میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

جمعرات، 25 اگست، 2016

الطاف حسین پاگل تھا

اِس پاگل نے ،

آل پاکستان مہاجر سٹوڈنٹس آرگنائزیشن بنائی تھی ۔
جس کی پاداش میں اسے پابندِ سلاسل ہونا پڑا ۔

آل پاکستان مہاجر سٹوڈنٹس ایسوسی ایشن ، نے مہاجر طالبعلموں کے لئے فلاحی کام کئے ، جن سے ، اُنہیں سندھی سٹوڈنٹس فیڈریشن زبردستی روکتی تھی ۔ جس کو " جئیے سندھ " پارٹی کی سپورٹ تھی ۔

ضیاء الحق کو ، مہاجروں کے ساتھ، پیپلز پارٹی اور ، جئیے سندھ گروپ کی ، کی جانے والی زیادتیوں کا احساس تھا ۔
لہذا ، اُس نے الطاف حسین کو دعوت دی ، کہ مہاجروں کو سیاست میں لانے کے لئے ، ایک مہاجر پلیٹ فارم کی سخت ضرورت ہے /
چنانچہ ، : " مہاجر قومی موومنٹ "
مودودوی منافقین کے سینے پر چڑھ کر وجود میں آئی ۔
جس میں ، تمام جمیعت طلباء اور جماعت اسلامی ، کے حق پرست شامل ہو گئے ۔

اور ان کا ایک ہی نعرہ تھا ،
مہاجروں کی بقاء ۔ جیئے مہاجر ۔ جیئے مہاجر !

پورے سندھ کا چکر لگائیں اور مجھے ، بتائیں کہ سندھ میں کتنے مہاجر :
ڈبٹی کمشنر ہیں ؟
اسسٹنٹ کمشنر ہیں؟
تحصیل دار ہیں ؟
گورنمنٹ ملازمین ہیں ؟

مہاجر محنت کش تھے ، وہ گورنمنٹ کے صنعتی اداروں میں بھرتی ہونا شروع ہوگئے ، یہی وجہ ہے کہ پاکستان اسٹیل مل میں مہاجروں کی تعداد زیادہ ہے ۔
انہیں نکالنے کا ایک ہی طریقہ ہے ۔ کہ اسے پرائیوٹائز کر دیا جائے ۔

اپنے حق کے لئے آواز اٹھانا ، ہر انسان کا فرض ہے اور ظلم کے خلاف جہاد ہے ۔

" اپنی آزادی کی خاطر
اپنے پیاروں کے لہو میں لتھڑے
سرابِ منزل کی لگن میں ہجرت کی تھی
ہمیں دار سے کیوں ڈراتے ہو ،
کلمہءِ حق کہیں گے ۔
منزل کا پتہ دو یا مٹا دو ہم کو


عمر کے 63 ویں سال میں ۔
مہاجروں پر ظلم دیکھ دیکھ کر ، یہ مزید پاگل ہو چکا ہے ۔ لیکن غدار نہیں ۔
ایوب خان کے اِس فلسفے پر اِس کا یقین نہیں ،

" جس کھیت سے دہقاں کو میسر نہ ہو روزی اُس کھیت کے ہر خوشہ گندم کو جلا دو !

خوشہ ءِ گندم کو جلانا پٹھانوں کی روایات ہے مہاجروں کی نہیں !

یہی وجہ ہے ، کہ اردو بولنے والے ، مہاجروں میں خود کش بمبار پیدا نہیں ہوتے ۔

کیوں کہ وہ ہندوستان سے ، پنجاب ، صوبہ سرحد ، بلوچستان یا سندھ کے لئے ہجرت کر کے نہیں آئے تھے ۔

بلکہ ، خون کے سمندر سے گذر کر، پاکستان کے سمندر میں شامل ہونے کے لئے آئے تھے  ۔ لیکن

افسوس صد افسوس ،
یہاں  تو پنجابیوں ، پٹھانوں ، سندھیوں اور بلوچیوں کے متعفن جوہڑ نکلے ۔



نوٹ: پاگل ہمیشہ ، پاگل ہی رہتا ہے ۔ چند مزید پاگل !

٭ - سرسید احمد خان بھی پاگل تھا ۔


٭ - محمد علی جناح کے پاگل پن نے اُسے ٹی بی کی سٹیج پر پہنچا دیا -٭ - لیاقت علی خان کے پاگل پن نے ، اُسے لیاقت باغ میں " پٹھان" کے ہاتھوں خون میں نہلا دیا ۔
 ٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔