میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

جمعرات، 30 جون، 2016

آم کا اچار گھر میں بنائیں مزے سے کھائیں


  گھر میں  اچار بنانے کے لئے کیریوں (کچا آم)  کا انتخاب نہایت ضروری ہے ۔ 
جن کیریوں میں گٹھلیوں   پر رواں نہ آیا ہو اور وہ کچی نہ ہوں اور سخت  ہوں وہ اچار کے لئے
بہتر ہوتی ہیں ۔ اگر کیریاں کاٹنے پر  پکی ہوئی یعنی اندر کے گودے میں سفیدی پیلاہٹ میں تبدیل ہوجائے ، اُنہیں علیحدہ کر لیں ، اور اُس سے مربہ بنائیں ۔

کیریوں   کو کاٹیں اور اُن کے بیج   نہ پھینکیں ، کیوں کہ ہر پھل کے بیج میں  وٹامن بی-17  ہوتا ہے ، جو کینسر سے بچاتا ہے ۔
کیریاں کاٹ کر پہلے اچھی طرح دھو لیں ۔ پھر دھوپ میں خشک کر لیں ۔ خشک ہونے کے بعد نمک لگا کرمرتبان (گھڑے)   میں ڈالیں اور منہ صرف کپڑے سے بند کرکے تین دن تک کے لئے رکھ دیں ۔ اورمرتبان (گھڑے) کو  ہلاتی رہیں ۔ 
یاد رہے کہ اگر اچھا اچار بنانا ہے تو  پہلے گھڑے میں ایک ماہ  تک  سرسوں کا تیل گرم کرکے ڈالیں اور گھڑے کو ڈھک دیں ، تیل گھڑے کے مساموں   میں بَس جائے گا ، جب تیل گھڑے کے بار نظر آنے لگے تو گھڑا، اچار بنانے کے لئے تیار  ہوچکا ہے ۔ 
آپ سرامک جار بھی استعمال کر سکتی  ہیں ، لیکن جب اچار تیار ہوجائے تو بھر اِس میں ڈالا جاتا ہے تاکہ  تیل رِس کر کم نہ ہوجائے ۔
جب کٹی ہوئی کیریاں  اپنا پانی چھوڑ دے تو سارا پانی نکال کر کیریوں کو خشک کر لیں ۔ اب اچار کے مرتبان کے کے مطابق سرسوں کا تیل لیں اور اُسے گرم کریں ۔ تاکہ اُس میں موجود جو پانی کے بخارات ہیں وہ نکل جائیں ۔ 
تیل کو کڑھائی میں ہی ٹھنڈا کریں ، مرتبان میں کیریاں اتنی ڈالیں کہ وہ مرتبان کے منہ سے تقریباً چوتھائی خالی ہوں اب مصالحہ حسبِ پسند ڈالیں اور مرتبان کو اچھی طرح ہلائیں ۔
اُس کے بعد ٹھنڈا تیل ڈال دیں ۔ اور مرتبان کا منہ مضبوطی سے بند کر کے ہفتے تک دھوپ میں رکھ دیں ۔ اور روزانہ اچھی طرح ہلاتی رہیں تاکہ مصالحہ کیریوں میں رچ جائے ۔
ہفتے بعد آپ کا اچار تیار ، اچار جتنا پرانا ہوگا اتنا ہی مزیدار ہو گا ۔

احتیاط:  
٭-  جب اچار بن جائے ، تو کھانے کے لئے کسی چھوٹی بوتل میں نکال لیں ،
٭-  یاد رہے کہ تیل کو ہمیشہ اچار سے اوپر رھنا چاھئیے ۔
 تیل کو کبھی کیریوں سے نیچے نہیں جانا جاہیئے ورنہ پھپھوندی لگ کر سارا اچار خراب ہو جائے گا ۔ وہ علاقے ، جہاں پھپھوندی کے ذرات اُڑتے رہتے ہیں وہاں ، اچار خشک کمرے میں بنائیں ۔ 
 اچار کے مصالحہ میں :
نمک ، مرچ ،  ہلدی ، کلونجی ، رائی ، میتھی دانہ ،  سونف ہینگ  کے علاوہ   لہسن ، ادرک  بھی ڈالی جاتی ہیں ۔ 
آم کا انسانی صحت  پر اثر:
آم کو بلا شبہ پھلوں کا بادشاہ  کہا جاتا ہے اور اِس کے اچار کوذائقوں  میں سب سے زیادہ اہمیت حاصل ہے ۔  
آم میں سب سے زیادہ غدائیت پائی جاتی ہے ،۔ دیگر پھولوں سے زیادہ وٹامن   A موجود ہے ، وٹامن     B1 اور   B2 بھی ہیں ، اِس میں وٹامن سی بھی دیگر پھلوں سے کم نہیں ، اِس کے بیج میں وٹامن  B17 موجود ہے جو کینسر کے دفاع کے لئے بہترین ہے ۔ اِس کے فعال اجزا میں منگیفرن  ، گالک ایسڈ (GALLIC ACID)  اور  مٹھاس   15%  سے   19%  تک موجود ہے۔
 ٭ - ہاضمے کو درست کرتا ہے ۔
٭-عمر رسیدگی کے نشانات ختم کرتا ہے ۔
٭- ذہنی  صحت  کا ضامن ہے ۔
٭- انسانی امیون سسٹم کو مضبوط کرتا ہے ۔
٭- جلد کو تازگی بخشتا ہے ۔
٭- جسم میں انسولین کو ریگولیٹ کرتا ہے ۔
٭- ہیٹ سٹروک سے بچاتا ہے ۔
٭- بینائی کو تیز کرتا ہے ۔
٭- جسم میں الکلی کا توازن رکھتا ہے ۔
٭- کینسر کے خلاف مؤثر دفاعی صلاحیت رکھتا ہے ۔
٭-انسانوں  کے لئے قوت و فرحت بخش پھل ہے ۔

 ٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔