میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

اتوار, اگست 7, 2016

دلبروں کے خطوط محبوب کے نام !


شاہنواز بھٹو کا خط مسٹر بوچ کے نام ۔۔۔۔۔۔
آزادی کے بعد جوناگڑھ کے نواب نے پاکستان کے ساتھ الحاق کا فیصلہ کیا تب ذوالفقار علی بھٹو کے والد شاہنواز بھٹو نے انڈین حکومت کے نام ایک خط لکھا جس میں ان کو جوناگڑھ پر قبضہ کرنے کی دعوت دی۔ چونکہ شاہنواز بھٹو جوناگڑھ میں دیوان کے عہدے پر تھے تو انڈین حکومت نے اس خط کو قانونی جواز بناتے ہوئے جوناگڑھ پر حملہ کر دیا اور بزورِ طاقت اس پر قابض ہوگئی۔ یوں ایک پوری ریاست پاکستان کے ہاتھوں سے نکل گئی۔

ذولفقار علی بھٹو کا خط اسکندر مرزا کے نام ۔۔۔۔۔
1958 میں ذولفقار علی بھٹو نے اسکندر مرزا کے نام ایک خط لکھا جس میں اسکی بے پناہ تعریف کرتے ہوئے کہا کہ " جناب تاریخ آپ کو قائداعظم سے بھی زیادہ بڑے لیڈر کے طور پر یاد کرے گی " ۔۔۔
اس خط کے بعد اسکندر مرزا نے بھٹو کو کامرس کا وزیر بنا دیا جس کے بعد بھٹو نے پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔ بعد میں بھٹو نے پاکستان کے ساتھ جو کچھ کیا وہ تاریخ کا ایک انمٹ باب ہے!

مجیب الرحمن کا خط نہرو کے نام ۔۔۔۔
بھارتی مصنف ششانکہ بینر جی نے اپنی کتاب
" انڈیا ، مجیب الرحمن، بنگلی دیش لبریشن اینڈ پاکستان"
میں انکشاف کیا کہ انکی ملاقات 1962 میں مجیب الرحمن نے سے ہوئی جس میں مجیب الرحمن نے انہیں ایک خط دیا، جس میں نہرو سے بنگلہ دیش کی آزادی کے لیے مدد مانگی۔ پھر انڈیا نے بنگلہ دیش میں سازشوں کے جو جال بچھائے ان سے آج ہم واقف ہیں۔

عاصمہ جہانگیر کا خط نیویارک ٹائمز کو۔۔۔۔۔
1983ء میں عاصمہ جہانگیر نے نیویارک ٹائمز کو ایک خط لکھا جس میں اس نے بتایا کہ پاکستان میں عورتوں پر بدترین ظلم ہو رہا ہے اور اس ظلم کے خلاف کوئی ان کا مددگار نہیں۔ نیویارک ٹائمز دنیا کو پاکستان میں عورتوں پر ہونے والے اس ظلم سے آگاہ کرے۔ اس قسم کے خطوط کے بعد عاصمہ جہانگیر کو بتدریج پاکستان میں طاقت دی گئی۔ عاصمہ جہانگیر کے زیر اثر وہ مخصوص اسلام اور پاکستان بیزار طبقہ پروان چڑھا جن کو آج ہم دیسی لبرلز کہتے ہیں۔

بے نظیربھٹو کا خط راجیو گاندھی کے نام ۔۔۔۔۔۔
1989/90ء میں بے نظیر بھٹو نے راجیو گاندھی کے نام ایک خط بھیجا جس میں خالصتان تحریک چلانے والے تمام سکھ لیڈروں کے بارے میں معلومات دیں تھیں جن کو پاک فوج سپورٹ کر رہی تھی۔ اس خط کے ملنے کے بعد انڈیا نے یکلخت خالصتان تحریک چلانے والے تمام لیڈروں کو ان کی خفیہ پناہ گاہوں سے نکال کر گرفتار یا قتل کر دیا۔ بے نظیر بھٹو بعد میں بڑے فخر سے کہا کرتی تھی کہ
" میری مدد کے بغیر راجیو گاندھی کبھی خالصتان تحریک پر قابو نہ پا سکتا " ۔۔۔
دادا کی وجہ سے جوناگڑھ گیا،
بیٹے ( ذوالفقار علی بھٹو ) کی وجہ سے بنگلہ دیش الگ ہوا اور
پوتی (بے نظیر) کی وجہ سے خالصتان سے ہاتھ دھونا پڑے " ۔۔۔
یاد رہے کہ اگر خالصتان تحریک کامیاب ہوجاتی تو ہمارے آج ہمارے آدھے بارڈر پر انڈیا کے بجائے ایک دوست سکھ ملک ہوتا اور انڈیا کے ٹوٹنے کا سلسلہ پھر نہیں رکتا ۔۔ !

بے نظیر بھٹو کا خط امریکی سفیر کے نام ۔۔۔۔
1990ء میں بے نظیر بھٹو نے انڈیا میں موجود امریکی سفیر کے نام خط لکھا جس میں اس نے امریکہ سے اپیل کی کہ "پاکستان کو دی جانے والی معاشی اور دفاعی امداد بند کی جائے اور ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف پاکستان کو قرضہ دینا بند کرے۔ پاکستان کے ساتھ ہر قسم کی تجارت بند کر دی جائے تاکہ پاکستان میں عام شخص کی زندگی معطل ہو جائے۔
۔ پاکستان کو ایف 16 طیارے اور ان کے پرزوں کی فراہمی روک دی جائے تاکہ پاک فوج کا دماغ ٹھکانے آسکے ۔
۔آپ انڈین وزیراعظم پر دباؤ ڈالیں کہ وہ پاکستان پر حملہ کر کے پاکستانی فوج کو مصروف کر دے تاکہ میرے لیے آسانی ہو سکے"
انکو آج تک " محترمہ " کہا جاتا ہے!

آصف زرداری کا خط امریکن ایڈمرل مائیکل مولن کے نام ۔۔۔۔۔
مئی 2011ء میں اس وقت کے صدر پاکستان آصف علی زرداری کی جانب سے امریکن ایڈمرل مائیکل مولن کے نام ایک خط لکھا گیا جو میمو گیٹ سکینڈل کے نام سے مشہور ہے۔ اس خط میں آصف زرداری نے امریکہ سے پاک فوج اور آئی ایس آئی کے خلاف مدد طلب کی جسکے بدلے امریکہ کو مندرجہ ذیل پیشکشیں کی گئیں۔
1۔ امریکی سفارشات کی روشنی میں اسامہ بن لادن کو پناہ دینے یا اس سے تعلقات رکھنے والے تمام مشتبہ جرنیلوں کے خلاف کاروائی ۔
2۔ امریکہ کی پسندیدہ ترین شخصیات پر مشتمل ایک نئے سول دفاعی ادارے کا قیام جو آئی ایس آئی کو کنٹرول کرے ۔
3۔ امریکہ فورسز کو پاکستان بھر میں کہیں بھی آپریشن کرنے کی اجازت ۔
4۔ ایمن الظوہری ، ملا عمر اور سراج الدین حقانی کو فوری طور پر امریکہ کے حوالے کرنے کا وعدہ۔
5۔ آئی ایس آئی کے " سیکشن ایس" کو بند کرنے کی یقین دھانی جو امریکہ کے خلاف افغان جہاد کو کنٹرول کرتا ہے۔۔۔
6۔ ممبئی حملوں میں انڈیا کو مطلوب تمام پاکستانیوں کے خلاف فوری کاروائی اور انڈیا حوالگی کی یقین دہائی۔
7۔ پاکستان کے ایٹمی پروگرام تک امریکہ کی رسائی اور نگرانی کی پیشکش !
اس مراسلے کا انکشاف پاکستانی نژاد بزنس مین منصور اعجاز نے اپنے ایک آرٹیکل میں کیا۔ اس نے دعوی کیا کہ زرداری حکومت نے پاک فوج کو لگام ڈالنے اور آئی ایس آئی کو ختم کرنے کے لیے امریکی مدد مانگی ہے۔ اسکی وجہ یہ ہے کہ پاک فوج کو یقین ہوگیا ہے کہ ایبٹ آباد آپریشن آصف زرداری کی ایما پر امریکنز نے کیا۔ اس لیے فوج بغاوت پر آمادہ ہے!

ایم کیو ایم کا خط انڈیا کے نام ۔۔۔۔۔
متحدہ قومی مومنٹ کی طرف سے 18 جون 2015 کو پاکستان میں موجود انڈین ھائی کمیشن کو آفیشلی ایک خط لکھا گیا جس میں انکو بتایا گیا کہ پاک فوج کے آپریشن کی وجہ سے ان کے ساتھ بہت ظلم ہو رہا ہے اور انکے بہت سے کارکن غائب ہیں یا مارے جا رہے ہیں۔ ہم آپ سے اپیل کرتے ہیں کہ آپ ہمارے لیے اس صورت حال کو بہتر بنانے کی کوشش کریں۔
کیا کوئی بتا سکتا ہے کہ انڈیا جیسا دشمن ملک نیشنل ایکشن پلان کے خلاف ایم کیو ایم کے حق میں صورت حال کو کیسے بہتر بناتا ؟

حیسن نواز کا خط نریندر مودی کے نام ۔۔۔
پانامہ لیکس کے بعد پاکستانی میڈیا پر یہ خبر گردش کرتی رہی کہ وزیراعظم پاکستان نواز شریف کے بیٹے حسین نواز نے پاک فوج کے خلاف انڈیا سے مدد طلب کی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ اس خط کے بعد انڈیا نواز شریف کو بچانے کے لیے کھل کر سامنے آیا اور انکے سیاستدان انڈین میڈیا پر چلا اٹھے کہ " نواز شریف کا کوئی بال بیکا نہیں کرسکتا" ۔

یہ ہمارے عظیم لیڈروں اور خیر خواہوں کے صرف چند خطوط کا تذکرہ ہے ۔ ان سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ انکی سوچ کتنی گھٹیا، پست اور سطحی ہوتی ہے اور یہ اپنے خود غرضانہ مقاصد اور ذاتی مفادات کے لیے کہاں تک جا سکتے ہیں...!

تحریر :  مہدی حسن

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
نوٹ: اِس مضمون سے ، مہاجر زادہ متفق نہیں ، کیوں ؟
یہ ایک لمبی کہانی ہے ۔ پھر کبھی سہی ، بشرطِ زندگی !




اور چلتے چلتے ، بے چاری کوثر کے ہاتھ سے لکھا ہوا ، دو عشرے پراناخط اب پرنٹڈ فارم میں کئی لیکس پر موجود ہے ، رہے باقی خط ابھی وہ آفیشل سیکریٹ ایکٹ 1923۔ کی زد میں آتے ہیں ۔ بشمول ہماری کہانی کے ۔

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔