میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

جمعہ، 3 جون، 2016

رعنائی خیال کا جنم


رعنائی خیال ...
آج 12 مارچ 2016 کو رعنائی خیال کو جنم لیے ایک سال مکمل ہو گیا. .
رعنائی خیال کا آغاز کیسے ہوا. .

وہ ایک خواب کہ تعمیر آپ ہے اپنی 
میں کیا حقیتِ رعنائیِ خیال کہوں
( روش صدیقی)

میرے دل میں بےشمار خیالات انگڑائی لیتے تھے جنہیں زبان پر لانے کے لیے جو حوصلہ درکار تھا وہ معاشرے کے رسوم و رواج میں گھری ایک خاتون کے پاس نہ تھا..
رابعہ ایسا سوچتی ہے .. یہ خیالات .. اتنا رومانس .اتنا تخیل . تصوف اور مسیحائی .. میرے اخلاص اظہار پر میرا پروفیشن ایک سوالیہ نشان کی طرح ایستادہ تھا. .
لوگ کیا کہیں گے.؟
. معاشرہ اسے کیسے قبول کرے گا .. ؟
میرے لکھے الفاظ کس پر کیا اثر چھوڑیں گے ..؟

یہ سب اور بہت سی ''ان کہی باتیں'''.. کچھ چھپے اوہام نے مل جل کر ایک قلمی نام اپنانے پر مجبور کیا .. اس قلمی نام نے مجھے لکھنے کی آذادی دی .. اظہار کا حوصلہ اور اپنے اندر کی گھٹن کو باہر نکالنے کا ذریعہ .
.
اگر میں نہ لکھتی تو کیا ہوتا ؟

.. یہ بالکل ایسی صورتحال ہوتی جیسے ایک پریشر ککر میں بھاپ کا دباؤ بڑھتا چلا جائے لیکن اس کے سیفٹی والو سے سیٹی کی آواز کے ساتھ بھاپ کا اخراج نہ ہو پائے اور آخر کار پریشر ککر پھٹ جائے. ..

...یا ساون کی موسلا دھار بارش کے پانی سے بھری چھت کا پرنالہ اگر رک جائے تو چھت بیٹھ جائے. . سو چلتا پرنالہ زندگی اور رکا پرنالہ موت ہے. .

مشہور شاعر گلزار اس کیفیت کو ابلتی ہانڈی سے تشبیہ دیتے ہیں. .
بس میرے اندر بھی خیالات کی بھاپ کچھ اسی طرح بڑھتی جا رہی تھی. .

پچھلے دنوں میری ایک پوسٹ'' وجد'' کے نام سے آپ احباب کی نظر سے گزری ہو گی .. بس وہی میری کیفیت تھی جس سے رعنائی خیال ظاہر ہوئی. .

میں اپنے لکھے الفاظ کو اپنے نام سے قبول کرنے میں دقت کا شکار تھی . لیکن اللہ کے کرم نے اپنے الفاظ کو اون کرنے کا حوصلہ بخشا. . میری پہلی پوسٹ ''محبت کی شادی کے بعد کی صورتحال '' وائرل ہوئی تو خیال آیا کہ اس طرح تو میرے خیالات چرا لیے جائیں گے .(. فیس بک پر تحریر کے کاپی رائٹس ہونا چاہئیں). . جب میں خود اپنے لکھے کو اپنا نام نہیں دوں گی تو پھر ہر قبضہ گروپ آزاد ہو جائے گا وہ وقت تھا جب میں نے رعنائی خیال کے نام سے پیج کا آغاز کیا .. اس وقت میرا اکاونٹ پہلی دفعہ بلاک ہوا لیکن چند گھنٹو ں میں واپس مل گیا . اسی زمانے میں میرا اوریجنل اکاونٹ اور اس سے متعلقہ بلاگ اور پیج ''رعنائی خیال -رابعہ خرم درانی کے نام سے چل رہے تھے وہ بھی ہیک ہو گئے اور آج تک واپسی نہیں ہوئی . یہ 13 ستمبر 2015 کا واقعہ ہے ..اللہ کریم نے لکھنے کا جذبہ قلم اور الفاظ دیے آپ احباب کی پزیرائی نے لکھنے کی خواہش کو ایڑ دی .. اور قلم کا گھوڑا دلکی چال چلنے لگا..

آج رعنائی خیال فیس بک پر اپنی پہلی سال گرہ مناتے ہوئے بے حد مطمئن ہے اور آپ سب کی شکر گزار بھی جن کی حوصلہ افزائی نے میرے خیالات کی رعنائی کو اظہار کا حوصلہ بخشا. .

آپ سب کی دعاوں کی طالب
ڈاکٹر رابعہ خرم درانی

نوٹ یہ تحریر 12 مارچ 2016 کو لکھ چکی تھی لیکن پبلک آج (28 مئی 2016 ) کی ہے.



٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔