میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

پیر، 15 اگست، 2016

فوجی کی طاقت !

میری اور راحیل شریف کی ایسوسی ایشن کا آغاز اُس وقت ہوا جب ہم دونوں 241 کیڈٹس کے ساتھ (کل 243)۔
  18 نومبر 1974 کو پاکستان ملٹری اکیڈمی کے گیٹ سے اندر داخل ہوئے ۔ اِ ن میں بعد میں ہمارے ساتھ ملنے والے ، 41 کیڈٹس بھی شامل تھے ،
ہم سب 284 جنٹلمین کیڈٹس، خود کو قابلِ فخر 54 لانگ کورس کا حصہ سمجھتے ہیں ۔

آپ کے بھی علم میں ہوگا کہ قابلِ فخر ہونے کا یہ ٹائیٹل ، صرف راحیل شریف کا مرھونِ منت ہے ، جو اِس وقت ہر محبِ وطن پاکستانی کے دل کی دھڑکن بنا ہوا ہے ۔
جس نے پاکستان آرمی کو دنیائے افواج میں ، ایک ایسی جنگ کے خلاف وہ اعزاز دلوایا ہے ۔ جس نے گھٹن کی وہ فضاء ختم کردی جو سب محبِ وطن محسوس کرتے تھے ۔
راحیل شریف کو ملنے والا یہ اعزاز یقیناً

کے آخری ویٹرن تک " سرخاب کا پر" بن کر رہے گا ۔
بشرط کہ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔!
راحیل شریف ، اشفاق پرویز کیانی کے ۔ بوٹ میں اپنا پیر پھنسانے کی کوشش نہ کرے !

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔