میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

اتوار, جولائی 17, 2016

ایک باغی کی رائے ۔

قندیل بلوچ کے نکاح نامےاور شناختی کارڈ دکھا کر اسکی شناخت کروا کے میڈیا نے اس کے بھائی کو اس نہج پر لاکر کھڑا کردیا کہ وہ آج اسے قتل کرنے کے بعد کہتا ہے ۔
اسے کوئی ندامت نہیں وہ بلوچ ہے وہ یہ جانتا ہے کہ وہ بلوچ ہے ، 
کاش کہ وہ یہ جانتا کہ ہم انسان ہیں ۔
اور وہ میڈیا جو خبر کی تلاش میں پاگل کتے کی طرح ریٹنگ کے چکر میں فوزیہ عظیم کو پہلے قندیل بلوچ بناتا ہے۔ اور پھر سے فوزیہ عظیم بنا کر اسکو قتل کرواتا ہے اس کے قتل کی خبریں نشر کرکے ریٹنگ ہی  بڑھاتا رہا ہے،
کوئی انسان بھی آج کے دور میں پرفیکٹ نہیں ہے تو قندیل بلوچ کو کس جرم کی سزا دی گئی
۔۔۔۔ میڈیا کو جس دن ہم نے کنٹرول کرلیا ملک میں امن ہوجائے گا میں بحثیت صحافی میڈیا کے اس فعل کی شدید مذمت کرتا ہوں 
دعا گو ہوں کہ
اللہ قندیل بلوچ کو جنت میں جگہ دے
اسکے ساتھ آسانی والا معاملہ فرمائے
اور اسکے والدین کو صبر جمیل عطا
فرمائے ۔۔۔۔۔۔۔ آمین 

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔