میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

پیر، 22 اگست، 2016

شاعر کی موت اور کتبہءِ شاعر



طاہر القادری نے جمعرات 10جنوری 2013ء کو ”دُنیا“ چینل میں جناب مجیب الرحمن شامی کے پروگرام میں ایک مشہورِ زمانہ شعر علامہ اقبال ؒ کے نام سے منسوب کر کے سنایا کہ:
 تندی بادِ مخالف سے نہ گھبرا اے عقاب
یہ تو چلتی ہے تجھے اونچا اُڑانے کے لئے
- - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - - --  (اقبال)

طاہر القادری پر ہی کیا منحصر ، ہمارے لڑکپن میں یہ شعر بچوں کی باتصویر کاپیوں پر عقاب اور طوفان کی تجریدی آرٹ نما تصویر کے نیچے چھپا ہوتا تھا ۔

 دراصل یہ شعر ضلع سیالکوٹ کی سابق تحصیل شکرگڑھ، کے ایڈووکیٹ سید صادق حسین کا ہے۔ چونکہ گمنام شاعر تھے ، تو یار لوگوں نے سمجھا کہ انہوں نے اپنی ، اقبال کے شعر کی زمین میں بوئی ہے ، چنانچہ غزل کو تو اتنی پذیرائی نہ ملی ، البتہ اُن کے اِس شعر نے عقاب کی تندیء بادِ مخالف میں آُڑان کی وجہ سے ، منبر و محراب کے علاوہ ، ہر سیاست دان ، ہر طالب علم مونث و مذکر مقرر سے فیس بُک کی زبان میں اربوں لائیکس لئے ۔ مگر سید صادق حسین ایڈووکیٹ کو ان کے اکلوتے مشہورِ زمانہ شعر سے بھی محروم ہونا پڑا مجبوراً اُنہیں اپنی اکلوتی کتاب ”برگِ سبز“ 1976ء چھپوانا پڑی تاکہ شعر کے جملہ حقوق انہیں کے نام محفوظ رہیں ۔ نیز اُن کی قبر کے کتبہ پر یہی شعر تحریر کردیا گیا ۔ 

مکمل غزل سے مستفید ہوں ۔
تو سمجھتا ہے حوادث ہیں سنانے کیلئے​
یہ ہوا کرتے ہیں ظاہر آزمانے کیلئے​
تندیِ باد مخالف سے نہ گھبرا اے عقاب
یہ تو چلتی ہے تجھے اونچا اڑانے کیلئے
کامیابی تو ہوا کرتی ہے ناکامیِ دلیل​
رنج آتے ہیں تجھے راحت دلانے کیلئے​
نیم جاں ہے کس لیے حالِ خلافت دیکھ کر​
ڈھونڈ لے کوئی دوا اس کو بچانے کیلئے​
استقامت سے اٹھا وہ نالۂ آہ و فغاں​
جو کہ کافی ہو درِ لندن ہلانے کیلئے​
آتشِ نمرود گر بھڑکی ہے کچھ پروا نہیں​
وقت ہے شانِ براہیمی دکھانے کیلئے​
(صادق حسین ایڈووکیٹ)​



خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔