میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

جمعہ، 3 جون، 2016

زندہ باد..اے محبت زندہ باد

...محبت فاتح عالم....
اپنے لکھے محبت کے م اور عشق کے ق کو کم اہم نہ جانو.
'' م'' سے شروع ہونے والی جو کہانی'' ق ''پر ختم ہوتی ہے درحقیقت وہی تو لازوال ٹھہرتی ہے ..
 اسی کہانی کو تو صدیاں اپنے دامن میں پناہ دیتی ہیں . وہی کہانیاں تو جذبات کے اظہار کے لئے استعارہ بن جایا کرتی ہیں..
نہیں نہیں تم اپنے محبت ناموں کو آگ اس لئے نہیں لگاتے تھے کہ تمہیں سوالی بننا گوارا نہ تھا .
   . نہیں صاحب آج مجھے یہ مقدمہ لڑ ہی لینے دو .. وہ آگ دراصل تمہارے سوال کو نہیں لگتی تھی بلکہ وہ آگ اپنی آنچ پر تمہاری انا کے کاسے کو تپا کر اور مضبوط  کرتی تھی .. تم سمجھ ہی نہ پائے وہ کاسہ ء گدائی تھا جسے تم تاج سمجھ کر اپنے سر پر سجائے بیٹھا کئے ..
   آہ کاش تم وقت کی گہری جهیلوں میں اپنا عکس دیکھتے .. تو تم جان لیتے .. سچ کیا تھا .. لیکن تمہارے سر پر سجے تاج نے تمہیں جھکنے ہی نہ دیا ..
تمہیں سوالی بننا گوارا نہ تھا ..
 تمہیں جھکنا گوارا نہ تھا ..
 یہ جو انا ہے نا صاحب .. یہ بہت ظالم ہے.
. یہ گدا بننے نہیں دیتی ..
اور بادشاہ ہونا سوالی کی قسمت میں نہیں ہوتا..
نہ تو یہ تین میں رہنے دیتی ہے نہ ہی تیرہ بننے دیتی ہے..

.... کاش تم نے وقت کی چٹانوں میں چھپی کنواری جهیل کے نیلے پانیوں میں اپنا عکس دیکھ لیا ہوتا .. تم جان جاتے تمہارے کاندھے پر دھرا چہرا میرا تھا ..
رابعہ خرم درانی
 ہفتہ، 12 ستمبر، 2015

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔