میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

منگل، 11 اکتوبر، 2016

شیطان نامہ - قسط نمبر 39-آخری قسط واقعہ کربلا


عبید الله بن زیاد گورنر کوفہ جو کچھ بھی کر رہے تھے وہ امن عامہ کے تحفظ کی خاطر تھا اور امیر المومنین کے حکم سے اپنے فرائض انجام دے رہے تھے حضرت حسین کی ذات یا خاندان سے انہیں کوئی ذاتی پرخاش یا بغض و عداوت نہیں تھی اور وہ تو اس باپ کے بیٹے تھے جو حضرت علی کے خاص وفا دار اور حمایتی رہے تھے اور ان کی شہادت کے بعد بھی عرصۂ دراز تک انہی کے نام لیوا رہے ۔
ابن زیاد کی نیک نیتی کا ثبوت تو انہی راویوں کے بیان سے ملتا ہے کہ اگر ان کو حسین کی ذات سے ذرا بھی دشمنی ہوتی تو مسلم بن عقیل کا آخری خط اور وصیت عمر بن سعد جو کہ سپہ سالار تھے ان کے ہاتھوں بھیجنے کی اجازت ہی نہ دیتے جس میں مسلم بن عقیل کے قرض کی ادائیگی کے لئے بھی کہا گیا تھا علاوہ ازیں امیر یزید کے فرمان میں صاف ہدایت تھی کہ جنگ و جدل میں اپنی طرف سے پہل نہ کریں اور اس وقت تک تلوار نہ اٹھائیں جب تک کہ ان کے خلاف تلوار نہ اٹھائی جاۓ.( ان تمام کا ذکر حوالہ جات کے ساتھ پچھلی اقساط میں ہو چکا ہے .) 
اور ابن زیاد امیر یزید کے حکم کے خلاف کس طرح عمل کر سکتے تھے . اور حسینی قافلے کا اس جگہ پہنچنے سے پہلے ہی کہنا کے ان کا پانی بند کر دو عجیب سی لگتی بات ہے . اتنی لمبی مسافت طےکر کے اور دشوار گزار مراحل سے گزر کر جب کہ عورتیں اور بچے بھی ساتھ ہوں وقوعہ سے ایک دن تو کیا وقوعہ کے ہفتہ بعد بھی جب پہنچ جانا نا ممکن لگتا ہے تو پانی بند کرنے اور ان وحشیانہ مظالم کی داستانیں تو محظ اپنی ذہنیت کے تحت ہی گھڑی گئی ہیں ( ان تمام منازل اور مراحل کا چارٹ بمعہ فاصلہ اور رفتار ہم پہلے ہی پوسٹ کر چکے ہیں )اور اتنے لمبے سفر کے بعد کس میں ہمت ہوتی ہے کہ اتنے مظالم برداشت کر سکے اور اس شان سے جنگ و جدل کرے .
خود ابو محنف کے بیان سے ہی ثابت ہے کہ ابن سعد اور حضرت حسین میں تین چار ملاقاتیں ہوئیں (صفحہ 225 جلد 6 طبری) اور ان ملاقاتوں کے نتیجے میں اس خط کا ابن زیاد کے پاس بھیجا جانا بتایا گیا ہے جس کے ابتدائی الفاظ یہ ہیں .

خدا نے آتش جنگ (یعنی اختلافات )کو بجھا دیا اور اتحاد و اتفاق پیدا کر دیا اور امت کی اس میں بہتری چاہی- (صفحہ 235 جلد 6 طبری )
اس کے بعد وہ تین شرطیں بھی لکھی ہیں جن کا ذکر گزشتہ اوراق میں آ چکا ہے راویوں کا یہاں تک بیان ہے کہ خط پڑھ کر ابن زیاد کے منہ سے یہ الفاظ نکلے.
یہ خط ایک ایسے شخص نے لکھا ہے جو اپنے امیر کا صحیح مشیر ہے اور اپنی قوم کا مشفق ہے ہاں تو میں نے قبول کیا (صفحہ 236 جلد 6 طبری)
راویوں کے اس بیان سے کیا یہ ظاہر نہیں ہوتا کہ حکومت کے یہ دونوں افسر (گورنر اور سپہ سالار ) اس مسئلہ کو خون ریزی کی بجائے صلح اور امن و آشتی سے نمٹانا چاہتے تھے .
حکومت کو ہر چیز منظور تھی اور حضرت حسین کی پہلی ہی شرط کہ مجھے واپس جانے دیا جائے اس پر بھی کوئی اعتراض نہ تھا مگر حسین کے ساتھیوں میں سے دو قوتیں ان کہ ارادے میں حائل اور رکاوٹ تھیں .
ایک تو برادران مسلم بن عقیل کا تہیہ کہ وہ اپنے مقتول بھائی کا انتقام لے کر رہیں گے چاہے اس میں اپنی بھی جانیں دے دینی پڑیں-
دوسرے وہ کوفی اور سبائی جو مکہ سے حسین قافلے کے ساتھ آ رہے تھے اور صلح ہو جانے سے ان کا مشن پوری طرح ناکام ہو گیا تھا اور ان کی پوزیشن حد درجہ خراب ہو چکی تھی- وہ اپنی خیریت اسی میں سمجھتے تھے کہ صلح نہ ہونے پاۓ کیونکہ ان کے لئے کوئی اور صورت بچت کی تھی ہی نہیں کہ کوفہ جاتے ہیں تو کیفر کردار تک پہنچتے ہیں دمشق کا رخ کرتے ہیں بغاوت کے جرم میں مارے جاتے ہیں ۔
 اور وہ یہ بھی جانتے تھے حضرت حسین کا تو بال بھی بیکا نہ ہو گا کیونکہ وہ یزید اور حسین کی قریبی رشتہ داری اور درینہ تعلق اور اس چیز سے بھی آگاہ تھے کہ حسین کچھ بھی کر لیں یزید کے دل سے نواسہ رسول کا احترام نہیں نکل سکتا ( اور حسین کو بھی اس بات کا علم تھا ) اور حسین صاف بچ جائیں گے .اور انہوں نے وہی کیا جو ان کے بڑوں نے کیا تھا اپنے پیش رو سبائیوں کی تقلید کی جنہوں نے حضرت علی اور طلحہ اور زبیر میں مصالحت ہوتے دیکھ کر کیا تھا یعنی آتش جنگ مشتعل کرا دی.
جیسا پہلے اوراق میں ذکر ہو چکا ہے کہ جنگ جمل تو ان ہی سبائیوں کی ریشہ دوانیوں کے نتیجہ میں ہوئی تھی چنانچہ ان کوفیوں کی ساری کوشش اب اس بات پر تھی کہ حضرت حسین اپنے سابقہ موقف پر قاتم رہیں اور صلح و مفاہمت کو سبوتاژ کر دیا جاۓ
خود ابو محنف ہی کی روایت ہے کہ کوفیوں نے جن میں اب چار نووارد کوفی بھی شامل ہو گئے تھے ۔
حضرت حسین کو یہ ترغیب دینی شروع کی کہ کوہستان (آجا و سلمہ ) پر چل کر ڈیرے ڈالیں ، "بنی طے" کے بیس ہزار سوار اور پیادے بہت جلد آپ کی مدد کو وہاں پہنچ جائیں گے اور اپنے بڑوں کے قصے بیان کرنے شروع کر دیے ہم لوگ شاہان غسان اور حمیرا اور نعمان بن مندر سے جن کی حکومت حیره اور اس کے نواح میں تھی ان ہی پہاڑوں میں پناہ لی اور محفوظ رہے تھے ۔
حکومت وقت کو حضرت حسین کے ساتھیوں کے ان عزائم کا حال معلوم ہوا کہ یہ گروہ اس حالت میں بھی جب کے ان کا سارا پلان اور منصوبہ خاک میں مل چکا ہے حضرت حسین کو تحریص اور ترغیب دینے سے باز نہیں آ رہے تو ضروری سمجھا گیا کہ ان لوگوں کی ریشہ دوانیوں کا خاتمہ ہی کر دیا جاۓ اور مسئلہ کو آئینی شکل دے دی جاۓ یعنی عمر بن سعد کی ملاقاتوں کے نتیجے میں جب حضرت حسین آمادہ ہو گئے ہیں کہ امیر یزید سے بیعت کر لیں گے تو ان سے مطالبہ کریں کہ وہ ہتھیار ڈال دیں اور دمشق لے جانے سے پہلے امیر یزید کے نماندے عبید الله بن زیاد کے ہاتھ پر یہیں بیعت کریں۔

اور اس میں کوئی خلاف شریعت بات نہیں تھی تمام مملکت اسلامی میں ہر خاص و عام نے اور صحابہ اکرام جیسی بلند و بالا ہستیوں نے اسی طریقے اپنے اپنے عاملان حکومت کے ہاتھ پر امیر یزید کی بیعت کی تھی ، کہا جاتا ہے حضرت حسین نے اس طرح بیعت کرنے اور حاکم کوفہ ابن زیاد کا حکم ماننے سے یہ فرما کر انکار کر دیا کہ تم جیسے شخص کے ہاتھ پر بیعت کرنے سے تو موت بہتر ہے۔
 حضرت حسین کا یہ قول اگر درست نقل ہوا ہے تو انتہائی حیرت کی بات ہے کیونکہ آئینی حیثیت سے نمائندے کی حیثیت ذاتی نہیں رہتی اور امیر کوفہ کے ہاتھ پر بیعت کرنا خود امیر المومنین کے ہاتھ پر بیعت کرنے کے برابر تھا ۔
آپ کے انکار پر دوسرا مطالبہ احتیاط کی خاطر یہ کیا گیا کہ تمام ہتھیار اور آلات حرب جو حسینی قافلہ کے پاس موجود ہیں حکومت کے حوالے کر دیں تا کہ اس خطرے کا سد باب ہو جاۓ جو ان کوفیوں کی ترغیب سے پیدا ہوا تھا اور ایسا نہ ہو کہ دمشق جانے کے بارے میں اپنی رائے پھر اسی طرح تبدیل نہ کر لیں جس طرح ایک دفعہ آپ پہلے بھی کر چکے تھے ۔

جب حضرت حسین مدینہ میں تھے تو عامل مدینہ سے فرمایا تھا کہ جب صبح بیعت عامہ کے لئے لوگوں کو بلانا تو ہم بھی موجود ہوں گے مگر حضرت ابن زبیر سے گفتگو کے بعد آپ اور وہ دونوں رات ہی میں مکہ منورہ روانہ ہو گئے تھے .

مسلم بن عقیل کے بھائیوں کو حکام کوفہ کے اس مطالبے نے کہ ہتھیار حکومت کے حوالے کر دیں بہت زیادہ مشتعل کر دیا نیز ان کوفیوں کو جو حسینی قافلہ میں شامل تھے اور جنھیں صلح میں اپنی موت نظر آ رہی تھی یہ موقعہ ہاتھ آ گیا انہوں نے اپنے بڑوں اور پیش روؤں کی تقلید کرتے ہوے کہ جنہوں نے جمل کی، ہوتی ہوئی صلح کو جنگ میں تبدیل کر دیا تھا اس اشتعال کو اس شدت سے بھڑکا دیا کہ انتہائی نا عاقبت اندیشی سے فوجی دستہ کے سپاہیوں پر قاتلانہ حملہ کر دیا جو ہتھیار رکھوانے کی غرض سے گھیرا ڈالے ہوے تھے اور یہ حملہ انتہائی غیر متوقیہ اور اچانک کیا گیا تھا .

انسائیکلو پیڈیا آف اسلام (صفہ 1162) کے مقالہ نویس لکھتے ہیں کہ
گورنر کوفہ عبید الله بن زیاد کو یزید نے حکم دیا کہ حسین قافلہ کے ہتھیار لینے کی تدبیر کرے اور صوبہ عراق میں ان کے داخل ہونے اور جھگڑا و انتشار پھیلانے سے باز رکھیں .کوفہ کے شیعان علی میں سے کوئی مدد کے لئے کھڑا نہ ہوا اور حسین اور ان کے مٹھی بھر ساتھیوں نے اپنے سے بدرجہا طاقتور فوجی دستہ پر جو ان سے ہتھیار رکھوانے کے لئے بھیجا گیا تھا غیر نا عاقبت اندیشانہ طور پر قاتلانہ حملہ کر دیا
  


جدید تحقیق کے مطابق ،
میدانِ کربلا میں شہید ھونے والے امام حسین کے رُفقاء کی مکمل فہرست .-
1. حضرت حر ابن یزید الریاحی
2. علی ابن حر الریاحی
3۔ نعیم بن العجلا الانصاری
4۔عمران بن کعب الاشجعی
5۔ حنظلہ ابن عمر الشیبانی
6۔ قاسط بن زہیر التغلبی
7۔ کردوس بن زہیر التغلبی
8۔ کنانہ بن عتیق التغلبی
9۔ عمر بن صبیقی الضبعی
10. ضرغامہ ابن مالک التغلبی
11. غامر بن مسلم العبدی
12. سیف ابن مالک العبدی
13۔ عبد الرحمان الارجبی
14.مجمع بن عبداللہ العامذی
15.حیان بن حارث السلمانی
16۔ عمرو بن عبداللہ الجندعی
17۔ حلاس بن عمر الراسبی
18 ۔ نعمان بن عمرالراسبی
19۔ سوار ابن ابی عمیر الہمدانی
20۔ عمار ابن سلامتہ الدالانی
21۔ زاہر بن عمر الکندی
22۔ جبلہ ابن علی الشیبانی
23. مسعود بن حجاج التیمی
24. حجاح ابن بدر التیمیمی السعدی
25. عبداللہ ابن بشر الخثعمی
26۔ عمار ابن حسان الطائی
27۔عبداللہ ابن عمیر الکلبی
28۔ مسلم ابن کشیر الازدی
29۔ زہیر ابن سیلم الازدی
30. عبد اللہ بن یزید العبدی
31۔ بشر بن عمر الکندی
32 عبداللہ بن عروہ الغفاری
33. بریر ابن خضیر الہمدانی
34. وہب ابن عبداللہ الکلبی
35. ادہم بن امیتہ العبدی
36. امیہ بن سعد الطائی
37.سعد ابن حنظلہ التمیمی
38.عمیر ابن عبداللہ المد حجی
39. مسلم بن عوسجہ الاسدی
40. ہلال ابن نافع البجلی
41. سعید بن عبداللہ الحنفی
42.عبد الرحمن بن عبد المزنی
43. نافع بن ہلال الجملی
44. عمر ابن قرظتہ الانصاری
45. جون بن حوی غلام الغفاری
46. عمر ابن خالد الصیدادی
47. حنظلہ ابن اسعد الشبامی
48.سوید ابن عمار الاتماری
49۔یحیی بن سلیم المازنی
50. قرہ ابن ابی قرتہ الغفاری
51. مالک ان انس المالکی
52. ذیاد ابن غریب الصائدی
53. عمر بن مطاع الجعفی۔
54. حجاج ابن مسروق المدحجی
55. زہیر ابن قین ابجلی
56. حبیب ابن مظاہر الاسدی
57. ابو ثمامہ عمرو بن عبداللہ الصیدادی
58. انیس بن معقل الاصبحی
59. جابر ان عروۃ الغفاری
60. سالم مولی عامر العبدی
61. جنادہ ابن کعب الخزرجی
62.عمر بن جنادۃ الانصاری
63. جنادہ بن الحرث السلمانی
64. عابس ابن شبیب الشاکری
65. شوذب ابن عبداللہ الہمدانی
66. عبد الرحمان بن عروۃ الغفاری
67.حرث ابن امرو القیس الکندی
68. یزید ابن زیاد الہدلی
69. ابو عمرو النہثلی
70. جندب بن حجیر الخولانی الکندی
71. سلمان بن مضارب الانماری
72. مالک ابن عبداللہ الجابری

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

 

 قسط نمبر 38  ٭٭٭٭-ابتداء ِ  شیطان نامہ-٭٭٭٭ -قسط نمبر  40 

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔