنے اسٹال سجائے کھڑے ہیں . . گنے کا جوس مشہور تھا شیشے کا بڑا گلاس لیں یا چھوٹا . جوس میں ادرک, کالا نمک یا لیموں ڈلوانا چاہتے ہیں تو اس کا بھی انتظام ہے. .
ہاں اگر موڈ بدل جائے تو موسمی سیب یا انار کا جوس بھی مل سکتا ہے. . ..

یہیں ایک فرنچ فرائز والے نے بھی اپنا ساز وسامان سیٹ کر لیا .. بھائی سچ کہوں تو میں نے بہترین سائز اور شیپ کے عمدہ چپس کاٹنے کا طریقہ اس سے سیکھا. . اور برگر بنانا پوپسیز والے سے. .
اب جوس کے ساتھ ساتھ نان برگر یا فرنچ فرائز بھی لذت کام دہن کا انتظام کرنے لگے. . .

پھر ایک دن اس نان بائی پر قسمت مہربان ہوئی تو مال روڈ کے ایک پانچ ستارہ ہوٹل والے اسے لے گئے اور ہم اس نان سے محروم ہو گے. .. کبھی کبھار وہ نانبائی چمکتے سفید کلف زدہ عوامی سوٹ میں سنہری ڈائل والی گھڑی کلائی پر سجائے اپنی نئی موٹر سائیکل پر پرانے دوستوں سے ملنے آتا تو سمجھ آتی. .'' بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے'' ..

یہیں سامنے ایک پان والا تھا. . ایک روز شوق میں پان کھا لیا بتایا بھی کہ بھیا سادہ پان چاہیے خدا جانے پان والا شرارت کے موڈ میں تھا یا ڈاکٹروں پر کوئی غصہ تھا ایسا پان کھلایا کہ سارا دن سر چکراتا رہا خدا جانے کیسا پان تھا. .

وقت کے ساتھ ساتھ کھانے کی تلاش ہمارے گروپ کو مال پر بندو خان , سالٹ اینڈ پیپر . پیزا ہٹ . شیزان. اور پی سی کی ہائی ٹی تک لے گئی ..
پر خدا لگتی کہوں .. کنگز کوئنز اِن کا سموسہ اور پوپسیز کا برگر کبھی نہیں بھول پائی.

ڈاکٹر رابعہ خرم درانی .
زیر نظر تصویر. .
پٹیالہ بلاک کے ای ایم یو. ...

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔