میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

ہفتہ، 30 جولائی، 2016

شیطان نامہ - قسط نمبر 35 . واقعات کربلا تاریخ دانوں کی نظر میں


یہ حقیقت ہے کہ کربلا کے جو واقعات عام طور پر مشہور ہیں اور کتابوں میں درج ہیں ان کی حیثیت افسانہ سے زیادہ کچھ بھی نہیں!
 اصلیت کیا ہے ؟ 
اس کا سراغ لگانا اور سچ کو جھوٹ سے تمیز کرنا دشوار ہی نہیں بلکہ نا ممکن کے قریب ہے راویوں کا اپنا چشم دید واقعہ کوئی نہیں سب سنی سنائی باتیں ہیں۔ 
قدیم ترین راوی ابو محنف ، لوط بن یحیی اور اس کا بیٹا ہشام اور اس قماش کے دوسرے تاریخ دانوں کو آئمہ رجال اور ان کے ہمعصر تاریخ دانوں اور بعد میں آنے والے مورخین نے کٹر شیعہ ، جھوٹا ، دروغ گو اور کذاب قرار دیا ہے۔ 
خانہ جنگیوں پر ان کی مختلف تالیفات ہیں ، جنگ جمل ، صفین اور نہروان اور کربلا پر "مقتل ابی محنف" مشہور ہے، جو جھوٹی کہانیوں اور داستان سرائیوں سے بھر پور ہے اور  بیشتر روایتیں ان کی اپنی گھڑی ہوئی ہیں ان کی ساری روایتوں کو ابن جریر طبری نے " قال ابو محنف " کی تکرار کے ساتھ اپنی کتاب میں شامل کر لیا
 اور طبری سے دوسرے مورخین نے انہیں نقل در نقل اپنی تاریخوں میں شامل کرنا شروع کر دیا اس لئے ان موضوعات کو اعتبار کا درجہ حاصل ہوتا گیا۔
کربلا کے حادثے کے وقت تو ابو محنف کا اس دنیا میں وجود ہی نہ تھا اس کا سن وفات حضرت امام ذہبی نے 170 ھ کے لگ بھگ بتایا ہے .(میزان الاعتدال جلد 2 صفحہ 260) اور بعض لوگوں نے 175 ھ یعنی حادثہ کربلا کے 100 سال بعد .اور وہ کس قسم کے تاریخ دان تھے آئمہ رجال کے اقوال ان کے بارے میں سنیئے.
٭ ۔  صاحب "کشف الاحوال فی نقد الرجال" صفحہ 92 میں کہتے ہیں لوط بن یحیی اور ابو محنف کذاب تھے .
٭ ۔صاحب "تذکرہ الموضوعات" نام لکھ کر " کذاب " کے لفظ سے ان کا تعارف کراتے ہیں .صفحہ 286 .

٭ ۔ امام سیوطی. "الا لی المفنو عہ فی الاحادیث الموضوعہ" صفحہ 386 میں ابو محنف اور اس کے ہم داستان گو الکلبی کے بارے میں لکھا ہے "کذابان "
٭ ۔ دار قطنی نے کہا کسی اعتبار کے لائق نہیں۔
٭ ۔ ابو حاتم نے متروک قرار دیا . اور فرمایا کہ وہ ضعیف ہے ۔
٭ ۔ ابن معین کہتے ہیں کسی اعتبار کے لائق نہیں .
٭ ۔ مرہ فرماتے ہیں کہ وہ تو کوئی چیز ہی نہیں 
٭ ۔ ابن عدی نے فرمایا وہ تو کٹر شیعہ ہے اور شیعوں ہی کی خبریں روایت کرتا ہے.(معجم الدبا جلد 2 صفحہ 41) اور فرمایا کہ وہ کوفی تھا اور اس کی روایتیں کسی کام کی نہیں .
٭ ۔  محمّد بن السائب کلبی ابو النصر الکونی کے بارے میں ابن حبان فرماتے ہیں کہ الکلبی سبائی گروہ کا تھا۔ جو کہتے ہیں کے علی کو موت نہیں آئی وہ لوٹ کر دنیا میں آئیں گے اور اس کو عدل سے اس طرح بھر دیں گے جس طرح ظلم سے بھری ہے . (میزان الاعتدال جلد 3 صفحہ 62)
٭ ۔ یحیی بن معین کہ الکلبی لائق اعتماد نہیں .
٭ ۔جوزنجانی کہتے ہیں ہیں وہ کذاب تھا .
٭ ۔دار قطنی اور ائمہ رجال کی ایک جماعت نے اس کو متروک قرار دیا ہے ۔ 
٭ ۔ اعشق نے فرمایا اس سبائی کلبی سے بچتے رہو وہ کذاب ہے .اور اس کا بیٹا ہشام بھی راوی ہے اور کوئی 150 رسائل اور کتابوں کا مصنف ہے جس کا پورا نام محمّد بن السائب الکلبی ابو المندر ہے اور اس کو متروک قرار دیا ہے .
٭ ۔ ابن عساکر نے فرمایا کہ وہ رافضی نا قابل اعتبار ہے .میزان الاعتدال جلد 3 صفحہ 256 .
٭ ۔ شیخ الاسلام ابن تیمیہ نے بھی ان کو جھوٹا بتایا ہے فرماتے ہیں .
کہ ابو محنف اور ہشام بن محمّد بن السائب کلبی اور ان جیسے راویوں کا دروغ گو اور جھوٹا ہونا تو اہل علم میں مشہور اور معروف بات ہے . منہاج السنہ جلد 1 صفحہ 13 .
الغرض یہ ہیں وہ راوی اور اس قماش کے دوسرے بھی جن کی من گھڑت روایتوں سے داستان کربلا مرتب ہوئی آپ لوگ عقیدت اور توہم پرستی سے ذرا ہٹ کر سوچیں جن کو امام ابن تیمیہ کچھ جھوٹ اور کذب بیانی .من گھڑت اور کذب حق نما فرماتے ہیں.ابن تیمیہ فرماتے ہیں کہ انہوں نے بہت چھوٹی چھوٹی باتوں کو بڑھا چڑھا کر بیان کیا ہے اور حسین کی عظمت ، مفاد کا بھی خیال نہیں کیا فتوحات کے بارے میں جھوٹے قصے بیان کیے ہیں اور قتل حسین کی خبریں بیان کرنے والے جو اہل علم مصنف ہیں جیسے بغوی اور ابن ابی الدینا انہوں نے بھی با وجود اپنے علم کے اس بارے میں نقل ہی ماری ہے تحقیق نہیں کی اور جو مصنف بغیر سند کے اس بارے میں کہتے ہیں وہ تو جھوٹ ہی جھوٹ ہے .(منہاج السنتہ جلد 2 صفحہ 248 ).
یہاں داستان کربلا کی من گھڑت روایتیں بیان کرنے کا موقح نہیں ہے زمانۂ حال کے ایک شیعہ مورخ جناب شاکر حسین امروہی مصنف مجاہد اعظم فرماتے ہیں کہ سینکڑوں باتیں لوگوں نے اپنی طبیت اور ذہنیت کے تحت تراش لیں واقعات کی تدوین عرصۂ دراز کے بعد ہوئی رفتہ رفتہ اختلافات کی اس قدر کثرت ہو گئی کہ جھوٹ کو سچ اور سچ کو جھوٹ سے تمیز کرنا بہت مشکل ہو گیا .
ابو محنف اور لوط بن یحیی کربلا میں تو خود موجود نہ تھے اس لئے یہ سب واقعات انہوں نے سن سنا کر لکھے لہذا مقتل ابو محنف پر بھی پورا وثوق نہیں پھر یہ کہ مقتل ابو محنف کے مختلف نسخے پائے جاتے ہے ہیں ۔ جن کا بیان بھی ایک دوسرے سے نہیں ملتا اور خود ابو محنف واقعات کے جمح کرنے والے نہیں بلکہ کسی اور ہی شخص نے ان کے بیان کردہ سنے سنائے واقعات کو قلمبند کر دیا ہے ۔
مختصر یہ کہ شہادت امام حسین کے متعلق تمام واقعات ابتداء سے انتہا تک اس قدر اختلافات سے بھرے ہیں کہ اگر ان کو ایک ایک کر کے بیان کیا جاۓ تو کئی بڑے بڑے دفتر بھی کم پڑ جائیں گے اور اکثر واقعات مثال کے طور پر ٭ ۔ تین رات اور دن پانی کا بند رہنا ،
٭ ۔ مخالف فوج کا لاکھوں کی تعداد میں ہونا ،
٭ ۔ شمر کا آپ کے سینہ مبارک پر بیٹھ کر آپ کا سر جدا کرنا ، 
٭ ۔آپ کی لاش سے کپڑے تک اتار لینا ، 
٭ ۔آپ کی لاش مبارک کو گھوڑوں کے سموں تلے روندنا ،  
٭ ۔نبی زادوں کی چادریں تک چھین لینا ، 
٭ ۔آپ کے سر مبارک کی توہین وغیرہ وغیرہ 

نہایت مشہور اور ہر شخص کی زبان پر ہیں حالانکہ ان میں سے بعض سرے سے غلط ہیں ، بعض مشکوک ہیں بعض ضیف بعض مبالغہ آمیز اور بعض تو بالکل من گھڑت ہیں 



٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
 

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔