میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

جمعرات، 7 جولائی، 2016

آفاقی سچ - مہاجر زادہ کے مذہبی اساتذہ

ایک دوست نے ، فیس بک  کی پرسنل چیٹ  پر پوچھا آپ کون ہیں ?
  اور آپ کس کے شاگرد ہیں ؟
 دوستو! میرے مذہبی استادوں کی فہرست بہت طویل ہے ۔
 میری زندگی میں ہر بچے کی طرح ، پہلے استاد  ماں ، باپ اور دیگر بزرگ تھے   ۔   دادا کے والد  کے والد کے  والد کے  والد ،منگول تجارت  پیشہ تھے  ، فوجی نہیں  ،  اورنگ آباد کی  درّانی خاندان  اور بغداد کے جیلانی   مریدوں ، میں اُن کاسسرال تھا ،  کیوں کہ شیخ عبدالقادر جیلانی ، کے مزار کے متولّی کے ہاتھ پر بیعت کر کے  ، شیخ سے شیخو   کا تخلص اپنایا ۔
 بغداد اور اورنگ آباد کے درمیان اُن کا ایک پڑاؤ کوئٹہ میں بھی تھا ،یہاں بھی سستانے کے لئے ایک پڑاؤ، شیخو زئی  اُنہوں نے بنا لیا ۔  اِس ناچیز  کے دادا کا تعلق اورنگ آباد والے سسرالِ مودود   چشتیہ سے تھا ۔ ویسے داداؤں کے باقی سسرال لنکا سے بربر  تک بکھرے ہوئے ہیں ، جن کے بارے میں زیادہ معلومات نہیں ، کیوں کہ اُن دونوں میڈیا کمزور تھا ۔ اور یہی حال ناناؤں  اور ماموؤں کا تھا ۔ 
والد  ( 1 جولائی  1921 تا  9 فروری 2006 ) محترم کی ریکارڈڈ دو شادیاں ہیں ، 
٭- ایک     امراوتی میں رہ گئیں ، اپنے گھرانے کو چھوڑ کر اکیلے  بچے سمیت ،  پاکستان آنے سے انکار کر دیا، لہذا انہیں شرعی طلاق بھجوا دی ، اُن سے ایک بیٹا تھا جو ہیضہ کی بیماری میں دو سال کا اللہ کے پاس واپس چلا گیا۔
دوسری میری والدہ محترمہ تھیں ( 1 دسمبر  1928 تا    28  دسمبر  1988)  ، جن سے سیالکوٹ میں شادی ہوئی  -
 والد کا دل بہت ہوتا تھا کہ انڈیا جائیں اور اپنی تینوں بہنوں سے ملیں ، مگر فوج کی ملازمت کی وجہ سے ، جانا تو درکنار خط لکھنے پر پابندی تھی ۔ میرپورخاص میں دادی اور چچا کے پاس آنے والے خطوں سے  معلومات ہوجاتی تھی ، لیکن دادی کی 1958 اور چچا کی 1959 میں وفات کے بعد  یہ سلسلہ بھی ختم ہو گیا ۔
والد اور ماموں نے 1941  لاہور میں ،  ابوالاعلیٰ  کے ہاتھ پر جماعت کے پہلے اجلاس کے دوسرے دن بیعت کی ۔  
 یوں مہاجر زادہ نے  ،  بچپن  سے جماعت کا مکّی دور ، مدنی دور اور اموی دور  بھی دیکھا ۔ والدین کو بچپن سے  مودودوی تعلیم پر دیکھا ،   اُنہوں بھی اُسی پر ڈالا  ، لیکن ساتھ یہ بھی گرہ باندھی ، کہ 
آنکھ بند کر کے یقین مت کرنا سیکھو!
خود بھی سوچو کی چیزوں کو بہتر کیسے کر سکتے ہو ؟
 دین میں سوالات اور سوچ ممنوع نہیں!
کیوں کہ اگر " سید ابولاعلیٰ  مودودی  "  قرآن پر غور و خوض نہ کرتے تو ہندوستان جہالت اور بدعات کی تاریکی میں گھرا رہتا ۔  
" خود سوچو !" کی اِس مضبوط دلیل نے مہاجرزادہ کی سوچ کی اُڑان برقرار رکھی  ، علم میں اضعافے کے ساتھ  اساتذہ بھی  تبدیل ہوتے رہے ۔
اس طرح تو میں پہلے ، مودودی کا ، عملی شاگرد بنا ، کیوں کہ سوچنے کا کام تمام   شاگردانِ  مودودی نے ،  اپنے سلفِ صالح مودودی  پر چھوڑ دیا ۔

   مودوویوں کے ہاں  ، رسومات نہیں البتہ اُس کا  برقعہ بدعت صحیح  میں شمار ہوتا تھا ، برقعہ تو  مرزائی دوشیزاؤں کا بھی بدعت ِ بد میں شمار ہوتا  کیوں ؟   ۔ ۔ ۔ معلوم نہیں !

کوئٹہ میں مسیح دوست تھا ۔ اُس نے بتایا کہ ہم میں اور مسلمانوں میں کوئی فرق نہیں ، بس مسلمانوں  نے با ئیبل   تبدیل کر دی ہے ، اُس سے لے کر اردو میں بائیبل  (کتابِ مقدّس ) پڑھی ، یوں محسوس ہوا ، واقعی  مسلمانوں نے بائیبل  کو اسلامی برقعہ اوڑھا کر تبدیل کر لیا ہے پڑھی۔پھر چرچ کا کتابی  شاگرد رہا ۔فقط چرچ و مسجد کی عبادات   کا فرق دیکھا ، باقی سب کچھ 

بائیبل ہی کی جدید شکل  مسلمانوں کے پاس  احادیث  میں  اور مودودوی  و دیگر کتابوں میں دیکھی ، جسے عیسائی ، عیسائیت میں مسلمانوں کی بدعتِ شدید کہتے ہیں ۔
 پھر رئیس امروہی یعنی شیعوں کا  عملی شاگر د،  مراقبے ، تحلیل نفسی اور دیگر اشغالات    کی وجہ سے بنا ، مسجد میں  نماز کی حد تک رہا ، سینہ کوبی نہیں کی ۔
 پھر ایک دوست احمدی تھا ، تو غلام احمد   کے مبلغین کے لیکچر سن کر  اُس کا، سُنّی   شاگرد بنا ، اُن کی مساجد میں نہیں گیا ۔
 پھر میں آغا خان کا شاگرد ،اُس کی کچھ تعلیمات کی وجہ سے بنا ، کیوں کہ اُن کی عبادت گاہ میں داخلہ کچھ شرائط سے مخصوص ہے ۔


میرپورخاص میں بہت سے ہندو دوست  تھے ، نہ انہیں گیتا آتی تھی نہ انہوں نے مجھے پڑھنے کو دی ، لیکن ہندو رسومات سے پوری واقفیت تھی کیوں کہ یہ اسلامی برقعہ  اوڑھ کر مسلمانوں کے درمیان پھرتی تھی ۔آپ کہہ سکتے ہیں ، کہ  ہنومان جی اور رام جی کا شاگرد بھی رہا ۔ پرشاد کھانے کی حد تک  اور   دل کے سکون کے لئے گیان ( مراقبہ بذریعہ  منتر )  کی مشقوں تک۔   مجھے یاد ہے کہ  کامیابی سے گیان کی مشق کرنے کے بعد ،  تِلک لگوانے پر-
پانچویں کلاس میں  سردیوں کی چھٹیوں پر  بڑے خالہ زاد بھائی  کے ہاتھو ں مشقِ ستم بنا ۔ لیکن وہ میرے سوال کا جواب نہیں دے سکے کہ مسلمان مردوں کو تلک لگانا حرام ہے ، جو صرف جہنم کی آگ ہی پاک کرسکتی ہے ۔ لیکن مسلمان  عورتوں کا ماتھے پر خوبصورت ٹیکہ لگانا کیسے حلال ہے  ، تو خالہ   ہنستیں  اور امّی بڑی بڑی آنکھوں کو خوفناک بنا کر گھورتیں ۔
 ایک ہندو خاتون امّی سے  ملنے آتیں ۔  ابّا سخت خلاف تھے لیکن امّی کبھی کبھی اُسے گھر بلا لیتی تھیں ۔ امّی کیوں  کہ اجمیر کی یوسف زئی  تھیں اور اجمیر  شریف    کے بارے میں سب پاکستانی اچھی طرح جانتے ہیں ،  کہ سو فیصد اسلام پرست  ہندو رسومات  کے عاشق ہیں ۔ نانی  لکھنؤ کو نکھلیئو  بولنے والی درانی تھیں  ، پرنانا  چونکہ  برٹش ریلوے میں ڈرائیور تھے اور آریا نگر یا محلے میں رہتے تھے ۔ لہذا والدہ نے نانی کے ساتھ ٹرین میں مُفت، لکھنو سے اجمیر تک ،  مہاراشٹر  اور اتر پردیش دیکھا ۔

والد کی ریٹائر منٹ کے بعد وہ   ، تمام بدعات چھوڑ کر  100 فیصد مسلمان  بن گئیں  وہ اِس لئے کہ اُن کے ساتھ آخری اسلامی  فلم   ہم بچوں نے زرقا دیکھی تھی ۔اُس کے بعد وہ توبہ توبہ کرتیں ، پھر جب 1978 میں گھر میں ٹی وی آیا ۔ تو اُن کی دید ابّا کی طرح  خبروں اور اسلامی پروگرام تک رہتی ۔لیکن اسلامی پروگرام بھی بدعات سے بھرے ہوتے کیوں کوئی بھی مقرر مودودوی  نہیں ہوتا اور یہ تو سب سے بڑی برائی تھی ، مجبوراً اُنہوں نے چھوٹی برائی کو قبول کر لیا ، یعنی پی ٹی وی کے ، "  پاکیزہ ڈرامے " دیکھنے لگے ۔

  پہلے مودودوی  وہابی کہلاتے تھے (اب معلوم نہیں)     اور مودودی خود کو جماعت اسلامی قرار دے کر، دنیا کے   باقی سب مسلمانوں کو     جماعت غیر اسلامی گردان کر ، اپنی ولدیت  عربی کر کے تعلق عربوں سے جوڑ لیا  ۔پٹھا ن تو ویسے ہی یہودی عربوں کی اولاد ہیں ۔ لیکن اب ،  اہلِ حدیث نے مودودیت کی ولدیت کا کردار مشکوک کر دیا ہے ۔اور یوں   نہ چین و عرب ہمارا رہا اور نہ ہی ہندوستان  ، کیوں کہ ایک اور وہابی گروہ میدان میں اتر چکا تھا ۔


فوج میں آیا تو عقدہ کھلا ، کہ فوجی  صرف پاکستانی ہوتا   ، اسلام ذاتی  معاملہ ہے جس سے فوجی  کوئی تعلق نہیں ہوتا ، کسی بھی مذہب کا ہو جنگ میں ، مرنے کے بعد ، " شہید " کہلاتا ہے ۔
مگر  پاس آؤٹ ہونے کے بعد  5 جولائی 1977 کو فوجیوں میں اسلام داخل کر دیا گیا ، نہیں بلکہ انجیکٹ کرنے کی کوشش کی ۔


لیکن مہاجر زادہ ، پاکستانی ہی رہا  اور  انٹر فیتھ مذھب کا شاگرد  بن گیا ، کہ سب ٹھیک ہیں  ۔ 
1992 میں ، ایک بچپن کے کلاس فیلو نے ، " مقامِ حدیث " دے کر ، دوسرے غلام احمد کا شاگرد بنا  دیا  ، جو پرویز تھا ، بہت دل کو لگتی تحریریں ، ذہن میں اٹھنے والے سوالات کو سکون دینے والے مکالمے  اور  سب سے بڑی بات کہ الاعلان ، ملائیت اور پیشوائیت کے خلاف   اپنا نقطہ ءِ نظر پیش کرنے کی سوچ  نے  ، مہاجر زادہ کی اُڑان کو ایک نئی سمت دی ۔ اُڑنے کے بعد مہاجر زادہ نے ، اُسے چھوڑا اور آگے بڑھ گیا ۔ 

نور بخشیوں کا    سلسلہ کبرویۃ  ، صوفی طریقت   (جو سنّی و علویت  کا امتزاج ہے ) کا   شاگرد بنا،    جو   سید محمد  نور بخشی  شاہ کوہستانی ،سرینگر    کے  مرید وں کے امام سے خپلو ، میں سیکھا ۔ 
مجھے جو سب سے زیادہ  چیز پسند آئی وہ  اُن کا عملِ خود احتسابی ہے ، جو جماعتِ اسلامی کے عملِ خود سراہی کا متضاد ہے ۔
عملِ خود احتسابی   انسان رات کو سونے سے پہلے  اپنے دن بھر کی کوتاہیوں کا احتساب کرتا ہے ، اللہ سے معافی مانگتا ہے اور دوسرے دن اُن کوتاہیوں  کی درستگی کے  عمل   کا اللہ سے وعدہ کرتا ہے ۔ عملِ خود سراہی میں ، میں کہ آج میں نے کیا اچھے کام کئے۔اور کل کیا کرنے ہیں ۔
اگر آپ غور کریں تو معلوم ہوتا کہ اللہ  کو ہمارے اچھے کاموں کی خواہش نہیں ، وہ ہمیں بُرے کاموں سے منع کرنے کے لئے اپنے نبی اور رسول بھیجتا ہے ۔
مجھے  نوربخشیوں کا خود احتسابی کا عمل بہت پسند آیا ۔ اور میں اپنی ایک بہت بڑی خطا سے پیچھا چھڑا پایا ۔
خطا یہ تھی کہ میں ، اپنے بچوں کی تقریریں ،  اتفاق اور اختلاف کی تقریریں خود لکھتا تھا ، بڑھیا تیاری کرواتی ۔ اور بچے پوزیشن لیتے ، 1993 میں بچوں نے تقریری مقابلے  پہلی اور دوسری  پوزیشن لی ، جس کا عنوان تھا
  ”دولت انسانی اقدار کی قاتل ہے“ یہ عروضہ اور ارمغان کے لئے  اور
 " عورتیں بہترین ٹیچر ہوتی ہیں "  ارسلان اور سائرہ کے لئے ، لکھوا دیا۔
میں نے فوراً دو موافقت میں اور دومخالفت میں تقریر یں لکھیں۔اُس سال چاروں بچے بوری میں بھر کر اپنے کپ لائے ۔
مجھے اطلاع ملی تو  یکم کو جوانوں کی تنخواہ لینے  خپلو جانے سے پہلے جلیبی شاپ سے  جلیبی اور گلاب جامن لئے  اور  خپلو میں اما م  صاحب کے لئے ، مٹھائی لے کر گیا ، امام صاحب نے مبارکباد دی۔
 " میجر صاحب آپ کے دو بچے حق پر مقابلہ جیتے ہیں اور دو بچے ناحق "  
میں اما م صاحب  کے چہرے کی طرف دیکھا ، اور اُن کی بات سمجھ کر مسکرایا ۔ وہ دوبارہ گویا ہوئے ۔
" لیکن میں اُن بچوں کی جیت کی مٹھائی ضرور کھاؤں  جو حق پر تھے " 
یہ کہہ  کر اُنہوں نے جلیبی منہ میں رکھی اور مجھے طریقت کا  عمدہ درس دے  دیا ،  چنانچہ اُس کے بعد میں بھی ہر کھانے والی  حلال کھانے والی چیز کسی کے ہاں سے بھی آئے ، اُسے   پہلے  مسلمان کرتااور پھر یہ کہہ کر کھا لیتا -
" اے اللہ ، اگر یہ  جائز ہے تو اِسے میرے بدن کا جزو بنا اور اگر ناجائز  تو اِسے میرے بدن سے بغیر فائدہ پہنچائے خارج کر دینا "
اُن کی ماہانہ ہم نشینی میں کئی اچھی اور اصولی باتیں سیکھیں   ،  لیکن جو اہم بات سیکھی -
" میجر صاحب آپ نے اپنے خدا  کو اپنا جواب  دینا ہے اور میں نے اپنے خدا کو !  تو پھر ہم کیوں ایک دوسرے جھگڑیں  ؟ "
نور بخشیوں کو ختم کرنے کے لئے ، اُن کا بے تحاشا قتل کیا گیا ، لیکن وہ اب بھی بلتستان میں موجود ہیں ۔ 

انٹر نیشنل پروپیگنڈہ سنٹر کے محمد شیخ کی ساری کیسٹ دیکھیں ملاقات ہوئی ، جھگڑا ہوا ۔ اور پھر پوری قوت سے الکتاب کو تھاما اور  ، خود کو  دسمبر 1994 میں الکتاب  اور  کتاب اللہ سےجوڑ لیا ۔

 اگر میں کہوں کہ میرے ارتقاءِ ذہن میں " الفرقان " کی بلوغت میں  اِن سب کی تعلیم کا حصہ ہے ،  تو غلط نہیں ہوگا اور اب ایک ترچھی ٹوپی والا ایک نئی سوچ دینے کی کوشش کر رہا ہے  ۔

 انسان کس ڈھٹائی  اور ڈرامائی  تشکیل سے اللہ کے الفاظ کو موم کی ناک بنا کر اپنی سمت موڑ لیتا ہے - اور چند لوگوں کو بے وقوف بنا لیتا ہے  ، لیکن اِس کے باوجود سب کا ایک ہی جواب آتا ہے ۔
" انسانی تربیت ، اُن کے انداز  میں  " 
اور مزے کی بات، مضامین سب کے ایک ہیں  : 
1- اقام الصلاۃ کیسے کرنی ہے، مصلّی کون ہے  ؟
2- ایتائے الزکوٰۃ ، کیوں ، کن کو، کتنی اور کیسے کی جائے ؟
3- الصیام کا مقصد کیا ہے ؟
4- البیت کہاں ہے  ؟
5- کعبہ کیا ہے ؟
6- الحج کیوں کیا جائے ؟
7- انفاق  فی سبیل اللہ کیا ہے ؟ (مٹھی بھر آٹا یا فرات کا پیاسا کُتا )
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
پڑھیں : انفاقِ فی سبیل اللہ اور مراتبِ انفاق
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

 انسان کرہءِ  ارض پر   ایک محیر العقول جنس ِ کثیر  ، جس کی واحد  دولت اُس کا  گردن سے اوپر کا حصہ ہے ۔  جسے   Crown Jewel  کہا جاتا ہے ۔ جس میں ایک قلب ہے ، جو پورے جسم پر قابو رکھتا ہے ، تمام تعمیری اور تخریبی سرگرمیوں  کے سرچشمے یہیں سے پھوٹتے ہیں  اور  حواسِ خمسہ میں  چار حواس ،  اِس میں پائے جاتے ہیں اور پانچویں حس  پورے جسم پر تقسیم ہے ۔
 وَلاَ تَقْفُ مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ إِنَّ السَّمْعَ وَالْبَصَرَ وَالْفُؤَادَ كُلُّ أُولَـئِكَ كَانَ عَنْهُ مَسْؤُولاً [17:36]
اورمت        تَقْفُ     ( توقف ) کر جس کا تیرے پاس ،  علم نہیں ،  بے شک السَّمْعَ     اور الْبَصَرَ  اور          الْفُؤَادَ كُلُّ ، اُن سب کا   ، اُن  ( جن کا علم نہیں )  میں   مَسْؤُول ( سوالنامہ  )  ہے  ۔
 ٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
 مزید پڑھیں :

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔