میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

بدھ، 8 جون، 2016

گھریلو ملازمین ، برائے فوجی افسراں !

دوستو ! فوج سے فوجی گھریلو ملازم ، کی حیثیت ختم کرنے سے ، فوجی آفیسروں کو سویلئین ملازم رکھنے کی اجازت ملی ، جس کی داستان تو کوئی فوجی آفیسر ہی سنا سکتا ہے ، ہم اِس تجربے سے نہیں گذرے ۔
سویلئین ملازم تو سویلئن ہی ہوتا ہے ۔ نہ معلوم موڈ بدلے اور کب دوڑ جائے ، یا چھٹی جائے اور واپس ہی نہ آئے ۔ اب بے چارہ ، فوجی آفیسر ایک نئے ملازم کی تلاش میں ، کبھی جاننے والوں کی منتیں کر رہا ہے اور کبھی والدین کی کہ کسی کو بھجوادو ۔ میرے دونوں ، بچے بھی اِسی پریشانیوں میں گذرے ، کہتے ہیں کہ فوجی کو اچھی بیوی تو ڈھونڈنے سے ملتی ہے ۔لیکن اچھا بیٹ مین (اب سویلئین ملازم) قسمت والوں کو ملتا ہے ۔ میرا کیوں کہ بوائز ہاسٹل چلانے کا چار سالہ تجربہ ہے ، جس میں ، میس کے ویٹرز کی طرز پر ویٹرز کی تربیت اور باورچی کی ، ایسی تربیت کہ ، اردگرد کے دوست ، دوپہر کا کھانا کھانے ہاسٹل آیا کرتے تھے ، بلکہ جس کالج کے ساتھ ہاسٹل منسلک تھا اُس کے پرنسپل سمیت کم و بیش سارے استاد ، لنگر کی دال کی بڑی تعریف کرتے اور شوق سے کھاتے ۔ گو کہ یہ ماضی کی بات ہے لیکن دوست اب بھی فون کرتے ہیں ،
" یار ، بیٹے کو NCB چاھئیے بڑا تنگ ہے، کوئی اچھا سا ڈھونڈھ دو، جو کم از کم سال دوسال ٹِک کر رہے "
اب سویلئین کہاں ٹِک کر رھتا ہے ، وہ تو پاؤں ٹکانے کے لئے گھر سے نکلتا ہے ، جو نہی ساز گار ہوا ملتی ہے پُھر سے اُڑ جاتا ہے ۔ پہلے تو سرکار بھی بضد تھی ، کہ نہیں ، NCB میٹرک پاس ہونا چاھئیے ، لیکن آہستہ آہستہ احساس ہوا ، کہ بیگم صاحبہ ، بیگم صاحبہ بننے کے بعد روٹی نہیں پکا سکتی ، مرچیں نہیں کاٹ سکتی پیاز نہیں چھیل سکتی ، برتن نہیں دھو سکتی ۔
تو دس جماعت پاس ، اللہ دتہ کیسے یہ سب کر سکتا ہے ؟
وہ تو انگریز ہی تھا ۔ کہ جو باورچیوں ، ویٹرس اور بیٹ مین ، اَن پڑھ ہی پسند کرتا تھا ۔ چنانچہ اب ، انڈر میٹرک گھریلو مازمین بنانے کی چھوٹ مل گئی۔
لیکن تربیت یافتہ ملازم کہاں سے آئے ؟
اب فوجی آفیسر تو الگ ریٹائرڈ آفیسروں کو بھی گھریلو ملازمین کی ضرورت پڑھ گئی ہے ، وہ جن کے بچے فوج میں ہیں اُنہیں تو میڈیکل اَن فٹ NCB مل جاتے ہیں ، لیکن کئی اب بھی ، پرانے دن یاد کر کے آہیں بھرتے ہیں ۔
پچھلے دنوں ، چند دوستوں کی مجلس میں ، اِس قومی مسئلے کے حل کی ذمہ داری مجھ پر ڈالی ، کہ ملازمین کا کیا حل نکالا جائے؟
میں نے گھر آکر سوچا اور پلان بنایا کہ کس طرح ، آم کے آم اور گھٹلیوں کے دام کھرے کئے جائیں ، یعنی دوستوں کو بھی ملازمین ملیں اور فوجی آفیسروں کو بھی تربیت یافتہ ملازمین مل جائیں ۔ اورانڈر میٹرک بچوں کو اچھاروزگار بھی مل جائے ۔ جہاں اُن کا مستقبل بھی محفوظ ہو ۔ اور والدین کو بھی سہارا ملے ۔ کہ
" نالائق بیٹا نہ صرف برسرِ روزگار ہو گیا ہے اُسے نہ صرف پنشن ملے گی بلکہ ، اب ہمارا علاج بھی مفت ہوتا ہے "۔
اگر آپ کے ارد گرد کوئی ایسا ضرورت مند کم پڑھا لکھا نوجوان ہو ، تو اُسے اِس ملازمت کے بارے میں ضرور بتائیں اور اِس بات کا خیال رہے ، کہ ایک گھریلو ملازم ، جو ایک طرح سے گھر کا حصہ جب ہی بنتا ہے ، جب وہ شریف ، نظریں نیچی رکھنے والا اور محنتی پاکستانی فرد ہو ، جس کا کوئی پولیس ریکارڈ نہ ہو اور نہ ہی وہ کردار کا مشکوک ہو !
8 جون 2016 کو میں نے روزنامہ جنگ راولپنڈی میں اشتہار دیا ۔ 

صبح 7 بجے سے 5 بجے تک ، میں موبائل پر مصروف رہا اور فون کی تعداد سے اندازہ ہوا ، کہ بے روزگار افراد کی کمی نہیں !
کئی تو بچوں کے والدین تھے ۔بچوں نے بھی  کئے جو اپنے گاؤں میں بے روزگار تھے یا دیہاڑی پر کام کر رہے تھے ۔چنانچہ ۔ ایس ایم ایس میسج کے ذریعے ، امیدواران کے آنے والے فون کے جواب میں ، یہ میسج دینا شروع کیا ۔



خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔