میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

پیر، 23 مئی، 2016

برفی نامہ ـ ماھانہ چھٹیاں

برفی چھٹیاں گذار کر بابا اور ماما کے ساتھ واپس چلی گئی ۔
گذشتہ رات ، میں واش روم کیا تو نمنا نے میرے لیپ ٹاپ پر قبضہ کر لیا ۔
اُس کی ماما نے کہا ،
" ہٹو نمنا ،  لیپ ٹاپ مت چھیڑو !"
تو ماں کو کہتی ہے ۔
دادا بابا کا !
(یعنی آپ کا نہیں ۔ لہذا آپ کا مجھے ہٹانے کا کوئی حق نہیں )
یو ایس بی لائیٹ لیپ ٹاپ سے اتارتی اور پھر لگاتی اور سب کو کہتی
" نمنا خود "
میں آیا تو بہو نے ایک بار پھر کہا ،
" نمنا ہٹو ! "
تو بولی !
دادا بابا کا !
اور مجھے دیکھ کر بولی ،
"دادا بابا کا ، نمنا کا "
میں نے کہا ،
" نہیں نمنا کا "
تو چلائی !
" ماما ، نمنا کا " !


چم چم سکول سے آئی بولی
" آوا ، میں نمنا کو مِس کر رہی ہوں !"
میں نے کہا !
" ہم سب مِس کر رہے ہیں !"




خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔