میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

جمعہ، 3 جون، 2016

سفر زیست


بہت آسان ہے کہنا 
 محبت ہم بھی کرتے ہیں 
 محبت ہم نے کی تھیجب 
 آتش جواں تھا تب

 جذبے بھی زوروں پر
 اخلاص بھی بے شک
 ہر دن روشن تھا
 ہر شب چراغاں تھی
 پھر یوں ہوا کہ تب
 اک آندھی چلی زوروں
خاک اور پتے
 خس و خاشاک اڑتے تھے
دکھائی کچھ نہ دیتا تھا
 سجهائی کچھ نہ دیتا تھا
  بادل شک کے گہرے تھے
 جفا کا شور بلا کا تھا
 محبت کے سبھی رشتے
 مروت کے سبھی ناطے
 نفرت میں بدلے تھے
 لہجے زہریلے تھے
رویے نیلے تھے
 وقت وہ بھی گزر ہی جاتا ہے
 جس کے لمحے صدیاں ہوں 
خوشیاں لوٹ بھی آتی 
 لیکن جو بال آتے ہیں
 شیشہء دل میں
وہ کبھی نہیں جاتے 
 وہ کہیں نہیں جاتے 

رابعہ خرم درانی

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔