میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

ہفتہ، 16 جولائی، 2016

شیطان نامہ - قسط نمبر 33 ۔ب ۔ شیطان کا اعتراف

کچھ ذرا ہٹ کے .قسط نمبر 33 دوسرا حصہ سمجھ لیں.

ایک شیعہ بھائی نے شروع میں مجھے بہت بد دعائیں دیں یہاں تک کہ یزید کا پیرو کار قرار دیا-
 لیکن میری تمام پوسٹ دھیان نے پڑھتا رہا اور صرف ایک بات پر متفق ہوا اور اسی کو لے کر تحقیق کرنے نکل پڑا۔
وہ بات یہ تھی کہ آج سے چار سو سال پہلے ہندوستان میں کوئی شیعہ نہیں تھا . جب ظہیرالدین بابر نے ایرانی فوج کی مدد سے ہندوستان فتح کیا تو ایرانیوں کے کافی شیعہ خاندان (قزلباش اور کئی دوسرے ) ہندوستان میں مقیم ہوئے اور بادشاہ سلامت ظاہر ہے کہ ان کے احسان مند تھے اور خود بھی مذہب سے کوئی خاص لگاؤ نہ تھا -
جب ان خاندانوں نے ہندواستھان میں شیعت کی تبلیغ شروع کی تو انہیں کیا اعتراض ہو سکتا تھا اور یہ بات مجھے صدیوں سے معلوم ہے ۔
کہ ہندواستھان کےباسیوں میں جاہلیت کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی - خوف میں نے اِن کے دل میں بٹھایا ہوا تھا ، کہ 10 نمبر کام گرو گے تو اگلے جنم میں ، گوبر کا کیڑا بنو گے یا چھپکلی - اور تمام برائیوں کا علاج پروہت کے پاس ہے ۔ جو اعلیٰ نسلی براہمن ہیں ۔
ہاں تو بات ہورہی تھی شیعہ جاہل کی ، خیر وہ اتنا بھی جاہل نہیں تھا ۔ اُسے میں نے ایک واقعہ بتایا ۔ جو میری ایک مرید نے مجھے سنایا تھا ۔ اس نے بتایا،

" میرے دادا جو سیدھے سادے سُنّی مسلمان تھے ۔ میری دادی کے مرنے کے بعد دوسری شادی ایک شیعہ عورت سے کی اور جوان بیوی، کی
خوشی کے لئے، اپنے بچوں کو شیعہ ازم پر چلنے سے منع نہ کیا اور خود بھی آدھے  شیعہ ہو گئے، بالکل ایسے جیسے عرب سے آئے ہوئے تاجروں نے ہندو بیویوں، کو خوش رکھنے کے لئے ، اُنہیں بھجن سے منع نہ کیا کیوں کہ اب وہ بھجن میں ، بھگوان اور اُن کے اورتاروں کا تو نہیں اللہ اور رسول کا نام لیتیں ، مولا علی کے قصیدے پڑھتیں ، کنواری کنیّا کا رقص، دھمال میں تبدیل ہوا،  تو انہوں  بریلویت اختیار کر لی ۔
تو جناب ہمارے خاندان میں شیعت شامل ہو گئی ۔ یوں ہم سُنّی ہمارے سوتیلے چاچے تایا اور پھوپیاں جو کم و بیش 13 افراد تھے خالص سید شیعہ ، اُس سے پہلے ہمارے خاندان میں کوئی شیعہ نہ تھا ۔ پھر میری شادی بھی دادی کی بہن کی پوتی سے ہوگئی ، تو میرے بچے بھی سید النسل ہو گئے اور میں شاہ جی کیوں کہ سیّدہ کا شوہر تھا ۔
اور یوں ہم سب خاندان ، کٹر شیعہ ہو گئے۔
چنانچہ کوئی تیسری کوئی چوتھی نسل سے شیعہ ہوا تھا اور اس سے پہلے شاذ و نادر ہی کسی کو پتہ تھا۔ جب میں نے ، علاقے کے رہنے والے ، دوسرے شیعہ بھائیوں سے خاموشی سے  تحقیق کی تو معلوم ہوا ، کہ ایرانی شیعاؤں کی عورتوں کی سُنّیوں سے شادیوں نے ، ہندواستھان میں شیعت کو فروغ دیا ۔ شروع شروع ، میں شیعاؤں اور سنّیوں میں زیادہ تضاد نہ تھا ۔ کیوں کہ کچھ سُنّی خواتین اُدھر اور کچھ شیعہ خواتین اِدھر۔
  سُنّی خواتین تو شیعاؤں کو سُنّی نہ بنا سکیں ، معلوم نہیں کیوں ؟ لیکن اُنہیں بریلوی ضرور بنا دیا ، بھجن، قوالیوں میں اور رقص، دھمال میں جو تبدیل ہو گئے ۔ شاعری اور اعضاء کی شاعری نے درگاہوں، کو مندروں سے زیادہ پر کشش تو نہ بنا سکیں لیکن زیادہ رشتے ، دھمال کی برکت سے ہونے لگے ۔ "

پاک استھان بننے کے بعد ، تو شیعہ ایسے ابھرے ، جیسے برسات میں دیمک ابھرتی ہے ۔ سیدوں نے درگاہوں کا چارج لیا اور شاہ قبیل کے لوگوں نے درگاہوں پر ، قوالیاں  اور دھمال کے شعبے سنبھالے ۔

  اُ س نے جب شیطان نامہ پڑھا ، تو اُسے معلوم ہوا کہ یزید اور معاویہ کی ہمارے نبی پاک سے کیسی قریبی اور مقدس رشتہ داریاں تھیں اور حضرت حسین کا یزید سے کتنا قریبی رشتہ تھا۔



 ورنہ پہلے اسے یہ بھی پتہ نہ تھا کہ یزید کافر تھا یا مسلمان اور جب پتہ چلا کہ وہ تو مسلمانوں کا بادشاہ تھا اور حج کرواتا تھا اور امام حسین نے اس کے پیچھے نمازیں پڑھیں ہیں اور جس لشکر کو حضور پاک نے جنت کی بشارت دی وہ اسکا سپہ سالار تھا تو اُس نے شیعت میں تبرّہ جیسی مقدس عبادت سے توبہ کر لی ، اور قسم کھائی کہ وہ ، حضور کے سالے کے بیٹوں اور پوتوں پر کبھی تبرّہ نہیں کرے گا ۔  اور اپنا تعارف صرف مسلمان کی حیثیت سے کروائے گا ۔

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭



خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔