میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

منگل، 12 جولائی، 2016

تعلیم برائے روزگار

میں ہر ماہ جب پنشن لینے ، کراچی کمپنی اپنے بنک جاتا ہوں ۔ تو گاڑیوں کے اِس ہسپتال ضرور جاتا ہوں ، بلکہ اپنی یا بیٹیوں کی گاڑی کا کوئی کام پنڈی میں کرواتا ہوں،
تو نو آموز تربیت کرنے والے بچوں سے مل کر میں بہت خوش ہوتا ہوں اور اُن کی حوصلہ افزائی کرتا ہوں ۔

اُن سے سوال کرتا ہوں ، اُن کے نہ پڑھنے سے متعلق ، اُن کے والد اور بھائی  بہنوں سے متعلق ، اور سکول میں پڑھائی کیوں نہیں کی ؟

میں نے کسی بچے کے چہرے پر مایوسی کی جھلک نہیں دیکھی ، کہ وہ صاف کپڑے پہن کر سکول میں نہیں پڑھ سکا ۔
پھر اُن سے بالکل انجان صاحب بن کر سوال پوچھ کر اُن کی فنّی سطح جاننے کی کوشش  کرتا ہوں ۔
جب وہ بتاتے ہیں ، تو ایک ایسے بے وقوف شخص کا کردار ادا کرتا ہوں جسے صرف گاڑی چلانا آتی ہے -
وہ بچہ اپنے اندر اپنے فیلڈ کا اپنے تجربے اور قابلیت کے لحاظ سے معلومات کا خزانہ رکھتا ہے ۔
جب وہ بتارہا ہوتا ہے تو اُس کا چہرہ اور اُس کا اتار چڑھاؤ اور جذباتی پن دیکھنے سے تعلق رکھتا ہے اور جب میں اُسے یہ کہہ کر تعلیمی سند دیتا ہوں ، کہ تم پانچویں ، آٹھویں اور دسویں کلاس کے بچے کے برابر ٹیکنیکل معلومات رکھتے ہو تو اُس کے چہرے پر شک اور آنکھوں کے سکیڑنے سے اچنبھے کا اظہار ہوتا ہے ۔

میں اُسے ٹافی دیتا ہوں اور کہتا ہوں ، کہ اگر تم مجھے گاڑی کے پرزوں کے ہر ملاقات پر 20 نام انگلش میں بتاؤ ، تو 100 نام بتانے اور وہ پرزے دکھانے پر میں تمھیں اپنی طرف سے ، تعریفی سرٹیفکیٹ دوں گا ۔ جس کا مطلب ہوگا کہ " تعلیم برائے روزگار " کے لحاظ سے تمھاری فنّی اور معلوماتی قابلیت، آٹھویں  کلاس کے بچے کے برابر ہے ۔ اِس وقت تم پانچوں کلاس کے بچے سے زیادہ ، فنّی معلومات رکھتے ہو !

جب میں جیب سے نکال کر اُسے ٹافی دیتا ہوں ، تو اُس کی آنکھوں میں مجھے نظر آنی والی خوشی کی لہر ۔ مجھے چم چم ، لڈو اور برفی کی یاد دلاتی ہے ۔

اور اُس بچے کا جوش و خروش دیکھنے سے تعلق رکھتا ہے ،
دو سال کے اِس مختصر عرصہ میں 15 بچے ابھی تک 40 کا ہندسہ عبور نہیں کر سکے کیوں ؟
یہ الگ داستان ہے ۔

کہ کوئی استاد ، اپنے چھوٹے کو خود سے آگے نکلتا نہیں دیکھ سکتا ۔

لیکن 2014 سے پہلے جب میں جی نائن ون میں رہتا تھا تو کم و بیش 60 بچوں نے یہ سرٹیفکیٹ حاصل کیا ۔

ٹیچر ٹریننگ میں تو بہت سے بچے اور بچیاں تھیں ، جنہوں نے مجھ سے یہ تربیت
پرسنیلٹی ڈویلپمنٹ فیلڈ میں حاصل کی ۔ 


خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔