میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

جمعہ، 3 جون، 2016

تسبیح


".....تسبیح ...''
''فَاذْكُرُ‌ونِي أَذْكُرْ‌كُمْ...لہٰذا تم مجھے یاد رکھو، میں تمہیں یاد رکھوں گا"
ہاتھ میں تسبیح ہو تو خود بخود زبان ورد کرتی رہتی ہے .. آہستہ آہستہ زبان کا ورد دل کا ورد بن جاتا ہے اور ارتکاز حاصل ہونے لگتا ہے .. 
آغاز بے توجہی سے لیکن اختتام مکمل ارتکاز پر ہوتا ہے .. بس آپ اسے حال کہہ لیں .. لیکن یہ ذکر اللہ کرنے میں ممد و معاون ضرور ہے ..
تسبیح بذات خود کچھ نہیں ہے لیکن جس طرح اوپری منزل پر جانے کے لئے سیڑهی ہے یا پانی پینے کے لئے پیالہ ہے۔ 

 اسی طرح ذکر کا آلہ تسبیح ہے
اللہ کے نام کو تواتر سے ادا کرنا بےشک ذکر ہے لیکن اپنے دل میں اللہ  کا خیال رکهنا اور اس کی محبت میں اپنی جان مال اور ہنر سے اللہ کے کنبے کی مدد کرنا بهی ذکر ہے ..
ذکر صرف انگلیوں یا تسبیح پر نام لینا نہیں ہے ..

 ورنہ تو پرندے بهی تسبیح کے محتاج ہوتے .. 
تسبیح ہر وہ عمل ہے جو خالصتا اللہ سبحان و تعالٰی کی خوشنودی کے لئے نیک نیتی سے کیا جائے اور اس میں دکهاوا مقصد نہ ہو....

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔