میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

پیر، 17 اکتوبر، 2016

بچوں کا جنسی استحصال اور بچاؤ - 2

غالبا میں 14 سال کاتھا ، جب مجھے مرد و زن کے جنسی تعلقات کا علم ہوا ، مجھے سمجھ نہیں آتا تھا  کہ ایسا کیوں ہے ؟
 جانوروں اور پرندوں کو تو اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا ، لیکن اشرف المخلوقات کے بارے میں یہ معلوم تھا کہ جو گندے لوگ ہوتے ہیں ، وہ خراب ہوتے ہیں چنانچہ وہ ہی ایسے گندے کام کرتے ہیں ۔
لہذا ، انسانوں میں بھی جانوروں کی طرح گندے لوگ ، پائے جاتے ہیں ، جو آپس میں لڑائیں کرتے ہیں اور برا فعل کرتے ہیں ۔
انور لطیف اور مجھ میں جو واحد قدر مشترک تھی وہ یہ کہ ہم دونوں ٹارزن کی کہانی بہت شوق سے پڑھتے اور دونوں نے اخبار سے قسطیں کاٹ کاٹ کر فائل بنائی ہوئی تھی ۔ اور دوسرے یہ کہ ہم دونوں کو باڈی بلڈنگ کا شوق تھا ، میں ایبٹ آباد کی برکی سکول کی ۔ پی ٹی اور جمناسٹ ٹیم میں بھی تھا لہذا سمر سالٹ اور بیک سالٹ دونوں ایک ساتھ تین دفعہ لگاتا تھا ۔ لیکن گندے لوگوں کی کتابیں پڑھنے میں وہ مجھے سے نمبر لے گیا تھا ۔ 
بچپن سے اسلامی گھرانہ اور الکتاب با ترجمہ پڑھنے کی وجہ سے ایسی علّت نہیں پڑی تھی ، جب چھٹی کلاس سے دینیات کا سبق شروع ہوا، مجھے نہیں یاد کہ 90 سے کم میں نے نمبر لئے ہوں۔ اِس لئے کہ اردو ڈائجسٹ، ترجمان القرآن ، شہاب ، بتول اور بچوں کا رسالہ نو ، 90 فیصد دینیات ہی تھے ۔ گویا والدین بچپن میں جو ذہن سازی کی تھی، اُس نے غلط راہ پر پڑنے سے بچایا رکھا ۔
سکول اور محلے سے باہر دوست بنانے کی اجازت نہ تھی نیز مغرب کی اذان سے پہلے گھر اور پھر گھر سے مسجد نماز پڑھنے کے لئے جانا محلے کے تمام ہم عمر یا کم عمر دوستوں کو والدہ جانتی تھیں ۔

یاد آیا کہ ترجمان القرآن کے ، کچھ شمارے جو والد گھر لاتے تھے ، اور کئی اُن کے دوست مانگ کر لے جاتے جو واپس نہ ملتے ، پھر والد کی ریٹائرمنٹ کے بعد 1956 سے لے کر 1971 تک کے شمارے ، اُن کی لائبریری میں موجود تھے ۔ 

میں لیفٹنٹ تھا تو آرمی بُک کلب کی طرف سے مودودی صاحب کا سورہ نور کی تفسیر ملی ، جو مجھے انور لطیف کی طرف سے کلاس میں اردو کی کتاب میں جھلکیوں کی صورت میں دکھلائے گئے ، " وہی وہانوی" المعروف "ڈبلیو ڈبلیو" سے مختلف نہ لگے ، ایک سادہ اور دوسرا مذہبی مٹھاس میں ملفوف ۔ دونوں عام زبان میں " ٹوٹے " ہی کہلائے جا سکتے تھے ۔ گویا والد صاحب نے ، ترجمان القرآن کے وہ شمارے جن میں ، مرد و زن کے تعلقات کے بارے میں آیات کو مودودی صاحب نے ، مذہبی لباس میں ملفوف کر کے ، معلوماتِ عامہ برائے شادی شدہ  یا امیدوارانِ شادی، گھما پھرا کے دی تھی اور "ڈبلیو ڈبلیو" نے وہی معلومات ، ہر پڑھنے والے بلا تخصیص عمر و نسل دی تھیں میں مجھے کوئی فرق نہیں لگا ، دونوں ہی، نوجوانوں کے " رونگٹے " کھڑے کرنے والی تھیں ۔
 یہی وجہ ہے ، کہ میٹرک میں میرے ہاتھ میں بخاری جلد اوّل  دیکھ کر والد نے ، لے کر الماری میں رکھ دی کہ پہلے امتحان دے لو بعد میں پڑھنا !
فلمیں دیکھنے یا عشقیہ گانے سننا تو، کفر سے بڑا گُناہ تھا ۔ "مرنے کے بعد موت کا منظر" کی چھپائی تو ابھی ہوئی ہے ، لیکن ہمیں تو والدہ نے کہانیوں کی صورت میں بچپن سے ازبر کروادی تھی ۔
لڑکوں کے لئے سب سے بڑی پریشانی یہ ہوتی ہے ، کہ صبح کے وقت ، اُن کا رونگٹا انگڑائی لے کے بیدار ہوجاتا اور الٹا لیٹنے میں مزا آتا ہے ،لیکن یہ مزہ اُس وقت کر کرا ہوجاتا ، جب ذہن میں وعید گونجتی ،
"اگر " پھنو" پیشاب کی وجہ سے سخت ہوگئی اور اُسے ہاتھ لگایا تو قیامت کے دن اللہ عذاب دے گا اور اُس کا وزن ایک من ہوجائے گا ۔ لہذا فوراً جاکر پیشاب کرو ۔
اور اگر بستر میں پیشاب کیا اور وہ جسم سے لگ گیا تو 40 سال جہنم میں جلنے کے بعد وہ حصہ پاک ہوگا ۔"

اب ایسی خوفناک وعید کے بعد کون بچہ ، بستر میں لیٹ کر انگڑائیاں لے سکتا تھا ۔ لہذا صبح کاذب کے وقت اُٹھنا مجبوری بن چکا تھا ۔ 
لیکن میں سوچتا ہوں، کہ میرے والدین کی ہم بچوں پر مسلسل توجہ اور مذہبی تعلیم نے یقیناً مجھے بگڑنے نہیں دیا ۔ گھر سے سکول اور سکول سے گھر کا فاصلہ اور وقت، والدہ کو ازبر تھا ، لہذا دائیں بائیں ہونے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ، گو کہ اُس وقت موبائل نہیں تھا ، میں اور چھوٹا بھائی ایک دوست شکیل احمد( بعد میں بریگیڈئر ڈاکٹر) کے گھر گئے ہوئے تھے، وہاں شرارتوں میں، میں بائیں ہاتھ کے بل گرا اور کہنی سے نیچے ہڈی ٹوٹ گئی ، والدہ کے موبائل کی بیل بجی ، وہ برقعہ پہن کر ایک کلو میٹر دور دوست کے گھر پہنچ گئیں اُس وقت تک پرویز (دوست کا بڑا) بھائی فوراً مجھے گود لے ایم آئی روم گئے جو اُن کے گھر سے دوسو گز دور تھا ۔
اِسی طرح میں ٹل (کوھاٹ) میں تھا اور والدہ میرپورخاص میں جب سیڑھیوں سے اندھیرے میں اترتے وقت میرا بائیاں ٹخنہ ٹوٹ گیا ، میرے منہ سے ھائے نکلی اور والدہ کے موبائل پر وصول ہوئی ، ہفتہ بعد اُن کا خط ملا ، جس میں اُنہوں نے میری خیریت پوچھی ، کہ کہیں چوٹ وغیرہ تو نہیں لگی ۔
والدہ پانچویں جماعت تک پڑھی ہوئی تھیں، لیکن میری آٹھویں کے مضامین اُن کو زبانی یاد تھے ، کیوں کہ یہی مضامین آپا نے اُنہیں ٹیسٹ دیتے وقت سنائے تھے ۔
اخلاقیات میں، ماں، باپ اور بچے کی ایک مثلث ہوتی ہے ، جس میں وہ زندگی گذارتے ہیں ، اِس کے تینوں زاویے اگر برابر ہوں تو بچے نہیں بگڑتے ۔ 
بچہ آپ  کے برابرنہیں آسکتا ، لہذا ماں اور باپ کو اپنے زاویے تبدیل کرنا پڑتے ہیں ۔
ایک چیز اگر بچے کے لئے بُری ہے تو وہ ، ماں اور باپ دونوں کے لئے بھی بُری ہونا چاھئیے ۔ اگر اِس اصول پر سختی سے عمل ہو تو بچے کو اچھائی اور بُرائی کا تصوّر واضح ہوجائے گا ۔ 



٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
بچوں کا جنسی استحصال اور بچاؤ - 1

بچوں کا جنسی استحصال اور بچاؤ - 3

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔