میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

منگل، 14 جون، 2016

ایک تاریخی اقتباس !

 الکتاب کی اِس آیت کی روشنی میں !



والدہ نے سات دن دودھ پلایا‘ آٹھویں دن چچا ابو لہب کی کنیز ثوبیہ کو یہ اعزاز حاصل ہوا‘ ثوبیہ نے دودھ بھی پلایا اور رضاعی ماں بن کرچند دن دیکھ بھال کی، یہ چند دن کا دودھ تھا ، لیکن محمد بن عبداللہ نے اس احسان کو پوری زندگی یاد رکھا‘ 
مکہ میں رہتے ہوئے رضائی ماں ثوبیہ کو میری ماں ! میری ماں! کہہ کر پکارتے تھےاور ہر طرح کا معاشی خیال رکھتے ۔
مدینہ ہجرت کی تو مدینہ سے، ابولہب کی کنیز اپنی رضاعی ماں ثوبیہ ، کیلئے کپڑے اور رقم بھجواتے تھے‘
رضاعی ماں ثوبیہ نے اسلام قبول نہیں کیا تھا۔  یہ ہے انسانی حسنِ سلوک ۔ 

دوسری رضاعی ماں حلیمہ سعدیہ تھیں - یہ ملاقات کےلئے آئیں‘ دیکھا تو اٹھ کھڑے ہوئے اور میری ماں! میری ماں!  پکارتے ہوئے ان کی طرف دوڑ پڑے‘
وہ قریب آئیں تو اپنے جسم سے چادر اتار کر زمین پر بچھا دی اور  اپنی رضاعی ماں کو اس پر بٹھایا‘
غور سے ان کی بات سنی اور ان کی تمام حاجتیں پوری فرما دیں‘ یہ بھی ذہن میں رہے- حلیمہ سعدیہ نے اسلام قبول نہیں کیا تھا‘ وہ اپنے پرانے مذہب پر ہی قائم رہی تھیں -

فتح مکہ کے وقت
حلیمہ سعدیہ کی بہن خدمت میں حاضر ہوئی
‘ماں کے بارے میں پوچھا‘ بتایا گیا‘ وہ انتقال فرما چکی ہیں
‘ رسول اللہ ﷺ کی آنکھوں میں آنسو آ گئے‘
روتے جاتے تھے
اور
حلیمہ سعدیہ کو یاد کرتے جاتے تھے‘ رضاعی خالہ کو لباس‘ سواری اور سو درہم عنایت کئے‘
رضاعی بہن شیما غزوہ حنین کے قیدیوں میں شریک تھی‘ پتہ چلا تو انہیں بلایا‘ اپنی چادر بچھا کر بٹھایا‘
اپنے ہاں قیام کی دعوت دی‘ حضرت شیما نے اپنے قبیلے میں واپس جانے کی خواہش ظاہر کی‘ رضاعی بہن کو غلام‘ لونڈی اور بکریاں دے کر رخصت کر دیا ‘
یہ بعد ازاں اسلام لے آئیں‘
 یہ ہے انسانیت ۔

جنگ بدر کے قیدیوں میں پڑھے لکھے کفار
بھی شامل تھے‘ ان کافروں کو مسلمانوں کو پڑھانے‘ لکھانے اور سکھانے کے عوض رہا کیا گیا‘

حضرت زید بن ثابتؓ کو عبرانی سیکھنے کا
حکم دیا‘ آپؓ نے عبرانی زبان سیکھی اور یہ اس زبان میں یہودیوں سے خط و کتابت کرتے رہے‘
 یہ ہے علم کا حصول و استعمال  ۔

حضرت حذیفہ بن یمانؓ سفر کر رہے تھے‘ کفار جنگ بدر کیلئے مکہ سے نکلے‘ کفار نے راستے میں حضرت حذیفہؓ کو گرفتار کر لیا‘ آپ سے پوچھا گیا‘ آپ کہاں جا رہے ہیں‘ حضرت حذیفہؓ نے عرض کیا
 ’’مدینہ‘‘
کفار نے ان سے کہا ’’ آپ اگر وعدہ کرو‘ آپ جنگ میں شریک نہیں ہو گے تو ہم آپ کو چھوڑ دیتے ہیں‘‘
حضرت حذیفہؓ نے وعدہ کر لیا
‘ یہ اس کے بعد سیدھے مسلمانوں کے لشکر میں پہنچ گئے
‘ مسلمانوں کو اس وقت مجاہدین کی ضرورت بھی تھی‘ جانوروں کی بھی اور ہتھیاروں کی بھی
لیکن جب حضرت حذیفہؓ کے وعدے کے بارے میں علم ہوا تومدینہ بھجوا دیا گیا
 اور فرمایا 
’’ہم کافروں سے معاہدے پورے کرتے ہیں اور ان کے مقابلے میں صرف اللہ تعالیٰ سے مدد چاہتے ہیں ‘‘  یہ ہے عہد کی پاسداری  ۔

 کافروں کا ایک شاعر تھا‘ سہیل بن عمرو۔ یہ رسول اللہ ﷺ کے خلاف اشتعال انگیز تقریریں بھی کرتا تھا اور توہین آمیز شعر بھی کہتا تھا‘ یہ جنگ بدر میں گرفتار ہوا‘ سہیل بن عمرو کو بارگاہ رسالت میں پیش کیا گیا
‘ حضرت عمرؓ نے تجویز دی‘ میں اس کے دو نچلے دانت نکال دیتا ہوں‘ یہ اس کے بعد شعر نہیں پڑھ سکے گا‘
تڑپ کر فرمایا
’’ میں اگر اس کے اعضاء بگاڑوں گا تو اللہ میرے اعضاء بگاڑ دے گا‘‘
سہیل بن عمرو نے نرمی کا دریا بہتے دیکھا تو عرض کیا
 ’’ مجھے فدیہ کے بغیر رہا کر دیا جائے گا‘‘
اس سے پوچھا گیا
’’کیوں؟‘‘
سہیل بن عمرو نے جواب دیا
’’ میری پانچ بیٹیاں ہیں۔ میرے علاوہ ان کا کوئی سہارا نہیں"

 رسول اللہ ﷺ نے سہیل بن عمرو کو اسی وقت رہا کر دیا
‘ یہاں آپ یہ بھی ذہن میں رکھیئے‘ سہیل بن عمرو شاعر بھی تھا اور گستاخِ رسول اور توھینِ رسالت کا الزام بھی تھا ۔
 لیکن رحمت اللعالمینؐ کی غیرت نے گوارہ نہ کیا
‘ یہ پانچ بچیوں کے کفیل کو قید میں رکھیں
یا
پھر اس کے دو دانت توڑ دیں!

 یہ ہے انسانیت ۔
 
عمرو بن عبدود مشرک بھی تھا،  ظالم بھی اور کفار کی طرف سے مدینہ پر حملہ آور ہوا ۔
جنگ خندق کے دوران عمرو بن عبدود مارا گیا‘ اس کی لاش تڑپ کر خندق میں گر گئی‘
کفار اس کی لاش نکالنا چاہتے تھے لیکن انہیں خطرہ تھا‘ مسلمان ان پر تیر برسادیں گے‘
کفار نے اپنا سفیر بھجوایا‘
سفیر نے لاش نکالنے کے عوض
دس ہزار دینار دینے کی پیش کش کی

‘ رحمت اللعالمینؐ نے فرمایا
 ’’میں مردہ فروش نہیں ہوں‘ ہم لاشوں کا سودا نہیں کرتے‘
یہ ہمارے لئے جائز نہیں‘

کفار کو عمرو بن عبدود کی لاش اٹھانے کی اجازت دے دی

 یہ ہے انسانیت ۔
‘ خیبر کا قلعہ فتح ہوا تو یہودیوں کی عبادت گاہوں میں تورات کے نسخے پڑے تھے‘ تورات کے سارے نسخے اکٹھے کروائے اور نہایت ادب کے ساتھ یہ نسخے یہودیوں کو پہنچا دیئے -

 یہ ہے انسانیت اور مذہبی رواداری  ۔
( باقی سب کہانیاں و یاوہ گوئیاں ہیں ، جو لذتِ سمع کے لئے افتراء کی گئیں )

اور خیبر سے واپسی پر فجر کی نماز کیلئے جگانے کی ذمہ داری حضرت بلالؓ کو سونپی گئی
‘حضرت بلالؓ کی آنکھ لگ گئی‘ سورج نکل آیا تو قافلے کی آنکھ کھلی‘ رسول اللہ ﷺ نے حضرت بلالؓ سے فرمایا
’’بلال آپ نے یہ کیا کیا؟"
‘‘ حضرت بلالؓ نے عرض کیا :
’’ یا رسول اللہ ﷺ جس ذات نے آپؐ کو سلایا‘ اس نے مجھے بھی سلا دیا‘‘
تبسم فرمایا اور حکم دیا
 ’’تم اذان دو‘‘ اذان دی گئی:
آپؐ نے سورج نکلنے کے باوجود جماعت کر وائی اور نماز ادا کروائی ۔
( سورج نہ نکلنے کا شعری قصہ ، یاوہ گوئی ہے اور کذب و افتراء ہے )
 اور پھر فرمایا
 ’’تم جب نماز بھول جاؤ تو پھر جس وقت یاد آئے اسی وقت پڑھ لو‘‘

 یہ ہےالدین میں آسانی  ۔
نجران کے عیسائیوں کا چودہ رکنی وفد مدینہ منورہ آیا‘ رسول اللہ ﷺ نے عیسائی پادریوں کو نہ صرف ان کے روایتی لباس میں قبول فرمایا بلکہ انہیں مسجد نبویؐ میں بھی ٹھہرایا اور انہیں ان کے عقیدے کے مطابق عبادت کرنے کی اجازت بھی تھی‘

یہ عیسائی وفد جتنا عرصہ مدینہ میں رہا‘ یہ مسجد نبویؐ میں مقیم رہا اور مشرق کی طرف منہ کر کے عبادت کرتا رہا‘ ایک مسلمان نے کسی عیسائی کو قتل کر دیا‘ آپؐ نے مسلمان کے خلاف فیصلہ دیا اور یہ مسلمان قتل کے جرم میں قتل کر دیا گیا-

 یہ ہےانصاف  ۔
 
‘ حضرت سعد بن عبادہؓ نے فتح مکہ کے وقت مدنی ریاست کا جھنڈا اٹھا رکھا تھا‘ یہ مکہ میں داخل ہوتے وقت جذباتی ہو گئے  - انہوں نے حضرت ابو سفیانؓ سے فرمایا
’’ آج لڑائی کا دن ہے‘ آج کفار سے جی بھر کر انتقام لیا جائے گا‘‘
رحمت اللعالمینؐ نے سنا تو ناراض ہو گئے‘ ان کے ہاتھ سے جھنڈا لیا‘ ان کے بیٹے قیسؓ کے سپرد کیا -  اور فرمایا
 ’’نہیں آج لڑائی نہیں‘ رحمت اور معاف کرنا کا دن ہے‘‘۔

 یہ ہےعفو و درگذر   ۔
فتح مکّہ سے پہلے، مکہ میں قحط پڑ گیا - مدینہ سے رقم جمع کی‘ خوراک اور کپڑے اکٹھے کئے اور یہ سامان مکّہ بھجوادیا-  اور ساتھ ہی اپنے اتحادی قبائل کو ہدایت کی
’’مکہ کے لوگوں پر برا وقت ہے - آپ لوگ ان سے تجارت ختم نہ کریں "

 یہ ہےنظام الصدقات ۔
 مدینہ کے یہودی اکثر مسلمانوں سے یہ بحث چھیڑ دیتے تھے
’’نبی اکرم ﷺ فضیلت میں بلند ہیں یا حضرت موسیٰ ؑ ‘‘
یہ معاملہ جب بھی دربار رسالت میں پیش ہوتا‘ رسول اللہ ﷺ مسلمانوں سے فرماتے
’’آپ لوگ اس بحث سے پرہیز کیا کریں‘‘۔
کیوں کہ فضیلت دینا اللہ کا حق ہے ، انسانوں کا نہیں !

 یہ ہےاحکام الہی پر عمل ۔
ثماثہ بن اثال نے رسول اللہ ﷺ کو قتل کرنے کا اعلان کر رکھا تھا‘ اور توھینِ رسالت کا مرتکب ہوا ، یہ گرفتار ہوگیا‘ اسلام قبول کرنے کی دعوت دی‘ اس نے انکار کر دیا‘ یہ تین دن قید میں رہا‘ اسے تین دن دعوت دی جاتی رہی‘ یہ مذہب بدلنے پر تیار نہ ہوا تو اسے چھوڑ دیا گیا‘ اس نے راستے میں غسل کیا‘ نیا لباس پہنا‘ واپس آیا اور دست مبارک پر بیعت کر لی

 یہ ہے عفو و درگذر ۔
۔ ابو العاص بن ربیع رحمت اللعالمین ؐکے داماد تھے‘ رسول اللہ ﷺکی صاحبزادی حضرت زینبؓ ان کے عقد میں تھیں‘ یہ کافر تھے‘ یہ تجارتی قافلے کے ساتھ شام سے واپس مکّہ جا رہے تھے‘ مسلمانوں نے قافلے کا مال چھین لیا‘ یہ فرار ہو کر مدینہ آگئے اور حضرت زینبؓ کے گھر پناہ لے لی‘
صاحبزادی مشورے کیلئے بارگاہ رسالت میں پیش ہو گئیں‘ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا -
’’ابوالعاص کی رہائش کا اچھا بندوبست کرومگر وہ تمہارے قریب نہ آئے کیونکہ تم اس کیلئے حلال نہیں ہو‘‘
حضرت زینبؓ نے عرض کیا
’’ابوالعاص اپنا مال واپس لینے آیا ہے‘‘
مال چھیننے والوں کو بلایا اور فرمایا گیا
’’یہ مال غنیمت ہے اور تم اس کے حق دار ہو لیکن اگر تم مہربانی کر کے ابوالعاص کا مال واپس کردو تو اللہ تعالیٰ تمہیں اجر دے گا‘‘
 صحابہؓ نے مال فوراً واپس کر دیا‘
حضرت زینبؓ قبول اسلام کی وجہ سے مشرک خاوند کیلئے حلال نہیں تھیں لیکن رسول اللہ ﷺنے داماد کو صاحبزادی کے گھر سے نہیں نکالا-

 یہ ہےفہم الدین اور صلہ رحمی  ۔

حضرت عائشہؓ نے ایک دن رسول اللہ ﷺ سے پوچھا
’’ زندگی کا مشکل ترین دن کون سا تھا‘‘
فرمایا۔
"وہ دن جب میں طائف گیا اور عبدالیل نے شہر کے بچے جمع کر کے مجھ پر پتھر برسائے‘ میں اس دن کی سختی نہیں بھول سکتا "
عبدالیل طائف کا سردار تھا‘ اس نے رسول اللہ ﷺ پرظلم ڈھائے -
عبدالیل ایک بار طائف کے لوگوں کا وفد لے کر مدینہ منورہ آیا
‘ رسول اللہ ﷺ نے مسجد نبویؐ میں اس کا خیمہ لگایا  اور عبد الیل جتنے دن مدینہ میں رہا‘ رسول اللہ ﷺ ہر روز نماز عشاء کے بعد اس کے پاس جاتے‘ اس کا حال احوال پوچھتے‘ اس کے ساتھ گفتگو کرتے اور اس کی دل جوئی کرتے-

 یہ ہےدشمنوں کے ساتھ احسن سلوک  ۔
 ایک صحابیؓ نے عرض کیا
’’یا رسول اللہ ﷺ مجھے کوئی نصیحت فرمائیں‘‘
جواب دیا ’’غصہ نہ کرو‘‘
وہ بار بار پوچھتا رہا‘ آپؐ ہر بار جواب دیتے!
’’غصہ نہ کرو‘‘

 یہ ہےانسانیت ۔
 ٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
میں حیران ہوں کہ تاریخ میں جھوٹ کِس نے بھرا ؟
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔