میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

منگل، 9 اگست، 2016

بدترین ٹریفک مینجمنٹ !




نیشنل ھائی وے اتھارٹی کے لئے باعثِ شرم !

چم چم کو لینے ، میں اور بڑھیا ، 1 بج کر 10 منٹ پر روات جنکشن سے لینے نکلے ، اور 4 بج کر 20 منٹ پر واپس گھر میں داخل ہوئے ۔
اپنی ڈرائیونگ کی 40 سالہ زندگی ، میں اِس سے بد ترین ٹریفک مینیجمنٹ کا نظام ، پورے پاکستان میں کہیں نہیں دیکھا ۔
جہاں بحریہ کے یو ٹرن میں ، موٹی توند والے ٹریفک پولیس کے ، جوان نما بوڑھے ، تین موٹر سائیکلوں پر بیٹھے تھے ، ایک کار میں بھی پولیس والے بیٹھے تھے ،
مگر گاڑیوں کو ، یو ٹرن (یو -)1 پر مدد سفید شلوار قمیض میں ملبوس ایک نوجوان دے رہا تھا ۔
کیا اب ہر کام فوج اور ملٹری پولیس انجام دے ؟


اگر یہ دونوں یو ٹرن بند کر کے ، سواں پل کے نیچے سے یو ٹرن بنایا جائے ، تو تین گھنٹے کی اذیت سے عوام کو بچایا جا سکتا ہے ، جو بڑے بڑے ٹرالروں کے یو ٹرن سے ، بحریہ 7 کے سامنے ہوتی ہے ۔
نیز سڑک کے دونوں طرف فروٹ اور گنے کے رس والوں نے اپنے اپنے ٹھیلے لگا رکھے ہیں ، جو نیشنل ہائی وے کو روزانہ کی بنیاد پر بھتہ دیتے ہیں ۔
تعمیراتی سامان تو سڑکوں پر رکھنا اور حکومت کو گالیاں نکالنا ، پاکستانیوں کا حق ہے ۔

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔