میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

بدھ، 27 جولائی، 2016

میں نے پہلے ہی بتا دیا ہے

ایک لڑکی اکیلی گھر سے نکلی اور طوطا خریدنے بازار گئی اور اسے ایک بولنے والا طوطا پسند آیا۔
لڑکی طوطے سے " میں کیسی لگ رہی ہوں ؟"
طوطا " بہت آوارہ سی لگ رہی ہو "

لڑکی کو غصہ آیا۔ طوطے کے مالک دکاندار کو بھی اپنی گاہکی خراب ہوتی دیکھ کر غصہ آیا ۔ طوطے کو پانی میں غوطہ دیا اور کہا
"اب اگر تم نے غلط بات کی تو پانی میں ڈبو دوں گا۔ "
طوطے نے ٹھیک بات کرنے کا وعدہ کرلیا۔
لڑکی پھر بولی ،
" اچھا یہ بتاؤ کہ گھر میں اگر ایک میں ہوں اور ایک اور آدمی ہو تو وہ کون ہوسکتا ہے ؟"
طوطا " تمھارا شوہر "
لڑکی " اور اگر میرے ساتھ 2 آدمی ہوں تو دوسرا آدمی کون ہوگا؟"
طوطا ۔ "تمھارے شوہر کا بھائی ۔ یعنی تمھارا دیور"
لڑکی ۔" اور اگر 3 آدمی ہوں‌تو ؟"
طوطا ۔" تمھارا شوہر، دیور اور تمھارا سسر "
لڑکی ۔ " اور اگر 4 آدمی ہوں تو ۔۔۔ ؟؟؟؟"

طوطا ۔ (مالک کو مخاطب کرکے ) ۔ "پانی لاؤ میں نے پہلے ہی کہا تھا لڑکی آوارہ ہے۔ "

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔