میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

بدھ، 28 ستمبر، 2016

شہروں کے نام کیسے پڑے؟

. اپنے وطن سے محبت ہو تو اس کے شہروں سے محبت ہونا فطری بات ہے۔ پاکستان کے سارے شہر ہمارے لیے اتنے ہی پیارے اور محترم ہیں جتنا کہ ہمیں اپنا شہر۔ شہروں کے نام اُن کے آباد کرنے والوں کے نام پر رکھے جاتے ہیں ، یا کوئی ایسی ہستی جس کی جگہ (ڈیرہ ) عوام میں اُس کی کسی خدمت کے باعث مشہور ہو گئی ہو ۔ ان شہروں کے نام کیسے رکھے گئے۔ اس حوالے سے ایک معلوماتی مضمون پیشِ خدمت ہے۔

اسلام آباد
ں مرکزی دارالحکومت کا علاقہ قرار پایا۔ اس کا نام مسلمانانِ پاکستان کے مذہب اسلام کے نام پر اسلام آباد رکھا گیا۔

راولپنڈی
یہ شہر راول قوم کا گھر تھا۔ چودھری جھنڈے خان راول نے پندرہویں صدی میں باقاعدہ اس کی بنیاد رکھی۔

کراچی 
تقریباً ۲۲۰ سال پہلے یہ ماہی گیروں کی بستی تھی۔ کلاچو نامی بلوچ کے نام پر اِس کا نام کلاچی پڑ گیا۔ پھر آہستہ آہستہ کراچی بن گیا۔ ۱۹۲۵ء میں اسے شہر کی حیثیت دی گئی۔ ۱۹۴۷ء سے ۱۹۵۹ء تک یہ پاکستان کا دارالحکومت رہا۔

حیدرآباد
اس کا پرانا نام نیرون کوٹ تھا۔ کلہوڑوں نے اسے حضرت علیؓ کے نام سے منسوب کرکے اس کا نام حیدرآباد رکھ دیا۔ اس کی بنیاد غلام کلہوڑا نے ۱۷۶۸ء میں رکھی۔ ۱۸۴۳ء میں انگریزوں نے شہر پر قبضہ کرلیا۔ اسے ۱۹۳۵ء میں ضلع کا درجہ ملا۔

پشاور
پیشہ ور لوگوں کی نسبت سے اس کا نام پشاور پڑ گیا۔ ایک اور روایت کے مطابق محمود غزنوی نے اسے یہ نام دیا۔

کوئٹہ
لفظ کوئٹہ، کواٹا سے بنا ہے۔ جس کے معنی قلعے کے ہیں۔ بگڑتے بگڑتے یہ کواٹا سے کوئٹہ بن گیا۔

ٹوبہ ٹیک سنگھ
اس شہر کا نام ایک سکھ "ٹیکو سنگھ" کے نام پہ ہے "ٹوبہ" تالاب کو کہتے ہیں یہ درویش صفت سکھ ٹیکو سنگھ شہر کے ریلوے اسٹیشن کے پاس ایک درخت کے نیچے بیٹھا رہتا تھا اور ٹوبہ یعنی تالاب سے پانی بھر کر اپنے پاس رکھتا تھا اور اسٹیشن آنے والے مسافروں کو پانی پلایا کرتا تھا  سعادت حسن منٹو کا شہرہ آفاق افسانہ "ٹوبہ ٹیک سنگھ" بھی اسی شہر سے منسوب ہے

سرگودھا
یہ سر اور گودھا سے مل کر بنا ہے۔ ہندی میں سر، تالاب کو کہتے ہیں، گودھا ایک فقیر کا نام تھا جو تالاب کے کنارے رہتا تھا۔ اسی لیے اس کا نام گودھے والا سر بن گیا۔ بعد میں سرگودھا کہلایا۔ ۱۹۰۳ء میں باقاعدہ آباد ہوا۔

بہاولپور

نواب بہاول خان کا آباد کردہ شہر جو انہی کے نام پر بہاولپور کہلایا۔ مدت تک یہ ریاست بہاولپور کا صدر مقام رہا۔ پاکستان کے ساتھ الحاق کرنے والی یہ پہلی رہاست تھی۔ ون یونٹ کے قیام تک یہاں عباسی خاندان کی حکومت تھی۔

ملتان
کہا جاتا ہے کہ اس شہر کی تاریخ ۴ ہزار سال قدیم ہے۔ البیرونی کے مطابق اسے ہزاروں سال پہلے آخری کرت سگیا کے زمانے میں آباد کیا گیا۔ اس کا ابتدائی نام ’’کیساپور‘‘ بتایا جاتا ہے۔

فیصل آباد
اسے ایک انگریز سر جیمزلائل (گورنرپنجاب) نے آباد کیا۔ اُس کے نام پر اس شہر کا نام لائل پور تھا۔ بعدازاں عظیم سعودی فرماں روا شاہ فیصل شہید کے نام سے موسوم کر دیا گیا۔

رحیم یار خاں
بہاولپور کے عباسیہ خاندان کے ایک فرد نواب رحیم یار خاں عباسی کے نام پر یہ شہر آباد کیا گیا۔

عبدالحکیم
جنوبی پنجاب کی ایک روحانی بزرگ ہستی کے نام پر یہ قصبہ آباد ہوا۔ جن کا مزار اسی قصبے میں ہے۔

ساہیوال
یہ شہر ساہی قوم کا مسکن تھا۔ اسی لیے ساہی وال کہلایا۔ انگریز دور میں پنجاب کے انگریز گورنر منٹگمری کے نام پر ’’منٹگمری‘‘ کہلایا۔ نومبر ۱۹۶۶ء صدر ایوب خاں نے عوام کے مطالبے پر اس شہر کا پرانا نام یعنی ساہیوال بحال کردیا ۔

سیالکوٹ
۲ ہزار قبل مسیح میں راجہ سلکوٹ نے اس شہر کی بنیاد رکھی۔ برطانوی عہد میں اس کا نام سیالکوٹ رکھا گیا۔

گوجرانوالہ
ایک جاٹ سانہی خاں نے اسے ۱۳۶۵ء میں آباد کیا اور اس کا نام ’’خان پور‘‘ رکھا۔ بعدازاں امرتسر سے آ کر یہاں آباد ہونے والے گوجروں نے اس کا نام بدل کر "گوجراں والا" رکھ دیا۔

شیخوپورہ
مغل حکمران نورالدین سلیم جہانگیر کے حوالے سے آباد کیا جانے والا شہر۔ اکبر اپنے چہیتے بیٹے کو پیار سے ’’شیخو‘‘ کہہ کر پکارتا تھا اور اسی کے نام سے شیخوپورہ کہلایا۔

     *ہڑپہ*
یہ دنیا کے قدیم ترین شہر کا اعزاز رکھنے والا شہر ہے۔ ہڑپہ، ساہیوال سے ۱۲ میل کے فاصلے پر واقع ہے۔ کہا جاتا ہے کہ یہ موہنجوداڑو کا ہم عصر شہر ہے۔ جو ۵ ہزار سال قبل اچانک ختم ہوگیا۔رگِ وید کے قدیم منتروں میں اس کا نام ’’ہری روپا‘‘ لکھا گیا ہے۔ زمانے کے چال نے ’’ہری روپا‘‘ کو ہڑپہ بنا دیا۔

ٹیکسلا
گندھارا تہذیب کا مرکز۔ اس کا شمار بھی دنیا کے قدیم ترین شہروں میں ہوتا ہے۔ یہ راولپنڈی سے ۲۲ میل کے فاصلے پر واقع ہے۔ ۳۲۶ قبل مسیح میں یہاں سکندرِاعظم کا قبضہ ہوا تھا۔

بہاول نگر
ماضی میں ریاست بہاولپور کا ایک ضلع تھا۔ نواب سر صادق محمد خاں عباسی خامس پنجم کے مورثِ اعلیٰ کے نام پر بہاول نگر نام رکھا گیا۔

مظفر گڑھ
والئی ملتان نواب مظفرخاں کا آباد کردہ شہر۔ ۱۸۸۰ء تک اس کا نام ’’خان گڑھ‘‘ رہا۔ انگریز حکومت نے اسے مظفرگڑھ کا نام دیا۔

میانوالی
ایک صوفی بزرگ میاں علی کے نام سے موسوم شہر ’’میانوالی‘‘ سولہویں صدی میں آباد کیا گیا تھا۔

ڈیرہ غازی خان
پاکستان کا یہ شہر اس حوالے سے خصوصیت کا حامل ہے کہ اس کی سرحدیں چاروں صوبوں سے ملتی ہیں۔

جھنگ
یہ شہر کبھی چند جھونپڑیوں پر مشتمل تھا۔ اس شہر کی ابتدا صدیوں پہلے راجا سرجا سیال نے رکھی تھی اور یوں یہ علاقہ ’’جھگی سیال‘‘ کہلایا۔ جو وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ جھنگ سیال بن گیا اور پھر صرف جھنگ رہ گیا۔

بشکریہ : کرنل سردار محمد مشتاق 

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔