میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

پیر، 9 مئی، 2016

بس ستر روپے!



 سر گاڑی دھو دوں.... 14 سالہ لڑکے نے کہا تو میرے دوست اس کی جانب دیکھا..
میں نے ایکدم کہا ...نہیں دھلوانی اور جانے لگا تو اس نے ایک دم کہا ... سر صرف ستر روپے لونگا اور گاڑی اندر باہر سے صاف کردونگا...
کیوں بھائی.. باقی لوگ صرف پانی مارنے کے سو یا ڈیڑھ سو روپے لیتے ہیں اور تم اندر باہر کی صفائی کے ستر روپے مانگ رہے ہو....
بس مجھے فوری ستر روپے چاہئے... 
میرے دوست اس لڑکے سے بحث کئے جارہا تھا اور مجھے دیر ہورہی تھی... صبح 9 بجے یہ بحث تنگ کررہی تھی....
کیا کرنا ہے ستر روپے کا... دوست نے اس سے پوچھا...
سر پلیز گاڑی دھلوا لے....
تم بتائو تمہیں کیوں چاہئے..ورنہ ہم جارہے ہیں...
ہم آگے جانے لگے تو وہ سامنے آگیا... سر مجھے اپنے بھائیوں کی آج فیس جمع کرانی ہے...ستر روپے کم ہیں...860 روپے جمع کرلئے ہیں... بس ستر روپے کم ہیں...
چل بھائی جا... تم لوگ ایسی ہی ڈرامہ بازی کرتے ہو... میں نے کہا اور جانے لگے...
میرے دوست نے کہا تمہارے بھائی کہاں ہے...
اسکول میں...
اگر تم جھوٹے نکلے تو اچھا نہیں ہوگا...
میں جھوٹ نہیں بول رہا... 
اسکول کہاں ہے؟
یہی چک شہزاد میں.... چند گلیاں چھوڑ کر...
چلو آؤ ....
وہ لڑکا ساتھ آگیا....
ایک گھر میں قائم پرائمری اسکول میں اس کے دو بھائی پڑھتے تھے.... فیس 930 روپے بنتی تھی... 
.
ہم پرنسپل کے روم میں داخل ہوئے۔۔۔۔۔ دوست نے بچوں کے بارے میں معلومات شروع کردی۔۔۔۔ مجھے دیر ہورہی تھی ۔۔۔۔ دوست نے مجھے کہا تم اپنا کام نمٹا کر آجاؤمیں یہ معاملہ دیکھتا ہوں ۔۔۔۔ میں وہاں سے چلا گیا۔۔۔۔ مجھے ایک صاحب سے ایک خبر کے حوالے سے ڈاکومنٹس اٹھانے تھے ۔۔۔۔ مجھے وہ لے کر واپسی میں بیس منٹ لگ گئے۔۔۔۔
دوست ابھی تک پرنسپل روم میں تھا ۔۔۔۔ میں نے اسے میسج کیا اور خود باہر ہی انتظار کرنے لگا ۔۔۔۔ کچھ دیر بعد وہ باہر آگیا۔۔۔۔ بچے کو کچھ سمجھایا جس پر بچہ ہاتھ ملا کر واپس چلا گیا ۔۔۔۔ اور ہم وہاں سے واپس آگئے ۔۔۔ دوست نے بتایا کہ اس نے بچے کو اس کی مطلوبہ رقم دیدی ہے۔۔۔۔ اور ساتھ ہی بات چیت کا موضوع بدل دیا۔۔۔۔۔
.
تقریبا ایک سال بعد آج میرا اس اسکول کے سامنے سے گزر ہوا تو اچانک خیال آیا ان بچوں کا پتا کرتا ہوں.... پرنسپل سے ملا اور انھیں یاد دلایا..... انھوں نے بتایا.... 
جب آپ پچھلی بار آئے تھے اسکے بعد سے بچوں کی فیس میں کوئی رکاوٹ نہیں آئی.... آپ کے دوست ہر ماہ آتے ہیں فیس جمع کراتے ہیں... بچوں کی تعلیمی سرگرمیوں کا پوچھتے ہیں اور ان کی ضروریات کا خیال رکھتے ہیں.... یونیفارمز بھی سال میں تین بات تبدیل کرائے.... ہمارے پاس ان کا نمبر موجود ہے،  جب ہم انھیں کال کریں وہ تھوڑی دیر میں پہنچ جاتے ہیں.....
ہاں بچے پڑھنے میں اچھے ہیں تو آپ کے دوست کے کہنے پر بچوں کے گھر یہ پیغام دیا گیا ہے کہ... بچوں کی قابلیت کو دیکھتے ہوئے اسکول نے "اسکالر شپ" دی ہے...
اس دوست سے ملاقات ہوئی تو میں نے اس پر ظاہر نہیں کیا کہ میں اسکول گیا تھا ۔۔۔۔ میں اسے دیکھ کر سوچنے لگا کہ ایسے لوگ شدید حبس میں ہوا کا جھونکا ہیں ۔۔۔۔۔
( طارق حبیب )

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔