میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

جمعرات، 21 جولائی، 2016

ہم اور ہم !


٭  -    ہم اور⁠⁠⁠⁠⁠ہمارے خودساختہ مذہبی تصورات عجیب وغریب ہیں۔ 
٭  -     ہم گالیاں تجوید سے دیتے ہیں اور قرآن پاک غلط پڑھتے ہیں۔
٭  -  ستائیسویں رمضان کی رات نوافل میں گزرتی ہے اور صبح کی فرض نماز کے وقت تھک کر سوجاتے ہیں۔ 
٭  -  زندگی میں سینکڑوں ہزاروں بار قرآن پاک ختم کرتے ہیں لیکن حرام ہے جو چار آیتوں کا مفہوم سمجھ یا سمجھا سکیں۔ 
٭  -  دوستوں پر ہزاروں روپے خرچ کردیتے ہیں اور قریبی اعزہ بھوک سے ایڑیاں رگڑتے رہیں تو پرواہ نہیں کرتے۔ 
٭  -  بچوں کو گراں ترین تعلیمی اداروں میں بھیجتے ہیں خواہ ملک کے اندر یا ملک سے باہر، لیکن ان کی مذہبی تعلیم پر چند سوروپے خرچ کرنے پڑیں تو پیٹ میں قولنج سے بدتر درد پڑنے لگتا ہے۔ 
٭  -  کاروبار میں ملاوٹ سے لے کر ٹیکس چوری تک، تجاوزات سے لے کر دروغ گوئی تک ہر گناہ کو جائز سمجھتے ہیں لیکن عرسوں‘ قوالیوں‘ دیگوں اور چندوں سے اپنے آپ کو دھو کر نفاق کی دھوپ میں خشک کرلیتے ہیں۔ 
٭  -  باس کے‘ خواہ احمق ہی کیوں نہ ہو اور حرام ہی کیوں نہ کھاتا ہو، جوتے سیدھے کرتے ہیں لیکن والد کے سامنے تڑ تڑ بکواس کرتے ہیں۔ 
٭  -  فضائل قرآن سن سن کر اور سنا سنا کر بال سفید ہوجاتے ہیں لیکن قرآن سے تادم آخر ناآشنا رہتے ہیں۔ 
٭  -  عشق رسول کا دعویٰ کرتے ہیں لیکن صبح سے شام تک عملی زندگی کی ہرسانس میں خدا کے رسولؐ کی نافرمانی کرتے ہیں۔ 
٭  -  اپنے ملک کے حصے ایک ایک کرکے الگ ہورہے ہیں لیکن کبھی وائٹ ہائوس پر قبضہ کرنے کے خواب دیکھتے ہیں اور کبھی کسی دوسرے ملک کے قلعہ پر پرچم لہرانے کا نعرہ لگاتے ہیں۔ 
٭  -  درجنوں کے حساب سے ہمارے معصوم ہم وطن ہرروز گاجر مولی کی طرح کاٹ دیئے جاتے ہیں لیکن وہ ہمیں کیڑوں کی طرح حقیر لگتے ہیں اور ہمارے درد دل کا سارا سرمایہ چیچنیا سے لے کر مصر تک بیرون ملک صرف ہوجاتا ہے۔ 
٭  -  ہم جب جوان اور توانا ہوتے ہیں تو بنکاک اور لندن کی یاترا کرتے رہتے ہیں اور جب بڈھے کھوسٹ‘ اپاہج‘ ضعیف اور بدحواس ہوجاتے ہیں تو ہمیں خدا کا گھر اور نبیؐ کا روضہ یاد آنے لگتا ہے ،
٭  -  ہم پوری دنیا کے مسلمانوں سے وکھرے ہیں اور پوری دنیا کے مسلمانوں سے اپنے آپ کو برتر سمجھتے ہیں.


خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔