میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

ہفتہ، 16 جولائی، 2016

ایک خاتون کا ۔ میڈیا کے ہاتھوں قتل


اِس سے پہلے بھائی کی غیرت نہیں جاگی ؟
جب وہ یو ٹیوب پر ، اپنے جسمانی فن کا اظہار کر رہی تھی ۔
کیوں کہ کسی کو اُس کے ماضی کا نہیں پتا تھا ۔
جب قندیل بلوچ ، کے ماضی سے پردہ اٹھا اور فوزیہ عظیم کا روپ سامنے آیا ، تو شاہ صدر دین کے نوجوان، جوان ، ادھیڑ عمروں اور بوڑھوں میں غیرت جاگ اُٹھی ۔
یوں شاہ صدر دین کی فوزیہ عظیم ملک، میڈیا کے ہاتھوں قتل ہو گئی ۔
 

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔