میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

جمعہ، 3 جون، 2016

میں کیا حقیقتِ رعنائیِ خیال کہوں

غزل
شکستِ رنگِ تمنّا کو، عرضِ حال کہوں
سُکوتِ لب کو تقاضائے صد، سوال کہوں

ہزار رُخ ترے ملنے کے ہیں، نہ ملنے میں
کسے فراق کہوں اور کسے، وصال کہوں

مجھے یقیں ہے کہ کچھ بھی چھپا نہیں، اُن سے
انہیں یہ ضد ہے  کہ  دلِ  مبتلا،  کا  حال  کہوں 


تو بے مثال سہی پھر بھی دل کو ہے اصرار
ادا   ادا   کو   تیری   عالمِ    مثال    کہوں

مزاج  محفلِ  گیتی  اگر  نہ  برہم  ہو
تو رنگِ عیش کو کردِ رُخِ ملال کہوں

ہوا کے دوش پہ ہے ایک شعلہء لرزاں
کہوں تو کیا تری تہذیب  کا  مآل  کہوں

وہ ایک خواب جو تعمیر آپ ہے اپنی
میں کیا حقیقتِ رعنائیِ  خیال  کہوں

غزل کی بات رہے گی وہیں  اگر سوبار
جواب  شوخی  و  رعنائی  غزال  کہوں

روش یہ سادگی، عشق کا تقاضا ہے
کمال ہوش کو اخلاص کا زوال کہوں

روش صدیقی

  • 1911-1971

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔