میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

جمعرات, اگست 11, 2016

ایں پکوڑا است

کہتے ہیں کہ نصف صدی قبل کا قصہ ہے ۔ جب ایران سے ایرانی بلا روک ٹوک زاہدان سے کوئیٹہ پہنچ جاتے تھے ۔ اِسی طرح ایک ایرانی رمضان میں ، کوئیٹہ آیا ، اُس نے ایک دکان پر پکوڑے بنتے دیکھے ۔ دکاندار کے ہاتھ میں بڑا پیالہ تھا اُس میں سے وہ پکوڑے کا بیسن کڑھاؤ میں ڈال رہا تھا ،  ایرانی کو صرف ایرانی آتی تھی ۔
اُس کے اور دکاندار کے درمیان جو مکالمہ ہوا ،وہ پڑھئیے

ایرانی: برادرِ من این چیست ؟
دکاندار: جانِ من ، ایں پکوڑاست !

ایرانی: ہمدم ، چہ می گوئی ؟
دکاندار: گرمی سے بےدم ، تیل میں ڈبوئی ۔

ایرانی: فارسی نمی دانی ؟
دکاندار: لے جا کھائے گی تیری نانی ۔

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔