میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

منگل، 27 ستمبر، 2016

دس روپے کا خط

دس روپے کا نوٹ تو کیا ایک روپے کا نوٹ ، ہماری جوانی میں نہایت اہمیت رکھتا تھا ، اُس پر کسی کو پیغام بھجوانے کے بجائے ، آٹھ آنے مزید ملا کر فلم دیکھنا زیادہ پسند کرتے تھے مگر اب دس روپے نے تو " انت " مچائی ہوئی ہے ، نوجوان بے دریغ اسے کبوتر کی جگہ استعمال کرتے ہیں 


بُرا ہو اِس حکومت کا جس نے یہاں بھی پر کترنے کے لئے ، قینچیاں دیوار پر لگا دی ہیں ۔









خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔