میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

ہفتہ، 7 مئی، 2016

مہاجرزادہ بمقابلہ سن آف سوائل !

پیارے بچو !اِس تصویر میں اگر آپ دیکھیں تو ایک سمارٹ ہلکے سفید بالوں والا شخص ایک عورت اور پانچ بچوں کے ساتھ نظر آرہا ہوگا ۔
یہ سمارٹ شخص ، کراچی میں ایک مکان کے گھر میں پیدا ہوا- اِس نے جیسے تیسے کر کے میٹرک پاس کیا اور اِس کا زندگی کا سفر شروع ہوا ، تو ماں باپ نے شادی کر دی ۔
بیوی پرانی طرزِ معاشرت کی اَن پڑھ عورت تھی ، گھر کا کام کاج کرنے والی ساس اور سسر کی خدمت کرنے والی اور شوہر کاھاتھ بٹانے والی ، سنا ہے کہ امان اللہ خان نے بس کی کنڈیکٹری کرتے کرتے بس چلانا بھی سیکھ لی ،
ایک دفعہ اُس کے ذہن میں خیال آیا کہ اُس کا جودوست انگلینڈ گیا تھا اُس کے گھر والوں نے اُس کے علاقے سے نکل کر محمود آباد میں کوٹھی بنا لی ہے ۔ وہ دوست سے ملنے محمدود آباد گیا وہاں دوست تو نہیں ملا ہاں اُس کا بڑا بھائی ملا ۔ جو انگلینڈ جانے کی تیاری کر رہا تھا ۔
امان اللہ خان نے بھی پلان بنا لیا کہ وہ بھی دوست کے بھائی کے ساتھ انگلینڈ جائے گا تاکہ وہ بھی محمود آباد میں 7 مرلے کی کوٹھی خرید سکے ۔
گھر واپس آکر ، اُس نے اپنے والد سے مشورہ کیا اور دوست کے بھائی کے ساتھ ایک ایسی منزل کی طرف چل پڑا ، جہاں کی محنت سے وہ اپنے والدین اور باقی بھائیوں کو معاشی طور پر سنبھال سکے ۔
لیکن سوال یہ پیدا ہوتا تھا کہ امان اللہ کی کمائی کی کمی کو کیسے پورا کیا جائے ؟
امان اللہ کی بیوی سحرالنساء جس کو پیار میں سحرن کہتے تھے نے
شوہر کی گھر کی معاشی زندگی میں غیر حاضری کو پر کرنے کے لئے ، دیگر مہاجر خاندانوں کی خواتین کی طرح کپڑے سی کر پورا کرنے کی کوشش شروع کر دی ۔
امان اللہ نے دوست کے بھائی اور دیگر چار دوستوں کے ساتھ انگلینڈ کا سفر شروع کیا جو پاکستان سے بلا پاسپورٹ شروع ہوا اور انگلینڈ جا کر ختم ہوا ۔
امان اللہ نے لندن میں مختلف کام کئے اور بالآخر اُس نے گورنمنٹ ڈیپارٹمنٹ میں بس ڈرائیور کی ملازمت حاصل کرنے کے بعد ، بیوی بچوں کو اپنے پاس تین کمرے کے سرکاری اپارٹمنٹ میں بلا لیا ۔ جو اُس کے ملک کے 500 گز کے بنگلوں کو مات دیتا تھا ۔
جہاں اُس نے غیر ملک میں مسلمانوں کی آبادی بڑھانے میں خاطر خواہ اضافہ کیا ، اُسے یہ نہیں معلوم تھا کہ لندن میں اُس کے پیدا ہونے والے باقی چار بچے(کل 8 بچے) اپنے پانچویں نمبر کے بھائی صادق امان اللہ خان جو 8 اکتوبر 1970 کو لندن میں پیدا ہوا تھا کو میئر لندن
جتوانے میں اہم رول ادا کریں گے، جس کے مئیر لندن منتخب ہونے پر پاکستانی قلمی طوائفیں اور میڈیا کے زنخے گلا پھاڑ پھاڑ کر مغربی ڈیموکریسی کی تعریف اور پاکستانی بیوروکریسی کو لعنت ملامت کریں گے ۔
پاکستان سے ہی ایک نیازی خان نے ، ایک جدّی پشتی مگر مسلمانوں کی نظر میں ناجائز بچے کو مئیر لندن جتوانے والے کے لئے ، خصوصی میٹنگ بلا کر لندن والوں کو کہا ،
" اے لندن کے باسیو ! تمھیں کیا ہو گیا ہے تمھاری تاریخ صدیوں پرانی ہے ، یہاں کے قوانین مستحکم اور پائیدار ہیں ، انسانی احترام اور اخلاقی قدریں ہیں ، یہاں متشدد یا آمرانا نظام کی کوئی جگہ نہیں ۔ یہاں کوئی کسی کے پرسنل افیئر میں دخل نہیں دیتا ، آپ کا نیا میئر ایسا شخص ہونا چاھئیے ، جس کے پاؤں زمین میں مضبوطی سے گڑھے ہوں ، جو یہاں کا سن آف سوائل ہو ، جس کے والدین یہاں کی ایلیئٹ کلاس کے افراد ہوں اور ملکہ سے خصوصی دوستی رکھتے ہوں ۔ جن کی رگوں میں انگریز خون دوڑ رہا ہو !
مجھے بتاؤ ! کیا تم لوگ ایک اصلی النسل کے مقابلے میں بدیسی النسل کو ترجیح دو گے ؟
مجھے بتاؤ ! کیا تم لوگ ایک سن آف سوائل کے بجائے ایک دوغلی قومیت کے فرد کو ترجیح دو گے ؟مجھے بتاؤ ! کیا تم لوگ ایک کالے کو گورے پر ترجیح دو گے ؟مجھے بتاؤ ! کیا تم لوگ ایک اعلیٰ اور عرفعہ نسل کی عورت کے بجائے ، ایک کپڑے سینے والی عورت کے بیٹے کو ترجیح دو گے ؟مجھے بتاؤ ! کیا تم لوگ ایک مقامی کے بجائے مہاجر کو ترجیح دوگے ؟
 مجھے بتاؤ ! کیا تم لوگ ایک سنار ، اخباروں ، پلازوں کے مالک کے گولڈ اسمتھ  بجائے ، تین کمرے کے سرکاری اپارٹمنٹ میں 8 بچوں کے ساتھ رہنے والے  معمولی بس چلانے والے کے بچے کو ترجیح دو گے ؟
مجھے یقین ہے کہ تم اپنی اقدار اور نسلی تفاخر کو داؤ پر نہیں لگاؤ گے اور گولڈ اسمتھ کے بیٹے ، جمائما کے بھائی اور مستقبل کے پاکستان کے وزیراعظم کے سالے زیک گولڈ اسمتھ  کو ووٹ دے کر لندن کا میئر بناؤ گے "
اِس تقریر نے ، امان اللہ خان اُس کی بیوی آٹھ بچوں اور اِن کے پاکستان سے آئے ہوئے مہاجر دوستوں کے ذہنی خیالات بدل دئیے اورلندن میں بسنے والے والے تمام مہاجروں ( کے پی کے ، سندھ ، بلوچستان ، پنجاب اور کشمیر سے آئے ہوئے ) نے ایک فیصلہ کیا ، 
  اُنہوں نے نسلی تفاخر کے قد آور بُت کودھڑام سے زمیں بوس کر دیا ۔ یہ مغربی نہیں بلکہ اُس جمہوریت کا فخر بنا جو یونان سے نکلی اور تمام دنیا میں پھیل گئی ۔
( ماخوذ)



خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔