میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

جمعہ، 1 جولائی، 2016

مؤمن اور فاسق برابر نہیں ہو سکتے !

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا :
جب کوئی فاسق تمھارے پاس کسی نباء ( بریکنگ نیوز ) کے ساتھ آئے - 
 تو تم سب نے کیا کرنا ہے !
اللہ نے رسول اللہ کو مزید تفصیلات بتائیں :
  
 ٭ قومِ نوح پہلے بھی فاسق، اور اب اُن کی ذُریّت میں فاسقین ہیں !
  وَقَوْمَ نُوحٍ مِّن قَبْلُ إِنَّهُمْ كَانُوا قَوْمًا فَاسِقِينَ ﴿51/46﴾

 
٭ فسق کو دور کرنے کے لئے اللہ نے اُن کی نباء (بریکنگ نوز والی خصلت) کو بہتر بنانے کے لے  دی اور  تَبَيَّن کے لئے الْكِتَابَ دی تاکہ وہ فَتُصْبِحُوا کرنے کے بجائے اُس میں هُدًى اور نُورٌ تلاش کریں اورمُّهْتَدٍ   بنیں چنانچہ اِس مقصد کے لئے اللہ نے  نُوحً  اور إِبْرَاهِيمَ  کو ارسال کیا :
وَلَقَدْ أَرْسَلْنَا نُوحًا وَإِبْرَاهِيمَ وَجَعَلْنَا فِي ذُرِّيَّتِهِمَا النُّبُوَّةَ وَالْكِتَابَ فَمِنْهُم مُّهْتَدٍ وَكَثِيرٌ مِّنْهُمْ فَاسِقُونَ ﴿57/26﴾
اور حقیقت میں ہم نے نُوحً  اور إِبْرَاهِيمَ کوارسال کیا
 اور اُن دونوں کی ذُرِّيَّت میں النُّبُوَّةَ  اور الْكِتَابَ برقرار رکھی ۔ 
 اُن میں مُّهْتَدٍ بھی ہیں اور كَثِيرٌ ، فَاسِقُ ہیں

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔