میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

منگل، 11 اکتوبر، 2016

شیطان نامہ - قسط نمبر 40- جائزہ

قارئین آپ نے 39 قسطوں پر مشتمل شیطان نامہ پڑھا، یہ ایک مکمل تاریخی اقتباس نامہ ہے جو ایک تاریخی واقعہ کو تاریخ کی نظروں سے دیکھا اور جن جن مؤلفین نے اِسے قلم بند کیا وہ سب حوالہ جات دئیے گئے ۔ نہ شیطان نامہ کا مؤلف اُس وقت وہاں موجود تھا جب یہ واقعہ ، وقوع پذیر ہوا اور نہ ہی ۔ ماضی کے باقی مؤلفین وہاں کے گواہ تھے، لیکن قصہ خوانی بازار میں یہ وقوعہ خوب بکا ، اتنا کہ آج یعنی 10 محرم 1438 ھجری ، کو ٹی وی کی ریٹنگ آسمان پر پہنچی ہوئی ہے ۔ اور ایسی ایسی کہانیاں سننے کو مل رہی ہیں جو مؤلف نے اپنی زندگی میں کبھی نہیں سنیں ۔ لیکن کیا کیا جائے بِک رہی ہیں اور خوب بَک رہی ہیں ۔
اِس وقت ٹی پر ایک نغمہ آرہا ہے ۔
فاطمہ کے لال کو پانی نہیں دیا
آج ٹی وی پر سونے کی سبیلیں دیکھ کر ، یہ مصرعہ بنا
قاتل فرات سے ہوتے رہے سیراب


٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

ایک صدی سے بھی زیادہ وقت گزرنے کو آیا اور ہم نے تصویر کا ایک ہی رخ دیکھا اور کبھی بھی اس کی تحقیق کرنے کی کوشش نہیں کی اور ہمارا جو قلبی اور احترام کا تعلق نواسہ رسول کی ذات سے ہے اور جو کچھ ان تاریخوں میں درج ظلم و ستم کی من گھڑت داستانیں ہیں ان ہی پر آنکھ بند کے بھروسہ کرتے چلے گیے اور اس پر ستم یہ ہوا کہ اہل تشیح نے اہل سنت کا روپ اختیار کر کے اس سواد اعظم کو اپنے عقائد اور گمراہی میں اپنے ساتھ ملا لیا فرق بس اتنا پڑا کہ اہل سنت والجماعت صحابہ کو برا نہیں کہتے اور ماتم نہیں کرتے بقایا عقائد بلکل مشترک ہیں ان کے جمعہ المباک کے خطبوں کو سن کر کسی شیعہ مجلس کا گمان ہوتا ہے خاص طور پر محرم میں ، اور فضیلت کی حدیثیں جو ان کوفیوں اور سبائیوں نے حضرت علی اور حضرت حسین کو اس سیاسی مقصد کے لئے اہل بیعت میں شامل کر کے گھڑیں ہر زبان پر اس کے چرچے مدت سے چلے آ رہے ہیں ( اس کے لئے پروفیسر یوسف سلیم چشتی کی کتاب " اسلامی تصوف میں غیر اسلامی نظریات کی آمیزش " کا مطالہ ضرور کریں.
ان حدیثوں میں حضرت علی کا چہرہ دیکھنا عبادت ، علی علم کا شہر ، علی اور اہل بیعت کے پاس جنت کی کنچیاں ہیں ، حسن اور حسین جنتی نوجوانوں کے سردار ہیں وغیرہ وغیرہ شامل ہیں اور ان احادیث کا موازنہ قران و سنت کی روشنی میں گزشتہ اوراق میں کیا جا چکا ہے اور اس کا مقصد صرف یہ نظرآتا ہے کہ عام مسلمان ان چیزوں کے تحقیق کرتے ہوے بھی ڈریں کہ کہیں دائره اسلام سے خارج ہی نہ ہو جائیں اور جہنم کا ایندھن نہ بن جائیں اور کبھی اس طرف خیال ہی نہ جاۓ کہ ان کی سیاست کے خلاف بر سر پیکار ہستیاں بھی رسول اللہ کے قریبی ساتھی اور صحابہ تھے کوئی رسول الله کا سالہ تھا اور کوئی سالے کا بیٹا . اور اہل تشیح کے ہاں اس حد تک پرو پیگنڈہ کیا گیا کہ رسول الله کی وفات کے بعد معاذ الله تمام لوگ آہستہ آہستہ کافر ہو گیے تھے اور رسو ل الله کی دونوں بیٹیاں جو بالترتیب حضرت عثمان کو بیاہی گئی تھیں حضرت خدیجہ کے پہلے شوہر میں سے تھیں اور ہم جاہل مسلمان ( سواے چند اہل علم کے ) اس سے متاثر ہوے بغیر نہ رہ سکے عوام الناس کی تو خیر چھوڑیں شیخ السلام مولانا طاہر القادری جیسے علما سو شیعہ حضرات کی مجلس بھی پڑنے لگے.
اب آگے کیا ہوا غور کریں . عمر بن سعد امیر عسکر نے جیسا کے ان ہی کی روایتوں سے ظاہر ہے کوئی جارحانہ قدم بلکل نہیں اٹھایا تھا تمام فوجی مدافعانہ پہلو اختیار کیے رہے اور کون تھا جو نواسہ رسول پر تلوار اٹھاتا وو سب لشکری (یزید کے فوجی ) حسین اور اس ساتھیوں کے آگے دوڑتے رہے اور چیختے چلاتے رہے کہ اے نواسہ رسول رک جاؤ اور اپنے ساتھیوں کو بھی روکو ہمیں نا حق قتل نہ کرو اور عمر بن سعد کے لئے اپنی زندگی کی سب سے بڑی آزمائش سرپر آ کھڑی ہوئی تھی جو اپنے فوجیوں کو نواسہ رسول پر تلوار اٹھانے سے روکتے رہے اور حسین اور ان کے ساتھیوں کو آخر وقت تک اس یک طرفہ قتل عام سے روکتے رہے .
حسینی قافلے کے اکثر لوگ جنگ و جدل کے ماہر نہ تھے اور فوجی دستے کے جنگ آزمودہ سپاہیوں کا قتل عام کرتے چلے گیے لوگ بھیڑ بکریوں کی طرح چیختے اور قتل ہوتے رہے مگرحسین پر کون تلوار اٹھاتا ؟.اب عمر بن سعد کیا کرتے انہوں نے انتہائی صبر سے کام لیا اور 50 کے قریب سپاہی کٹوانے کے بعد انہیں دفاع میں تلوار اٹھانے کا حکم صادر کرنا پڑا اور پھر بھی حکم دیا کہ حسین کی حرمت کا خیال رکھا جاۓ ان پر کوئی تلوار نہ اٹھے .اور تلوار اٹھانے کا جب حکم ملا تو کس نے دیکھنا تھا کہ کوئی کوفی سامنے ہے یا مسلم بن عقیل کا کوئی بھائی یا خود حسین کی ذات . اس بھگ دوڑ کی جنگ میں کس کی تلوارر کس کو لگی کس کے خنجر سے کون مرا سب داستانیں ہیں اور تقریبا آدھے گھنٹے میں یہ سارا کھیل ختم ہو گیا .
یہ منظر کس قدر درد ناک تھا کہ مصالحت کو آئینی شکل دینے کی کوشش یکایک جنگ و جدل میں بدل گئی .حضرت حسین اور ان کے عزیزوں کی قیمتی جانوں کا یوں چلا جانا آج بھی ہمارے دلوں میں اور تصورات میں غم اور حزن و ملال کے تاثرات پیدا کر دیتا ہے چہ جائیکہ جس نے یہ منظر اپنی آنکھوں سے دیکھا ہو .
عمر بن سعد کو قاتل حسین کہتے ہیں لیکن ابو محنف نے ہی اپنی روایت میں گویا حق بر زبان جاری یہ بھی فرمایا کہ حضرت حسین کے قتل ہونے پر ابن سعد رنج و غم سے بے حال ہو گیے داڑھی آنسوؤں سے تر بتر ہو گئی اس روایت میں یہ فقرہ ہے
راوی نے کہا میں نے عمر بن سعد کے آنسوؤں کو دیکھا کہ رونے سے آنسو رخساروں اور داڑھی پر بہنے لگے تھے . صفہ 269 جلد 6 طبری.
اس قدر دکھ اور صدمہ ابن سعد کو کیوں نہ ہوتا کہ حضرت حسین رشتے میں ان کے بھی نواسے لگتے تھے اور انہوں نے امت کے مفاد کی خاطر کہ خون خرابہ نہ ہونے پاے مگر سبائیوں کی شر پسندی کے کی وجہ سے ان کی تمام کوششیں ناکام ہو گئیں لیکن تلوار چل جانے پر بھی اپنے سپاہیوں کو مدافعت کے پہلو پر قائم رہنے کو کہا.اس کا ثبوت خود ان ہی راویوں کے بیان سے ملتا ہے جہاں انہوں نے دونوں طرف کے مقتولین کی تعداد بیان کی ہے کہ حسینی قافلے کہ 72 قتل ہوے اور ان میں اکثر و بیشتر جنگجو نہ تھے اور فوجی دستہ کے جنگ آزمودہ سپاہی 88 مارے گیے .گویا 16 آدمی زیادہ کٹوانے کے بعد بھی وہ حضرت حسین کی جان نہ بچا سکے اور پھوٹ پھوٹ کر رونے لگے.
پھر انہوں نے حضرت حسین کے اہل خاندان کو ان کی بیبیوں کو ان کی کنیزوں اور دوسری ہاشمی خواتین کو عزت اور حرمت کے ساتھ پردہ دار محملوں والے اونٹوں پر سوار کرا کے روانہ کیا .قدیم ترین مورخ (صاحب اخبار الطوال ) لکھتے ہیں کہ
اور عمر بن سعد نے حکم دیا کہ حسین کی بیبیوں ، بہنوں اور کنینوں کو اور خاندان کی دیگر خواتین کو پردہ دار محملوں میں اونٹوں پر سوار کرا کے لے جایا جاۓ .
صفہ 270 سطر نمبر 11 اخبار الطوال .
ولندیزی محقق دے خوے نے صحیح کہا ہے کہ جب اس حادثہ نے افسانے اور داستان کی شکل اختیار کر لی تو ابن سعد کو بھی قاتل کہا جانے لگا اسی غرض سے یہ چند امور پیش کے گیے کہ یہ راوی قتل حسین پر ان کا دکھ کیسے بیان کرتے ہیں کہ زار و قطار رونے لگے کہ داڑھی آنسوؤں سے تر ہو گئی اور خواتین اور پس مندگان کو عزت اور حرمت کے ساتھ کس طرح سوار کرا کے بھیجا اور دوسری طرف کیسے وحشیانہ مظالم کا تقشہ کھنچتے ہیں، لیکن اگر ان منازل اور مسافت اور روانگی کی صحیح تاریخ اور مکہ سے کربلا کا فاصلہ اور محل وقوع وغیرہ کے بارے میں مستند حوالہ جات کتب جغرافیہ و بلدان میں سے جو پیش کیے گیے ہیں ان کو سامنے رکھا جاۓ تو یہ سب من گھڑت روایات اور اختراعی اور مبالغہ آمیز قصوں کا پول آپ ہی آپ کھل جاتا ہے اور عمر بن سعد کا کردار ویسا ہی بے داغ ثابت ہوتا ہے . 
پچھلی پوسٹوں میں یہ چارٹ یعنی مکہ سے کربلا کا فاصلہ ، منازل اور مراحل ان کے نام اور کیفیت کے ساتھ پوسٹ کیا جا چکا ہے اور اسے بہت سے لوگوں نے شیئر بھی کیا ہے۔


 



٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

 

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔