میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

بدھ، 14 ستمبر، 2016

تعیّنِ منزل اور منزلِ مقصود

راحیل شریف ، بچپن سے یک سعادت مند بیٹا ، اچھا دوست اور مخلص فوجی ہے ۔
جس کا 18 نومبر 1974 کو پاکستان ملٹری اکیڈمی جائن کرنے کے وقت سے ایک ہی مقصد رہا ہے کہ اپنا ہر کام پوری ایمانداری اور سچائی کے ساتھ ادا کرے ۔
پاکستان سے محبت ، فوج سے کمٹمنٹ نے اُسے پاکستان آرمی سے سب سے بڑے دو عہدوں میں سے ایک پر پہنچایا ہے ۔
پاکستانیوں کی راحیل شریف سے محبت کا عروج ، نومبر 2016 کے بعد شروع ہوگا جب وہ فوج سے ریٹائرمنٹ لے کر ایک سنگِ میل کا تعیّن کرے گا ۔
اُس کے بعد آنے والے سپہ سالار کے لئے ، راحیل کے قدموں پر چلنا مشکل یا کٹھن نہیں ہوگا ۔
کیوں کہ ، قافلے کی منزل کا تعیّن ہوچکا ہے جو ایک ، پُر امن اور پرسکون پاکستان کی صورت میں ہوگا -
راحیل شریف کی ٹیم راحیل کے ساتھ ریٹائر نہیں ہوگی ، بلکہ دوسرے سپہ سالار کی کمان میں منزلِ مقصود کی طرف چلتی رہے گی ۔
دوسرا سپہ سالار ، یقیناً تعیّنِ منزل کو تبدیل نہیں کرے گا ۔ بلکہ اُسے بامِ عروج تک پہنچائے گا ۔ 
 
 
 
 

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔