میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

بدھ، 10 اگست، 2016

شیطان نامہ - قسط نمبر 37- جھوٹ کی بد ترین مثال


 واقعات نے جب افسانے کا رخ اختیاط کر لیا تو عمر بن سعد وغیرہ کو بھی قاتل سمجھا جانے لگا یہ اشارہ ان ہی من گھرٹ روایتوں کی طرف ہے .
عمر بن سعد بن ابی وقاص،
خروج حسینی کی زمانے میں کوفہ کے صوبہ کی فوج کے سربراہ تھے حضرت حسین سے ان کی قریبی رشتہ داری تھی اور وہ حضرت سعد بن ابی وقاص کے فرزند تھے اور حضرت سعد رسول الله کے رشتے میں ماموں اور سیدہ آمنہ کے چچا زاد بھائی تھے سابقوں الاولون تھے اور عشرہ مبشرہ میں سے تھے اسلام لانے والے چھٹے آدمی تھے اور ان 6 صحابہ میں سے تھے جن کو حضرت فاروق اعظم نے خلافت کے لئے نامزد کیا تھا بڑے بہادر اور کمال کے تیر انداز تھے جنگ احد میں ان کی تیر اندازی پر حضور نے فرمایا تھا .
"اے سعد تیر پھینکے جاؤ میرے ماں باپ تم پر فدا ہوں "
پھر فرمایا یہ میرے ماموں ہیں اب لاۓ کوئی آدمی اپنا ایسا ماموں؟
فاتح ایران تھے اور ان صحابہ میں سے تھے جو کہ دولت و ثروت اور مرتبے میں ممتاز حیثیت رکھتے تھے . ان کی سیاسی زندگی بے داغ تھی۔
حضرت علی جب حضرت عثمان کے مقابلے میں خلافت کے لئے کوشاں تھے تو حضرت علی نے اپنے صاحب زادے حضرت حسن اور حسین کو ساتھ لیا اور آپ (
سعد بن ابی وقاص) کے پاس جا کر فرمایا،
" اس قرابت کا کے باعث، جو آپ کے ساتھ ہے اس اعتبار سے خلافت کے لئے ، میرے حق میں رائے دیجئے ۔ "

لیکن وہ شہادت عثمان کے بعد کے جھگڑوں سے بلکل لا تعلق رہے.ان ہی کے یہ فرزند عمر بن سعد امیر عسکر کوفہ تھے جو نبی پاک کے عہد مبارک میں پیدا ہوئے ۔ ابن حجر عسقلانی نے الاصحابۂ فی تمیز الاصحابۂ صفحہ 36 جلد 3 میں ان کا ذکر چھوٹے اصحابہ میں کیا ہے .
فرماتے ہیں کہ
عمر بن سعد بن ابی وقاص، یہ آنحضرت کے زمانے میں پیدا ہوئے.
عہد نبوی کے یہ مولود(عمر بن سعد) نبی کریم کے ماموں زاد بھائی تھے جن کی آنکھیں بچپن سے ہی آپ کے دیدار سے منور ہوئیں اور عشرہ مبشرہ کے ایک جنتی صحابی کی گود میں پرورش پائی. اور ان کے دادا کی حقیقی بہن ہالہ بنت وہب نبی کریم کے چچا سید الشہدا حضرت حمزہ کی والدہ ماجدہ تھیں اور ان کی قرابت کے کتنے ہی قوی سلسلے خاندان نبوت سے ان کو جوڑے ہوئے تھے .جن کی تفصیل کا اس وقت موقعہ نہیں.
کوئی عرب بھی خاص طور پر قریش کے گھرانے کا کوئی فرد اپنی قرابت اور تعلقات سے منحرف نہیں ہو سکتا تھا اور یہ تو اہل عرب کا نسلی اور خاندانی شیوہ ہی نہ تھا بلکہ یہ ان کی جبلت تھی .
ان حالات کے پیش نظر حضرت حسین یا ان کے کسی عزیز کے خلاف فوج کے سر براہ
عمر بن سعد بن ابی وقاص، کی موجودگی میں کوئی ظلم اور تشدد تو کیا کوئی سخت رویہ بھی نہیں برتا جا سکتا تھا اور یہی وہ مشکل صورت حال ہے کہ
٭ - اب ان وحشیانہ مظالم کی داستانوں کا کیا کریں ؟ اور
٭- من گھڑت معرکہ آرائیوں کی خود ساختہ کہانیوں کا کیا کریں ؟ اور
٭- کیا وجہ اور کیا سبب ہے ؟ کہ ایک ایسے امیر عسکر کی موجودگی میں پیش کریں۔
کہ جس کے یہ حالات ہوں کہ جس کی ایسی خاندانی اور آبائی و نسلی وابستگی خاندان نبوت سے ہو اور جسکی یہ قرابت اور تعلقات ہاشمی خاندان سے ہوں اور دوسرے یہ کہ جس کے ذاتی کردار اور کمزوری کا ادنیٰ سا ثبوت بھی دستیاب نہ ہو-

چنانچہ اس مسئلہ کے حل کے لئے یہ روایت گھڑ ڈالی کہ عبید الله بن زیاد نے ملک رے (تہران ) کی حکومت کا فرمان عمر بن سعد کے لئے لکھ دیا تھا .(طبری جلد 2 صفحہ 232 )
اور اس تقرر کی وجہ یہ بیان کی کہ رے
(تہران ) کے ایک علاقے دستبند پر فرقہ ویلم نے قبضہ کر لیا تھا یہ سن کر ابن زیاد نے عمر بن سعد کا تقرر کیا اور چالیس ہزار سپاہیوں کے ساتھ وہاں جانے کا حکم دیا لیکن حضرت حسین کی کوفہ آمد کی خبر سن کر ان کا جانا ملتوی کر کے مقابلے پر بھیجنا چاہا،

عمر بن سعد نے جب اپنی رشتہ داری کا عذر پیش کیا تو ابن زیاد نے فرمایا کہ یا ہمارا حکم مانو یا انجام کے لئے تیار ہو جاؤ- رے کی حکومت کے لالچ میں آ کر عمر بن سعد نے یہ منظور کر لیا اور مزے کی بات سنیے کہ یہ شعر بھی ان کی زبان سے نکلوا دیے.

ترجمہ اشعار .
" کیا میں ملک رے چھوڑ دوں
اور ملک رے ہی کی تو میری خواہش ہے
یا حسین کے قتل کے گناہ میں ملوث ہوں۔
حسین کے قتل سے تو میں دوزخ میں جاؤں گا
جن کا کوئی ثانی نہیں
مگر ملک رے کی حکومت تو میری آنکھوں کی ٹھنڈک ہے "

یہ شعر تو عمر بن سعد بن ابی وقاص سے منسوب کر دیا لیکن یہ بتانا بھول گئےکہ اس قریشی کو ملک رے اتنا کیوں محبوب تھا کہ دوزخ کی آگ میں جلنا منظور کر لیا-
اور سنیئے طبری نے تو ذرا ان من گھڑت روایتوں کی نوک پلک درست کر کے اپنی کتاب میں درج کیا جب کہ مقتل ابی محنف نے تو ان خرافات کا انبار ہی لگا دیا صرف ایک روایت سنیے کہ
" ابن زیاد نے جب یہ اعلان کیا کہ جو کوئی حسین کا سر کاٹ کر میرے پاس لاۓ گا تو اس کو دس برس تک ملک رے کی حکومت دی جاۓ گی"
اور
عمر بن سعد بن ابی وقاص پر تہمت لگائی کہ یہ اعلان سنتے ہی اٹھ کھڑے ہوئے کہا،
"یہ کام میں کروں گا"
ابن زیاد بولا " جاؤ اور یہ کام کرو اور ان کا پانی بند کر دو "

جب گھر پہنچے تو مہاجرین اور انصار کی اولاد نے
عمر بن سعد بن ابی وقاص،  کے گھر میں داخل ہو کر ملامت کی ،
"تمھارے والد ماجد (
سعد بن ابی وقاص) تو اسلام لانے میں چھٹے نمبر پر تھے بیعت رضوان میں شریک تھے اور تم حسین سے لڑنے جا رہے ہو؟"
تو اس پر پھر ان کی ذات پر الزام لگایا اور وہ بھی اشعار میں کہلوایا کہ جہنم میں جانا منظور ملک رے کی حکومت نہیں چھوڑوں گا .
عمر بن سعد نے زندگی میں کبھی کوئی شعر نہیں کہا مگر ابو محنف نے پورے آٹھ شعر کا قطعہ ان نام سے لکھوا مارا پھر اور مزے کی بات کہ اس کا جواب بھی ان ہی کی زبان سے لکھوا دیا ان اشعار کا ترجمہ یہ ہے

" اے بد ترین مخلوق قتل حسین کے بعد تجھے رے(تہران) کی حکومت پر فائز ہونا نصیب نہ ہو گا"

الغرض یہ وہ روایات ہیں کہ جن سے حسین کا سر کاٹ کر ابن زیاد کے سامنے پیش کرنے کا ثبوت فراہم کیا گیا .(مقتل ابو محنف صفحہ 50 )


سوال یہ پیدا ہوتا ہے کیا عمر بن سعد بن ابی وقاص،  ایک عرب نژاد قریشی ان ایرانیوں کی طرح عجمی ذہنیت کے تھے ؟
آپ محسوس کریں گے کہ ایرانیوں کی کہی ہوئی خرافات آپ کو ان روایتوں میں ضرور منسلک ملیں گی-
ایک عجمی شاعر نے اصفہان ، ہمدان ، قم ، اور رے (تہران) ان چاروں شہروں کو دنیا کا بہترین شہر بتاتے ہوے رے کو " شاہ بلاد " کہا ہے اور یقین کے ساتھ کہا جا سکتا ہے کہ شاہ بلاد کی حکومت کے لالچ کا یہ قصہ اسی عجمی ذہنیت نے ہی گھڑا ہے .
اب دیکھنا یہ ہے کہ اس بے تکی روایت کی کوئی حیثیت بھی ہے کہ نہیں پہلے عرض کیا جا چکا ہے کہ ابن زیاد کو کوفہ کے انتظام کے لئے عارضی طور پر بصرہ سے یہاں بھیجا گیا تھا خود طبری نے اس کا اعتراف صفحہ 201 جلد 6 میں کیا ہے .
جب وہ کوفہ اور اس کی حدود ہی کا والی تھا تو ایک غیر علاقہ (رے ) سے اس کا کیا تعلق؟
اور واسطہ ایک علاقے کا والی ، عامل ، یا گورنر اپنے ہی ہم عہدہ والی ، عامل یا گورنر کا تقرر کرنے یا تقرر کا فرمان جاری کرنے اور اپنی مہر اور دستخط سے اس کا اجرا کیونکر اور کیسے کر سکتا ہے ؟
اس کا اختیار تو مرکزی حکومت کو ہوتا ہے خود ابنَ زیاد،  کا تبادلہ بصرہ سے کوفہ امیر یزید نے کیا تھا اور اسی دوران تین تبادلے مزید کیے تھے آج تک کسی والی یا گورنر کے تبادلے اور تقرر کا اختیار سواے امیر المومنین کے کسی اور کو نہیں رہا اور نہ ایسا کبھی ہوا ہے پھر کیا یہ روایت بے اصل اور بے حقیقت نہیں .
کہاں کوفہ کا عارضی گورنر اور کہاں رے کی حکومت پر اپنے ہی ہم رتبہ والی کا تقرر تاریخ گواہ ہے کہ امیر یزید نے ایسا اختیار نہ کسی کو دیا تھا نہ ہی یہ ممکن تھا اور نہ ہی ایسا کرنے کی کوئی وجہ سمجھ میں آتی ہے اور نہ ابن زیاد کے اپنے بیان سے ایسا ظاہر ہوتا ہے کہ کوفہ شہر اور اس کی حدود کے علاوہ وہ تمام ملک ایران کا والی تھا .
شاید اس روایت کو گھڑنے والے کا جغرافیہ بہت کمزور تھا رے(تہران)  کا علاقہ تو کوفہ سے 900 ہوائی کوس دور تھا درمیان میں کئی علاقے پڑتے تھے۔ تو رے کے علاقے میں اگر کوئی بغاوت ہوئی تھی تو خود وہاں کا عامل تدارک کر سکتا تھا اور اگر وہ قابو نہ پا سکتا تو قرب و جوار کے علاقوں کی والی اور گورنر امداد بھیجتے خاص طور پر خراسان کا والی کہ جس کی سرحدیں افغانستان اور تہران سے ملتی ہیں اور والی خراسان اس زمانے کا مشہور جنگجو قیس بن الحسیم السلمیٰ تھا .

تاریخ سے ثابت ہے کہ واقعہ کربلا کے بعد ہی امیر یزید نے مسلم بن زیاد کو ان(عمر بن سعد بن ابی وقاص) کی بجائے والی خراسان مقرر کیا تھا اور انہوں نے کرکانچ(کرمان) ، بخارہ (ازبکستان) اور خوارزم (ازبکستان)  وغیرہ پر جہاد کئے اور بکثرت مال غنیمت حاصل کر کے دربار خلافت روانہ کیا صفحہ 55 اور 73 کتاب البلدان یعقوبی طباعت  اپریل 1960 .

ابن زیاد نے چالیس ہزار کے لشکر کا انتظام بھی ایک دن میں کر لیا اور
عمر بن سعد بن ابی وقاص، کو اپنے حکم سے وہاں کا والی بھی مقرر کر دیا اور روانگی کا حکم بھی دے دیا کہ اتنے میں حسین کی آمد آمد کی خبریں پہنچیں تو اس نے فوج کو روک لیا جو دستبند کے لئے روانہ کرنی تھی اورعمر بن سعد بن ابی وقاص، سے کہا،
"پہلے حسین والے معاملے سے فراغت پا لیں پھر تم اپنی خدمت پر ملک رے کی حکومت پر چلے جانا"  (خدا کی پناہ ان جھوٹوں سے )صفحہ 233 جلد 6 طبری .

ان راویوں کی تاریخیں اس روایت سے بھری پڑی ہیں لیکن کسی راوی یا مورخ نے یہ بتانے کی زحمت گوارہ نہیں کی کہ حضرت حسین کے معاملے سے فراغت پا جانے کے بعد ،
حسب وعدہ اس والی یا عامل نے اپنے حسبِ وعدہ ملک رے (تہران) کا چارج کیوں؟ اور کس وجہ سے نہیں لیا ؟

اور حسین کے معاملے سے فراغت پانے کے بعد اپنا صلہ کیوں وصول نہیں کیا؟جس کے لئے بقول ان راویوں کے انہوں نے دوزخ میں جانا قبول کر لیا اور اپنی آنکھوں کی ٹھنڈک ( رے) جانے سے آنکھیں پھیر لیں -
اور نہ کسی تاریخ دان نے یہ بتایا کہ جو لشکر دستبند (تہران) جانے سے روکا گیا تھا اس کا کیا انتظام کیا اور کس ذریعے سے وہاں قابو پایا گیا؟
اس بارے میں تاریخ بالکل خاموش کیوں ہے ؟
اس معنی خیز خاموشی سے کیا یہی نتیجہ نہیں نکلتا کہ
عمر بن سعد بن ابی وقاص، کا تقرر ، فراہمی لشکر جرار،
یہ روایت محض ان کی اپنی گھڑی ہوئی ہے اور اسکا مقصد وہی ہے جس کا اشارہ ابتدائی سطور میں کیا گیا ہے .

 



٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

 









خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔