میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

جمعرات، 23 جون، 2016

سکینڈل کوئین قندیل بلوچ کون ہے؟


 پہلا رُخ قندیل بلوچ کے مطابق !
فیس بک  کی مدد سے  اپنے متنازعہ کردار کی وجہ سے شہرت حاصل کرنے والی قندیل بلوچ کا حقیقی نام فوزیہ عظیم ہے, ان کے والد کا نام ملک عظیم ہے۔
فوزیہ عظیم یکم مارچ 1990 میں   جنوبی پنجاب کے پسماندہ ترین ضلع ڈیرہ غازیخان کے علاقے شاہ صدر دین میں  ، ماہڑہ  قوم کے  ملک عظیم   کے گھر پیدا ہوئی ۔ 
 گورنمنٹ گرلز ہائی سکول شاہ صدر دین میں  13 سال کی عمر میں جب وہ آٹھویں جماعت میں پڑھ رہی، اُسے احساس ہوا کہ وہ بالغ ہوچکی ہے ، اُس کی نظریں کسی " مرد " کو تلاش کرنے لگیں ، جو اُس کا رکھوالا بنے ، اُس کے مستقبل کو تحفّظ دے اور وہ اپنے بچوں کے ساتھ خوشگوار ازدواجی زندگی گذارے ۔ ٹی وی ڈرامے دیکھ کر اور محبت کی افسانوی کہانیاں سن کر ، اُس کا دل کبھی نہیں چاہا کہ پرستان کا کوئی شہزادہ اُس کے لئے آئے ، بس اپنے یا دوسرے گاؤں کا کوئی غیرت مند  ، نوجوان ہو ۔
یوں اُس کی زندگی میں وہ " مرد" آگیا  ۔ جو 
شادن لُنڈ کا رہنے والا تھا ، دونوں ایک دوسرے کی محبت میں گرفتار ہوگئے ۔ اور اُنہوں نے خاندانی رواج  کو توڑتے ہوئے ، کسی دوسرے شہر جاکر شادی کا پروگرام بنایا ۔  ملتان  اور اِس کے گرو نواح سے جتنے پنچھی اُڑے ، انہوں نے آسٹریلیا کی مرغابیوں کی طرح ، کراچی کے سمندر کے کنارے اپنی اُڑان توڑی ۔
ایک رات پروگرام کے مطابق ، جب سب گھر والے سو رہے تھے تو فوزیہ عظیم ، گھر سے نکلی ، گلیوں سے چھپتی چھپاتی ، شہر جانے والے سڑک کے نزدیک ٹبّے والے جھنڈ کے نزدیک  ، اپنے محبو ب  سے ملنے کا پروگرام بنایا ، تاکہ وہاں  سے آگے وہ دونوں ، اکھٹے زندگی کے سفر پر روانہ ہوں-
 لیکن شادن لُنڈ کا  " مرد " نامرد نکلا ،  آگے اندیکھی منزل اور پیچھے کھائی ،  یہی وقت فوزیہ عظیم کی زندگی کا ٹرننگ پوائنٹ ثابت ہوا کیونکہ اب فوزیہ عظیم (قندیل بلوچ)کے پاس دو ہی راستے تھے ایک یہ کہ وہ واپس اپنے گھر چلی جائے اور گاؤں والوں کی شرمندگی کا سامنا کرے دوسرا زندگی کے سفر کی بیکراں کھائی میں چھلانگ لگادے -
باہمت ، اپنی منزل خود ڈھونڈھنے والی ایک دیہاتی لڑکی نے ،  اپنی زندگی کا اہم ترین فیصلہ کیا اور نئی منزل کی طرف روانہ ہوگئی ، کم پڑھی لکھی اور خوبصورت لڑکی کے پا س    سوائے اِس کے اور کوئی راستہ نہ تھا کہ وہ ، ملتان ہی میں کسی کے ڈیرے پر بیٹھ جائے اور یا  فلم انڈسٹری کا دروازہ کھٹکھٹائے ، جہاں اُس کا جسمانی سفر بہت ہی کٹھن ہوتا ، وہ جس بس میں سفر کر رہی تھی اُس کی ہوسٹس سے ، اُس نے بات چیت کی اور اپنے بارے میں بتایا ، اُس خدا ترس کے اُسے ایک بہترین راہ دکھائی، جو
فوزیہ عظیم    کو نہایت پسند آئی -
یوں اُن نے اولیا ؤں ، درویشوں  اور مزاروں کے علاقے میں پناہ لی   ،    کہا جاتا ہے ، کہ عرب فوجیوں  نے ملتان کو ایک نئے کلچر سے روشناس کروایا ، جہاں خصوصی طور پر کہا جاتا ہے کہ اگر ملتان کی اخلاقی  قدروں کو کسی نے پامال کیا ، تو  وہ یہی عرب تھے ، جنہوں نے شادیاں تو خیر کیں ، مگر  ایک شادی کے علاوہ نکاحوں کا انبار لگا دیا ، پھر ایران سے آنے والے ، فارس  والے سرخ  و سپید  نو مسلم ایرانیوں نے ،  ملتان کی دھوپ کی تمازش سے تپتے ہوئے حسن کو رنگ کا ایک نیا امتزاج دیا ،  افغانیوں کا تو یہ ہندوستان جانے والا چوراہا تھا  ، 
غرض  کہ اِن تمام سپاہیان  ماضی کے بے انتہا کاوشوں کی وجہ سے ، ملتان کی راتیں جاگتی تھیں ،  مشہور تھا کہ ملتانیوں کی اِس اخلاقی کایا پلٹ کی وجہ سے ، نجانے کب کا آسمان اُس پر ٹوٹ گرتا ، مگر  ملتان شہر   پرآسمان گرنے سے بچانے کے ، دن کو مزار اُسے سہارا دیتے اور رات کو  ۔ ۔ ۔ ۔ سینسر ۔ ۔ ۔ ۔   !
فوزیہ عظیم  نے  ملتان میں ، ایک نجی بس کمپنی میں بطور بس ہوسٹس فرائض سرانجام دینا  ، شروع  کر دی، اس نوکری کے دوران فوزیہ عظیم کو تلخ حقائق کا سامنا کرنا پڑا۔بس کے ہر ٹرپ کے 36  مسلمان مسافر ، اُسے  کہنیاں مارتے ، کندھے ٹکراتے اترتے ، آنکھوں آنکھوں میں سمجھاتے کہ اُن سے زیادہ مخلص اور محبت کرنے والا ، " مرد" پورے پاکستان تو کیا دنیا میں بھی ڈھونڈے سے نہیں ملے گا ، لیکن اُس کی  نوخیز جوان زندگی کا پہلا  " شادن لُنڈ کا مرد " ہی نامرد نکلا  ۔ تو اُسے یوں لگتا تھا کہ یہ سب بھی " نامرد" ہیں اور ملتان کی اخلاقی قدروں کو تباہ کرنے والے ، عرب ، افغانی اور ایرانی بھی ، "نامرد" ہی تھے ، اُسے یوں لگتا تھا کی دنیا ، مسلمان نامردوں سے بھری ہوئی ہے ۔  اُسے  بھی کئی ، نامردوں نے ایک رات کا سہارا دینے کی کوشش کی ، لیکن اُس  نے  ملتانی مسلمانوں کے سامنے  ھار نہ مانی ۔ مسلمانوں ، درویش صفت انسانوں نے ملتانی زندگی ، کی اونچ نیچ اور نشیب وفراز سمجھانے کی کوششیں کی ، ترقی کی منزلوں ، پر آگے بڑھنے کا فلسفہ ، اُس ملتان میں معلوم ہوا کہ آگے بڑھنے کے لئے ، پرانی شناخت مٹانا پڑتی ہے  ۔ جیسے سنتوش کمار ، دلیپ کمار ، زیبا ، رانی  وغیرہ
چنانچہ فوزیہ عظیم  سے اُس نے اپنی شناخت ، قندیل بلوچ میں تبدیل کر نے کا سوچا -
بس کی نوکری چھوڑی اور ماڈلنگ کی دنیا میں قدم رکھ دیا ۔  جہاں عزت ہی عزت ہے ، اُسے معلوم تھا ، کہ وہ بھی وینا ملک  کی طرح شہرت کی بلندیوں پر پہنچنے کے بعد ، پاکستانی مسلمان نامردوں کو ، اُنہی کے اسلام کی تربیت دے گے ، اور ٹی وی  کی رینکنگ بڑھائے گی ۔ کیوں کہ پاکستانی عورت کے منہ سے اللہ ، رسول ، ازواجِ مطہرات کی باتیں سننا زیادہ پسند کرتے ہیں ، اور جب جالی والے کالے کپڑے پہن کر ، عرس پر یا مجلس پر وہ آئے گی تو ، یہی ملتانی اُس کے گُن گائیں گے ،۔
شاہ صدر دین کی بستی ماہڑہ کے رہائشی جو  اب رات کو تاروں کی روشنی میں بیٹھ کر اُس کے والدین کو کوستے ہیں اور دن میں نفرت سے دیکھ کر گذرتے ہیں  ۔ اُس کی راہ میں  پھول بچھائیں گے ، اُس کی ایک جھلک دیکھنے کو بے تاب ہوں گے ، جوان تو کیا ادھیڑ عمر  بھی اُس کی حسن کی خیرات لینے کے لئے ، اپنا کشکول ہر وقت ہاتھ میں اُٹھائے رکھیں گے ۔
شاعروں کی توجہ کا وہ خصوصی مرکز بنے گی اور شائد  ، اِس سب جدو جہد کے اختتام پر اُسے ویسا ہی " مرد" مل جائے جیسا ناہید اختر کو ملا ۔
لیکن اِس کے لئے ،  ماڈلنگ کی دنیا میں قدم رکھنے کے بعد پاکستان چھوڑ کر بیرون ملک چلی گئی۔صرف3سال بعد یعنی2007-08ء میں جنوبی افریقہ چلی گئی۔جہاں اس نے صرف سرمایہ بنانے پر زور لگایا۔مشرق وسطی اور مغربی ممالک اس کی منزل ٹھہرے-
پھر اچانک  قندیل بلوچ پاکستانی ماڈلنگ کے اُفق سے زیادہ   ، فیس بک کی سکرین پر  پاکستانی مسلمان نوجوانوں کی منظورِ نظر بن گئی ۔ اُس نے  پاکستانی  مسلمان نوجوانوں  کی خواہش کے مطابق، اُن کے دماغ میں رہنے والی  جل پری دو شیزہ کا روپ دھار لیا ۔ جو ہر قسم کے لباس میں ، اُن کے سامنے نمودار ہوتی ، 20 کروڑ پاکستانیوں میں اگر یہ کہا جائے ، کہ ایک کروڑ انٹر نیٹ  و موبائل یافتگان کے سامنے ، اُس کا کوئی نہ کوئی مارکیٹنگ سٹنٹ  ، روزانہ نظروں کے سامنے سے گذرتا ہے ، تو جھوٹ نہ ہوگا ۔
اب تو مفتیانِ وقت بھی کمر کس کر میدان میں کود چکے ہیں ، کہ قندیل بلوچ کو سمجھائیں کہ اُس کے نروم و نازک جسم کو دوزخ کی آگ سے بچانے کا واحد راستہ ، اُن کے کمرہ ءِ نکاح سے گذرتا ہے ۔
لیک ایک واحد نامرد ہے جو ، شاہ صدر دین کی بستی ماہڑہ   سے ملتان آنے والی سڑک پر بنی پٗلیا پر بیٹھ کر اپنے دوستوں کو موبائل پر ،
فوزیہ عظیم  کے سکول کے کپڑوں میں وہ  سیلفیاں دکھاتا ہے ، جو اُس نے بنائیں تھیں ۔    فوزیہ عظیم کی بے باکیوں کے قصے  سناتا ہے کہ ، رات کو وہ کیسے اُس سے ملنے آیا کرتی تھی ، لیکن ۔ ۔ ۔ ۔ ۔!
اُس کا کردار اچھا نہیں تھا ، جبھی تو اُس کے ساتھ بھاگ جانے کو تیار ہو گئی ، وہ تو اچھا ہوا کے اُس نے ، بروقت قدم اُٹھا کر اپنے ماں باپ کی عزت کو مٹی میں ملنے سے بچا لیا ۔

دوسرا   رُخ فوزیہ عظیم  ملک  کے شوہر  مطابق !




16 جولائی 2016 ، 11:15  بجے :

تیسرا     رُخ
فوزیہ عظیم  ملک  کو اُس کے بھائی نے ، غیرت کے نام پر گلا دبا کر قتل کر دیا ۔ 



خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔